اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شفقنا ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے معزول ولیعہد مقرن بن عبدالعزیز نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ یمن پر سعودی حملے کے مخالف تھے۔ انہوں نے سعودی عوام سے اپیل کی کہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے بیٹے اور وزیر دفاع محمد بن سلمان کے ہٹ دھرمی پر مبنی اقدامات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں۔ مقرن بن عبدالعزیز نے اس بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے سلمان بن عبدالعزیز کو ایک خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ یمن پر حملہ ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے لئے منفی نتائج کا حامل ہوگا، لیکن سعودی شاہ کہ جنہوں نے ملک کا فوجی نظام محمد بن سلمان کو سونپ دیا ہے، اس انتباہ پر کوئی توجہ نہیں دی۔ سعودی عرب کے معزول ولیعہد نے اس بیان میں دوست ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب کی کارروائیوں کی روک تھام کریں اور عقل و منطق کے ساتھ فیصلہ کریں نیز درپیش صورتحال کا پرامن حل نکالیں اور ایسے اقدامات عمل میں لائیں کہ جن سے سعودی عرب اور یمن کا حق حاکمیت اور ان ممالک کا امن و اقتدار، محفوظ رہے۔ مقرن بن عبدالعزیز نے اسی طرح تمام ممالک خاص طور پر یمن کے حملوں میں شریک ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن پر اپنے حملے بند کر دیں اور علاقے میں کشیدگی میں کمی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گذشتہ بدھ کو ایک حکمنامہ جاری کرکے ولیعہد مقرن بن عبدالعزیز کو برطرف اور محمد بن نائف کو اپنا ولیعہد مقرر کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲