اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے اسٹریٹیجک علاقے قلمون میں، جو تکفیری دہشت گرد گروہ جبھۃ النصرہ کا گڑھ تھا، حزب اللہ لبنان کے جیالوں اور شامی فوج نے ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی مشترکہ کارروائی کے ذریعے اس علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے۔ شامی فوج کی کمان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ قلمون کے علاقے میں دہشت گرد گروہ جبھۃ النصرہ کو سنگین شکست دی گئی ہے۔ شام کے سیکورٹی عہدیداروں کے مطابق جمعرات کی صبح اور رات کو قلمون کے علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھ حزب اللہ اور شامی فوج کی شدید لڑائی میں جبھۃ النصرہ کے چار اہم کمانڈروں سمیت درجنوں دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ اس کارروائی میں ان کے متعدد ہتھیاروں کے گودام، بم بنانے کے کارخانے، مشین گنوں اور توپوں سے لیس دسیوں گاڑیاں اور کار بم دھماکوں کے لئے چوری کی ہوئی متعدد گاڑیاں حزب اللہ اور شامی فوج کے ہاتھ لگی ہیں۔ قلمون میں تکفیری دہشت گردوں کو سنگین شکست دیئے جانے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد علاقے میں جبھۃ النصرہ کے سرغنہ "ابومالک التلی" نے اس گروہ کے بعض کمانڈروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے بعض دیگر کو ان کی جگہ مقرر کیا ہے تاکہ شاید دہشت گردوں کے پست حوصلے کو بڑھایا جا سکے۔ شام کے سرحدی علاقے قلمون اور لبنان کے سرحدی علاقے عرسال اور راس بعلبلک میں گذشتہ سال موسم گرما میں دہشت گردوں کی در اندازی اور لبنان کے دسیوں عام شہریوں اور فوجیوں کو قتل اور زخمی کرنے اور ان کو اغوا کرنے کی کارروائیوں کے بعد، حزب اللہ اور لبنان کی انٹیلیجنس نے تکفیری دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے سیکورٹی کے خاص منصوبے تیار کئے جس کے سبب لبنان میں بہت حد تک امن کی فضا قائم ہوئی ہے لیکن قلمون میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف حزب اللہ لبنان اور شامی فوج کی کارروائیوں کو علاقے میں دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے سنگ میل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی بنا پر توقع کی جا رہی ہے کہ شام میں قلمون کے علاقے اور لبنان میں عرسال اور بعلبک کی سرحدی چوٹیوں کے نزدیک نمایاں حد تک امن و امان قائم ہو گا اور دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی آمد و رفت میں کسی حد تک کمی آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲