1 فروری 2025 - 11:23
بلوچستان - پاکستان: دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپیں، 12 دہشتگرد ہلاک / 18 فوجی جان بحق / بی ایل کا متضاد دعویٰ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے قلات ڈویژن کے علاقے منگوچر میں سکیورٹی فورسز نے 12 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ مقابلے میں ایف سی کے 18 جوان جان بحق ہوگئے / پاکستانی اخبار جنگ نے ہلاک شدہ دہشت گردوں کی تعداد 23 بتائی ہے / بی ایل دہشت گرد جماعت کا دعویٰ ہے کہ اس نے منگوچر فوجی کیمپ پر شدید حملے کئے ہیں اور بی ایل اے (آزاد) نے اس کیمپ پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق قلات کے علاقے منگوچر میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی حصہ لیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائی دہشتگردوں کے روڈ بلاک کرنےکی کوشش پر کی، کارروائی کے دوران 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ منگوچر آپریشن میں دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے ایف سی کے 18 جوان شہید ہوگئے۔

شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 31 جنوری اور یکم فروری کی رات دہشتگردوں نے روڈ بلاک کرنے کی کوشش کی، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری متحرک ہوئے اور سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ناکام بنایا۔

آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے 12 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، دشمن قوتوں کی ایماء پر دہشتگردی کا مقصد بلوچستان کا پُرامن ماحول خراب کرنا تھا۔ اور اس گھناؤنے بزدلانہ فعل کے مرتکبین اور سہولتکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، قلات کے علاقے منگوچر میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان کا امن سبوتاژکرنےکی کوششیں ناکام بنانےکیلئے پرعزم ہیں، بلوچستان کے استحکام اور ترقی کو سبوتاژکرنےکی کوششیں ناکام بنانےکیلئے  پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

بی ایل کا دعویٰ

منگوچر فوجی کیمپ پر شدید حملے، بی ایل اے (آزاد) نے اس پر کنٹرول کا دعویٰ

بلوچستان کے علاقے قلات میں منگوچر فوجی کیمپ میں شدید لڑائی جاری ہے، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے آدھے سے زیادہ مرکز پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ کی طرف سے جاری کردہ ایک میڈیا بیان میں، گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے قلات میں جاری کارروائی میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور اہم مقاصد حاصل کیے ہیں۔

بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس نے کیمپ سے بھاری ہتھیار قبضے میں لیے ہیں، اور مخالف قوتوں کو کافی جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔

بی ایل اے نے جھڑپوں میں دو بکتر بند گاڑیاں تباہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

بیان میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ دشمن قوتوں نے اپنے زمینی دستوں کی مدد کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹر تعینات کیے ہیں۔ تاہم، بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس کے جنگجو ان طیاروں کو راکٹوں اور دیگر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے فعال طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔

بی ایل اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے جنگجو قلات کی اہم شاہراہوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔

سورس: english.zrumbesh[.]com/2258

ادھر زرمبش کے اردو پیج میں ذیل کی رپورٹ درج ہوئی ہے جس میں مختلف قسم کے دعوے کئے گئے ہیں:

- قلات کے مختلف علاقوں میں مسلح کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، بی ایل اے کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک درجنوں اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

- قلات کے علاقے خزینہ سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شاہرہ پر سرمچاروں کی جانب سے چیکنگ کے دوران سرمچاروں کا ایف سی کے اہلکاروں کے ساتھ مقابلہ ہؤا اور ایف سی کے درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

- خزینہ کے علاقے میں سرمچاروں کی جانب سے لگائے گئے ناکے کے قریب ایک ویگن گاڑی پہنچی جس میں 19 افراد سوار تھے۔ ناکے کے قریب پہنچتے ہی ویگن کے اندر سے کم از کم دس افراد جوکہ مسلح تھے، نے فائر کھول دی ۔ جوابی کاروائی میں ویگن کے اندر سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے، ویگن میں سوار تمام افراد ایف سی کے حاضر سروس اہلکار تھے۔

- قلات کے مختلف علاقے بشمول منگچر، خزینہ، جوہان، کوہک، شیخاڑی جمعہ کی شام سے اس وقت تک سرمچاروں کی کاروائیوں کے زد میں ہیں۔

- بی ایل کے ترجمان آزاد بلوچ کے مطابق جنگ ابھی جاری ہے۔

= دوسری جانب منگچر بازار میں واقع بینک الحبیب  کو نذر آتش اور مکمل طور تباہ کردیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110