18 مئی 2015 - 13:07
آل خلیفہ کی جیلوں میں قیدی علماء کے ساتھ قم میں اظہار ہمدردی

حرین میں آل خلیفہ کی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گرفتار اٹھارہ علماء کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے لئے قم میں گزشتہ شب ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین میں آل خلیفہ کی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گرفتار اٹھارہ علماء کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے لئے قم میں گزشتہ شب ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
یہ کانفرنس جو قم میں مقیم بحرینیوں کے حسینیہ امام رضا (ع) میں منعقد ہوئی اس میں بحرین کی العمل الاسلامی جمعیت کے نائب سکریٹری جنرل حجۃ الاسلام شیخ عبد اللہ الصالح، جامعۃ المدرسین کے رکن آیت اللہ کعبی اور ابنا کے چیف ایڈیٹر حجۃ الاسلام و المسلمین حسینی عارف نے تقاریر کیں جبکہ اس پروگرام کے آخر میں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے نمائندے حجۃ الاسلام ڈاکٹر عبد اللہ الدقاق نے بھی گفتگو کی۔



شیخ عبد اللہ الصالح: بحرین میں علماء کو مجموعی طور پر ۴۰۰ سال جیل کی سزا دی گئی ہے
بحرین کی العمل الاسلامی جمعیت کے نائب سکریٹری جنرل نے بحرین کی جیلوں میں قیدی علماء کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا: دسیوں بحرینی عالم دین جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے طولانی مدت سے گرفتار ہیں جبکہ ان میں سے بعض کی شہریت کو بھی چھین لیا گیا ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ عبد اللہ الصالح نے مزید کہا: بحرین ایسا ملک ہے جس میں اکثر علماء جیلوں میں بند ہیں بحرینی رژیم نے تحریک انقلاب کے آغاز سے اب تک تقریبا ۷۰ علماء کو جیلوں میں بند کیا جن میں سے ۱۸ علماء ابھی بھی قیدی ہیں کہ مجموعی طور پر انہیں ۴۰۰ سال قید کی سزا دی گئی ہے!
انہوں نے کہا: کہیں بھی دنیا میں اتنی تعداد میں علماء کو جیل میں نہیں رکھا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء سماج کے رہبر ہیں سماج کی عزت کا معیار ہیں اور طاغوت کے مقابلے میں لوگوں کا دفاع کرتے ہیں لہذا حکومت کو ان سے دشمنی ہو جاتی ہے۔
آیت اللہ کعبی: بحرین کے قیدی علما، عالم اسلام کا افتخار ہیں
حوزہ علمیہ قم کے جامعۃ المدرسین کے رکن نے اس کانفرنس میں کہا کہ بحرین کے قیدی علماء نہ صرف عالم تشیع بلکہ عالم اسلام کا افتخار ہیں۔
آیت اللہ عباس کعبی نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس وقت شیعہ سنی سب کو آپس میں قریب کرنے اور استکباری طاقتوں کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوزہ علمیہ قم بحرین کے قیدی علماء کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے اور عالمی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان کی رہائی کے لئے ٹھوس اقدام کرے۔
حجۃ الاسلام حسینی عارف: عربی انقلابوں اور بحرین کے انقلاب میں پانچ فرق ہیں
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے اپنی گفتگو کے دوران بحرین کے عوام اور علماء پر جاری پانچ سال سے مظالم کے تئیں دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بحرینی انقلاب اور دیگری عربی ملکوں کے انقلابوں کے درمیان پانچ بنیادی فرق گنوائے۔
حجۃ الاسلام سید علیرضا حسینی عارف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بحرینی انقلاب اور دیگر انقلابوں میں فرق یہ ہے کہ بحرینی انقلاب پرامن طریقے سے جاری ہے، اس میں بیرونی فوج کی مداخلت انقلابیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، مغربی حکمران دیگر انقلابوں کی طرح اس کی حمایت نہیں کر رہے ہیں، میڈیا بحرین کو سنسر کر رہا ہے جبکہ اس انقلاب کی اہم خاصیت یہ ہے کہ اس میں دینی رہبریت موجود ہے جو تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں نہیں تھی۔
انہوں نے آخر میں بحرینی عوام کی حمایت میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی ایک فہرست بیان کرنے کے بعد کہا کہ ہم یہاں پر عہد کرتے ہیں کہ اس ملک کے مظلوم عوام کا ہمیشہ ساتھ دیں گے۔
حجۃ الاسلام الدقاق: انقلاب بغیر خمینی کے کامیاب نہیں ہو سکتا
اس پروگرام کے آخر میں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے نمائندے نے تقریر کی جس میں انہوں نے انقلاب میں دینی رہبریت کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے تحریک انقلاب کے ابتدائی ایام میں جمعہ کے ایک خطبے کے دوران کہا تھا: ممکن ہے کہ انقلاب خمینی کے بغیر شروع ہو جائے لیکن خمینی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا اور کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
واضح رہے کہ بحرین میں آل خلیفہ کی جیلوں میں ۱۸ علماء صرف اس جرم میں قید ہیں کہ وہ اس ملک کے مظلوم عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲