24 مئی 2015 - 20:06
پاکستان؛ میلاد سید الشہدا(ع) کے حوالے سے انصار الحسین کا تیسرا سالانہ اجتماع

انصار الحسین پاکستان کا امام حسین علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے اپنے مرکزی دفتر میں ایک پر رونق پروگرام کا انعقاد کیا گیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انصار الحسین پاکستان کا امام حسین علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے اپنے مرکزی دفتر میں ایک پر رونق پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں عوام و خواص کے علاوہ لوکل اور ھنگو و کوہاٹ کے علماء، زعماء اور دانشوران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جبکہ علامہ سید عابد حسین الحسینی نے بطور مہمان خصوصی اس پروگرام میں شرکت کرنے کے علاوہ خطاب بھی کیا۔
اس موقع پر علاقے کے تمام چھوٹی بڑی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی، مرکزی انجمن حسینیہ پاراچنار کے سیکرٹری گل اکبر سمیت انجمن کے دیگر اراکین، تحریک حسینی کے اراکین اور مجلس علمائے اہلبیتؑ پاراچنار کے اراکین کے علاوہ، شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز، لیکچرارز، اساتذہ، دانشور اور دیگر عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے علامہ سید عابد حسین الحسینی نے خصوصی خطاب کیا جبکہ سیکرٹری انجمن حسینیہ پاراچنار جناب گل اکبر صاحب، علی زئی کے پیش نماز مولانا صداقت حسین، مولانا سید معین حسین، سر زاہد حسین طوری اور صدر انصار الحسین پاراچنار ماسٹر منصب علی صاحب نے خطاب کیا۔ پروگرام میں ذاکرین و بچوں نے خصوصی طور پر ترانے و منقبت بھی پیش کیے۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا جبکہ ابتدائیہ انصار الحسین پاراچنار کے جنرل سیکرٹری سید حسن علی صاحب نے پیش کیا۔ انہوں نے قول رسول اللہ پیش کیا کہ شعبان میرا اور رمضان خدا کا مہینہ ہے۔ اسکے بعد انہوں نے روز مسعود ولادت امام حسینؑ، ولادت حضرت عباس علمدارؑ اور ولادت حضرت امام زین العابدین ؑ کے مبارکباد تمام شرکاء کو پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین نے اپنے خون کا اخری قطرہ اسلام کی سربلندی اور شادابی کیلئے بہایا۔ اور حضرت امام زین العابدینؑ نے اس شادابی کو برقرار رکھنے کیلئے تمام مشکلات برداشت کئے۔ انہوں نے یمن پر خائنان اسلام آل سعود کی ظلم و بربریت کی شدید مذمت کی۔
علی زئی کے پیش نماز مولانا صداقت حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہ شعبان اہل بییتؑ کے لیے خوشحالی اور مسرت کا مہینہ اور ماہ محرم اہل بیتؑ کے لیے غم کا مہینہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کو ناصر دین اور حامل دین بننا چاہیے، نہ کہ حامی دین۔ نعرہ امام خواہش امام اور مقصد امام ناصر امام اور ناصر دین ہے، ہمیں منصور نہیں ناصر بننا چاہیے۔
تقریب کے مہمان خصوصی علامہ سید عابد حسین الحسینی نے خطاب کرکے فرمایا کہ ہمارے مجالس فقط صرف رسمی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ انہیں اہل بیت کے فرامین پر عمل اور بیداری کا ذریعہ ہونا چاہیے، ورنہ مقصد فوت ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمانے کے حالات کا جائزہ لینا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ داعش کا جو سلسلہ ہے ان کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہر مسئلے اسلامی حیثیت دیکھیں نہ کہ پاکستانی یا ایرانی حیثیت سے۔ انہوں نے روزنامہ نئی بات میں رہبر معظم کی شان میں ہونے والی گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲