18 مئی 2015 - 17:27
 نائجیریا کے انتہا پسند مسلمان ایران کے شیعوں کو مسلمان نہیں سمجھتے!

نائجیریا کے حافظ کل نے ان مقابلوں میں ایران کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا: میں جب سے ایران میں آیا ہوں ایران کو اپنے تصور کے برخلاف دیکھ رہا ہوں ایران کی نسبت میرا تصور بہت غلط تھا لیکن حقیقت میں ایرانی مسلمانوں نے میرے ساتھ بہت اچھا برتاو کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران میں قرآن کریم کے عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والے نائجیریا کے حافظ کل نے ان مقابلوں میں ایران کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا: میں جب سے ایران میں آیا ہوں ایران کو اپنے تصور کے برخلاف دیکھ رہا ہوں ایران کی نسبت میرا تصور بہت غلط تھا لیکن حقیقت میں ایرانی مسلمانوں نے میرے ساتھ بہت اچھا برتاو کیا ہے۔
مختار محمد برنومہ محمود نے کہا: میں دیگر ممالک میں بھی قرآنی مقابلوں میں شرکت کرتا رہا ہوں ۲۰۰۷ میں ملیشیا میں اور ۲۰۰۹ میں سعودی عرب میں قرآنی مقابلوں میں حصہ لیا اور وہاں پر میں نے تیسرا مقام حاصل کیا۔
انہوں نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو میں کہا: ایران میں قرآن کریم کے مقابلوں کی سطح دوسری جگہوں کے مقابلے میں بہت اچھی ہے، مگر ہر جگہ کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں لیکن ایرانیوں کی مہمان نوازی نے میری نگاہ کو ایران کی نسبت بدل دیا ہے۔
مالکی مذہب کے پیروکار نائجیریا کے اس حافظ نے علاقے میں پائے جانے والے شدت پسند ٹولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام مالک کہتے ہیں کہ جو چیز گزشتہ امتوں کی ہدایت کا باعث بنی وہ تمہاری ہدایت کا بھی باعث بن سکتی ہے امت مسلمہ اس وقت امن و امان کی سانس لے سکتی جب قرآن کی تعلیمات پر عمل کرے۔
انہوں نے دوبارہ ایران کے شیعوں کی نسبت اپنے نظریے میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلام کے دشمن اپنے مفاد کی خاطر کبھی بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر راضی نہیں ہوتے اسی وجہ سے ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غلط پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں۔
نائجیریا کے اس قاری نے کہا: مجھے اپنے ملک میں باور کروایا گیا تھا کہ ایران کے شیعہ مسلمان نہیں ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی رابطہ نہیں ہے لیکن میں نے جب یہ سنا کہ ایران میں قرآن کے عالمی مقابلوں کا انعقاد ہو رہا ہے تو پہلے میں نے تعجب کیا اس کے بعد سوچا اگر ایران ان مقابلوں پر اتنا پیسہ خرچ کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اسلامی ملک ہے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا اس کے نزدیک اہم اور ضروری امر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲