12 فروری 2025 - 11:39
22 بہمن کو ایرانی عوام کا ملینز مارچ دشمن کی احمقانہ دھمکیوں پر اتحادِ ملت کا رد عمل تھا، امام خامنہ ای + تصویر

اسلامی انقلاب کے رہبر معظم نے آج صبح سائنس دانوں، حکام اور دفاعی صنعت کے ماہرین کی ملاقات میں دفاعی ترقی کے جدت پر مبنی تسلسل پر زور دیا اور اس سال کے 22 بہمن [اس سال، 10 فروری] کی ریلیوں کو ـ دشمن کی ابلاغی بمباری کے سائے میں ـ عظیم قومی اٹھان قرار دیتے ہوئے فرمایا: قوم نے اپنے اتحاد کا بلند آواز سے اظہار کیا اور دشمن کی بار بار دھمکیوں کے مقابلے میں ایرانیوں کی شناخت، کردار، طاقت اور استقامت کو ثابت کرکے دکھایا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حضرت آیت العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) نے اس ملاقات سے قبل، ایک گھنٹے تک دفاعی صنعت کے ماہرین اور سائنسدانوں کی حصولیابیوں کی "نمائش-1403 (2025)" کا معائنہ کیا۔ اس نمائش میں فضائی دفاعی نظامات، بیلسٹک اور کروز میزائلز، ذہین گولہ بارود، ایرواسپیس سے متعلق مصنوعات، فضائی مصنوعات، ڈرون طیارے، بحری دفاعی مصنوعات، اور توانائی سے متعلق مصنوعات اور ترین آلات و وسائل اور ان میں بروئے کار لائی جانے والی جدید ٹیکنالوجیز پیش کی گئی تھیں۔

رہبر انقلاب نے نمائش دیکھنے کے بعد سائنسدانوں، سرکاری عہدیداروں اور دفاعی صنعت کے ماہرین سے سے مخاطب ہوکر حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمانہ (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت کے موقع پر تبریک و تہنیت پیش کی اور فرمایا: نصف شعبان حقیقتا ایک عالمی اور انسانی عید ہے، عدل و انصاف کی بشارت، عالمی سطح پر عدالت کے قیام کی امید اور نجات دہندہ کا ظہور، پوری تاریخ میں بنی نوع انسان کی آرزوئیں ہیں اور یہ آرزوئیں بلا شبہ، بر لائی جائیں گی [اور امام ظہور فرمائیں گے]۔

آپ نے فرمایا: 22 بہمن کا دن ملت ایران کی عظیم اور تاریخی عید ہے اور میں عالمی سطح پر تبدیلیوں کا باعث بننے والی اس عید کے موقع پر سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

رہبر انقلاب نے فرمایا: کہیں بھی اور کبھی بھی دیکھنا میں نہیں آیا کہ لوگ اپنے انقلاب کی چھالیسویں سالگرہ کے موقع پر سڑکوں پر آئیں اور جشن منائیں۔

آپ نے جشن انقلاب کی ریلیوں میں ـ شدید اور ٹھٹھرا دینے والی سردی کے باوجود ـ قوم کے تمام طبقات اور خواتین، مردوں، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی شرکت ایک قومی اور عوامی اٹھان اور تحریک کے مترادف قرار دیا اور فرمایا: اس سال کی تقریبات انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے تاریخی جشن میں اہم ترین اور نمایاں تریں رہیں۔ 

رہبر انقلاب نے 22 بہمن کی ریلیوں سے صدر پزشکیان کے صریح، راہ کُشا اور حوصلہ افزا اور عظیم قومی اٹھان کی تکمیل قرار دیا اور فرمایا: محترم صدر نے عوام کے دل کی بات کہہ دی، اور جو کچھ ضروری تھا، بیان کیا۔

رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) نے نے انقلاب کے مالکوں ـ یعنی "ایرانی قوم" ـ کے خلاف دشمن کی بے دریغ تشہیری بمباری اور 22 بہمن کے ہیرو ـ یعنی امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے خلاف جارحانہ تشہیری مہم اور موذیانہ اور مسلسل نرم جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ایسے حالات میں قوم تمام شہروں اور دیہاتوں میں سڑکوں پر نکل آئی اور بروقت اور موقع شناسانہ موقف کا کا اعلان کیا۔"

آپ نے 22 بہمن کو قومی سطح منعقدہ ریلیوں میں شاداب نوجوانوں کی شرکت کو خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا: میں تہہ دنل سے عزیز نوجوانوں سے دِل بَسْتَہ ہوں اور مجھے امید ہے کہ اللہ کے فضل سے، اس کی رحمت واسعہ اس قوم پر چھائی رہے اور اس دانا اور بہادر کا مستقبل روشن ہو۔

رہبر انقلاب نے متذکرہ بالا نمائش کے بارے میں فرمایا: یہ ایک بہترین اور برترین نمائش ہے، اور میں تمام سائنسدانوں، ماہرین اور دفاعی صنعت کے اعلی اہلکاروں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ملت کو بھی اپنے ان باصلاحیت فرزندوں کی کوششوں کا مشکور ہونا چاہئے۔

آپ نے قوم کے دفاع اور ملکی سلامتی کے تحفظ کو بہت اہم قرار دیا اور فرمایا: ایران کی دفاعی طاقت، آج زَبان زَدِ خاص و عام ہے، انقلاب کے دوست اس پر فخر کرتے ہیں اور دشمن اس سے خائف اور گھبرائے ہوئے ہیں اور یہ حقیقت ایک ملک کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

امام خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) نے فرمایا: کسی زمانے میں عالمی غنڈے ہماری ضرورت کے دفاعی وسائل کئی گنا زیادہ قیمت پر بھی ہمیں فروخت نہيں کرتے تھے، اور آج صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے تمام غنڈے اور جابر لوگ ایران سے کہتے ہیں کہ "اپنی دفاعی مصنوعات فلان ملک کو مت بیچو"؛ اور آُس "تم [ایرانیوں] کو نہیں بیچتے" اور اِس "تم نہ بیچو" میں طویل فاصلہ ہے سائنسدانوں کی کوششوں اور نوجوان تخلیق کار ذہنوں کی برکت سے پُر ہو گیا ہے۔

آپ نے فرمایا: ہماری شاندار دفاعی ترقی ـ وہ بھی دشمن کی مستقل پابندیوں کے باوجود ـ غیر معمولی ہے؛ ایران کی دفاعی صنعت آج کی صورت حال یہ ہے کہ اگر وہ ہمیں کوئی ایک پرزہ ہمیں نہ دیں تو ہمارے نوجوان اس سے بہتر پرزے کو ملک کے اندر تیار کر دیتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے دفاعی صنعت کے فروغ کی ضروریات و لوازمات، اور تسلسل کی ضرورت، پر زور دیتے ہوئے فرمایا: دفاعی صنعت کی ترقی دنیا بھر میں ہماری دفاعی درجہ بندی (Ranking) میں ارتقاء کا باعث بنی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نقطے پر رک جائیں اور اسی سطح پر اکتفا کریں؛ کیونکہ ہم نے یہ کام صفر (0) سے شروع کیا اور وسیع پیمانے پر کوششوں اور عظیم حصولیابیوں کے باوجود، ابھی ہم اس صنعت کے اگلے مورچوں سے دور ہیں۔

آپ نے فرمایا: عسکری ترقی کے اگلے مورچوں تک پہنچنے کی ضرورت قرآنی آیت کریمہ "وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ" [1] پر استوار ہے، یعنی دشمن کے مقابلے کے لئے زیادہ سے زیادہ اور مستقل تیاری اور آمادگی؛ اور بدخواہوں اور دشمنوں کے مقابلے میں ملکی ملکی دفاع کا لازمہ ہے۔ چنانچہ ترقی کا یہ سلسلہ تمام دفاعی اور عسکری شعبوں میں جاری رہنا چاہئے۔ بطور مثال اگر کسی وقت ہم نے اپنے میزائلوں کے ٹھیک نشانے پر لگنے کے لئے ایک خاص حد کا تعین کیا تھا تو آج اس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے کو جاری رہنا چاہئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: جدت پر توجہ مرکوز کرنا اور روایتی طریقہ کار پر نہ رکنا دفاعی صنعت کی ترقی کی دوسری ضروریات میں سے ایک ہے؛ [کیونکہ] تخلیق اور جدت طرازی ایک لا متناہی عمل ہے۔ البتہ جدت طرازی کا مطلب دوسرے کے کاموں کی تعمیر و تکمیل نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے کاموں کی طرف بڑھ جائیں جو ابھی انجام نہیں پائے ہیں، اور عالم فطرت میں ایسے امکانات اور وسائل کو پہچاننا حقیقت بنانا اور استعمال میں لانا چاہئے، جیسا کہ بجلی (Electricity) کی دریافت، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کی دریافت یا ایجاد، جن کی وجہ سے عالم انسانیت پر علوم و فنون کے نئے دروازے کھل گئے۔

رہبر انقلاب نے فرمایا: حقیقی ترقی، جدت طرازی اور نوجوان، مؤمن، انقلابی، عالم و سائنسدان، قابل اور باصلاحیت قوتوں کی خدمات حاصل کرنے پر منحصر ہے؛ ایمان، انسان کو قوت اور صلاحیت عطا کرتا ہے اور اس کو سیدھے راستے پر مستقل طور پر قائم رکھتا ہے، اور انقلابی ہونے کا مطلب بھی یہ ہے انسان عظیم سیاسی اور معاشرتی ارتقاء پر یقین رکھتا ہو وہ ارتقاء جو ملک میں اسلامی انقلاب کی برکت سے معرض وجود میں آیا ہے۔

امام خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) نے فرمایا: یونیورسٹیوں، مسلح افواج کے تحقیقاتی مراکز پر لازم ہے کہ وہ اپنی تحقیق کو ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف پلٹا دیں۔ کچھ جامعات میں اساتذہ کا پورا اہتمام تحریر اور مقالہ نگاری پر مرکوز ہے، اور اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی کہ وہ مقالات ملک کی کس ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور کس مشکل کا ازالہ کرتے ہیں، کم از کم مسلح افواج کی تحقیقاتی مراکز میں اس آفت سے بچ کر رہنا چاہئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخر میں فرمایا: فکری قوت، تخلیقی صلاحیت، جدت طرازی، تحقیق اور تعمیر کی صلاحیت سب کے سب اللہ کی نعمتوں میں سے ہیں جن پر ہم سب کو قلبی، زبانی اور عملی طور پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

[1]۔ "وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ؛ اور مہیا رکھو ان [دشمنوں کا مقابلہ کرنے] کے لئے جو کچھ تم سے ہوسکے افرادی قوت اور گھوڑوں میں سے، مورچوں پر تیار رکھنے کی صورت سے تاکہ تم ان [تیاریوں] کے ذریعے تم خوفزدہ کر دو اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو اور ان دوسرے دشمنوں کو جو ان کے علاوہ ہیں، جنہیں تم نہیں جانتے ہو، [لیکن] اللہ انہیں جانتا ہے"۔۔ (سورہ انفال، آیت 60)