اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرافراز، جنگ میں معذور ہونے والے سرکاری ریڈیو ٹیلی ویژن کے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہفتے کو منعقد ہونے والے ایک بڑے احتماع سے خطاب کر رہے تھے- انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری اور پیغام رسانی، علاقائی اور عالمی حساسیت اور ذرائع ابلاغ کی پالیسیوں میں اضافے کے پیش نظر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ذرائع ابلاغ کی تجزیاتی نظر کو روز افزوں فروغ حاصل ہونا چاہئے کیونکہ علاقے میں ایک پراکسی وار جنم لے رہی ہے۔ ڈاکٹر سرافراز نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں ڈبلیو، ٹی، او، کی جڑواں عمارتوں پر ہونے والے مشکوک حملوں، جنگ افغانستان اور القاعدہ کی جانب سے کئے جانے والے حملوں کے بارے میں کہا یہ حملے افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام پر منتج ہوئے اور یہی کام ایک طرح سے عراق میں بھی ہوا۔ آئی آر آئی بی کے سربراہ محمد سرافراز نے علاقائی حالات و واقعات کا صحافتی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سی این این، بی بی سی اور الجزیرہ جیسے ذرائع ابلاغ نے صیہونیوں اور غاصبوں کی حمایت میں عمل کیا لہذا ان حالات میں آئی آر آئی بی پر رائے عامہ کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے ایک نئی راہ بنانے کی ذمہ داری عائد ہوئی اور اس وقت العالم ٹی وی چینل میدان میں آیا- انہوں نے امریکا کی شکست اور اسلامی بیداری کے قیام پر مبنی علاقے میں تیزی کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن، اسلامی بیداری کو خانہ جنگی میں تبدیل اور تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں- انہوں نے یمن کے حالات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بحران یمن کا اہم واقعہ یہ ہے کہ سعودی عرب، براہ راست میدان جنگ میں کود پڑا نیز علاقے میں اس سے قبل کی ہونے والی جنگوں کے دوران سعودی عرب اور ترکی کے ماضی کے متضاد روئیے آشکار ہوگئے ہیں۔ ڈاکر سرافراز نے مزید کہا کہ اب جنگ یمن میں پہلے سے زیادہ واضع ہوگیا ہے کہ تکفیریوں کی بھرپور حمایت کی جارہی ہے اور سی این این اور الجزیرہ جیسے ذرائع ابلاغ بھی ایک ساتھ ہوگئے ہیں جو کسی بھی طرح کی اطلاع رسانی نہیں کر رہے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲