28 جنوری 2025 - 13:44
سفارتکارانہ مسکراہٹوں کی آڑ میں چھپی ہوئی دشمنیوں سے ہوشیار رہنا چاہئے / مقاومت بعثت کا جلوہ ہے، امام خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے آج یوم بعثت کے موقع پر سرکاری حکام، اسلامی ممالک کے نمائندوں اور عوام کے مختلف طبقات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہمیں جان لینا چاہئے کہ کس کے ساتھ بیٹھ کر بات کر رہے ہیں، ہمیں کس کا سامنا ہے، اور کس کے ساتھ لین دین کر رہے ہیں۔ / ارشاد ربانی ہے: "وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ"؛ جو بھی چیز آپ کو مشکل سے دوچار کرے، آپ کے دشمن، کفار، اور وہ لوگ جو شیطان کے پیروکار ہیں، اور شیطانی عمل کرتے ہیں، وہ اس چیز کو پسند کرتے ہیں / آج کے زمانے میں مقاومت (Resistance) بعثت کا ایک رَشْحَہ (اور رِساؤ) ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت کی سالگرہ کے موقع پر آج صبح انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں، بعض سرکاری حکام اور اسلامی ممالک کے سفیروں نیز عوام کے مختلف طبقات نے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (مد ظلہ العالی) سے ملاقات کی۔

- رہبر انقلاب اسلامی نے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: بعثت نبوی ایک دائمی ابدی دھارا ہے اور انسانی معاشروں ـ خاص کر مسلمانوں ـ کے ادراکی ارتقاء کے لئے اس کا اہم ترین سبق یہ ہے کہ "عقل اور ایمان" کو بروئے کار لائیں۔ موجودہ دور میں مقاومت کا دھارا، جو اسلامی انقلاب کی کامیابی سے شروع ہؤا، بعثت ہی کا ایک جلوہ ہے جو عقل و ایمان کو بروئے کار لا کر مسلم اور حتیٰ غیر مسلم اقوام کی بیداری کا سبب بن گیا ہے اور غزہ اور لبنان کے مقابلے میں صہیونی ریاست کا گھٹنے ٹیکنا، مقاومت [و مزاحمت] ہی کا ثمرہ ہے۔

امام خامنہ ای (مد ظلہ العالی) نے عید مبعث کے موقع پر ملت ایران، امت مسلمہ اور تمامتر احرار عالم اور آزادی خواہوں کو تبریک وتہنیت پیش کی اور فرمایا:

- یہ عید اس سال [ہجری شمسی سال کے] ماہ بہمن ـ یعنی اسلامی انقلاب کی کامیابی ـ کے موقع پر آئی ہے، اور اسلامی انقلاب نے بعثت ہی سے جنم لیا ہے۔ بعثت انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور پر عظمت ترین واقعہ ہے۔ کیونکہ اس نے ایک عظیم فکری اور ادراکی تبدیلی پیدا کی اور ایک عظیم نمو و ارتقاء کو، اس دور کے لوگوں اور اس کے بعد کے لوگوں میں ممکن بنایا۔

- انسانی معاشروں میں تبدیلی اور نشوونما پیدا کرنے کے لئے انبیا (علیہم السلام) نے "عقل اور ایمان" کے دو عناصر کو بطور وسیلہ استعمال کیا؛ وہ انسانوں کے اندر موجود عقل و ایمان کو بیدار کیا، اور انسان کو ترقی اور نشوونما کا راستہ، اور صراط مستقیم، تلاش کرنے میں مدد بہم پہنچاتے ہیں اور یہ جو قرآن تفکّر، تعقّل اور تدبّر پر مسلسل تاکید کرتا ہے، اس کا سبب یہی ہے۔

- ایمان اور اس کا بنیادی ستون ـ یعنی توحید ـ اسلامی تصورِ آفاق (Worldview ) کا ڈھانچہ (اور Framework) اور اسلامی معاشرے کے قیام کا ستون ہے۔ بعثت ایک ناگہانی اور عارضی واقعہ نہیں ہے اور ایک دن تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جاری اور دائمی ابدی عمل ہے، اور اگر عقل و ایمان سے کام لیا جائے تو، اس کی برکتوں اور اس اسباق سے مختلف ادوار اور زمانوں میں ـ فکری اور عملی نشو و نما ـ نیز مسائل و مشکلات کی اصلاح کی راہ میں فیض اٹھایا جا سکتا ہے۔

- تمام مسلم حکومتوں اور قوموں کے لئے بعثت کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ "عزت اللہ کے لئے مخصوص ہے"، اور یہ کہ اگر اللہ کی اس عزت سے فیض حاصل کیا جائے کہ تو کوئی بھی دشمن اور اجنبی عنصر کسی بھی روحانی اور جسمانی میدان میں منفی اثرات مرتب کرنے پر قادر نہیں ہو سکے گا۔  

- سب پر ـ بالخصوص ایران کے عظیم اسلامی ملک کے حکام پر لازم ہے کہ آج کی دنیا کے واقعات کو عقلی نقطہ  نظر سے دیکھیں۔ استعمار انسانی معاشروں کو لوٹنے کے لئے کوشاں ہے، اور استعمار کی تاریخ گواہ ہے کہ استعماری طاقتیں اقوام کو تین مراحل میں اپنی یلغار کا نشانہ بناتی ہیں: "قدرتی وسائل کو غارت کرنا"، "ثقافتی غارتگری اور مستند اور معتبر ثقافتوں کی تباہی"، "قومی اور دینی تشخص کو غارت کرنا اور زیر تسلط لانا"، اور اج بھی دنیا کی طاقتور اور شیطانی مشینریاں اقوام عالم پر یہ تینوں استعماری مراحل مسلط کرنے میں مصروف ہیں۔

- امریکہ دنیا کی استکباری اور استعماری قوتوں میں سرفہرست ہے جو خود مالی لحاظ سے دنیا کے طاقتور افراد کے قبضے میں ہے؛ بڑے مالیاتی ادارے ہر روز، ہر طریقے سے، اقوام عالم کا تشخص اور مصلحتیں و مفادات کی تبدیلی اور اپنا نوآبادیاتی اثر و رسوخ بڑھانے اور اقوام کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں۔

رہبر انقلاب کے خطاب کا آخری حصہ (مکمل متن کا ترجمہ)

اس حوالے سے دشمن کی قرآنی توصیف بہت واضح ہے؛ ارشاد ہوتا ہے: "وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ"؛ جو بھی چیز آپ کو مشکل سے دوچار کرے، آپ کے دشمن، کفار، اور وہ لوگ جو شیطان کے پیروکار ہیں، اور شیطانی عمل کرتے ہیں، وہ اس چیز کو پسند کرتے ہیں، "قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ" [1] دشمنی ان کی زبانوں پر بھی آشکار ہے؛ بات بھی کرتے ہیں، تقریر بھی کرتے ہیں اپنی دشمنی کا اظہار بھی کرتے ہیں، اقدام بھی کرتے ہیں، اپنی دشمنی کو عیاں کرتے ہیں، لیکن جو [دشمنی] ان کے دلوں کے اندر ہے وہ اس سے کہیں بڑی ہے۔ ان کی یہ دشمنیاں کبھی بعض مسائل و معاملات میں آشکار ہو جاتی ہے؛ یعنی بعض جگہوں پر وہی خبیث خفیہ ضمیر اپنے آپ کو عیاں کر دیتے ہیں؛ مثال کے طور پر غزہ میں ہزاروں بچوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاتے ہيں اور امریکی کانگریس کے نمائندے اٹھ کر ان کے قاتل کے لئے تالیاں بجاتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہی! یہ وہی "وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ" (اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے رکھتے ہیں، وہ کہیں بڑا ہے)۔ جو یہاں ظاہر ہوجاتا ہے۔ کئی ہزار بچوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور پھر یہاں آکر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یا پھر امریکی ونسنس جنگی بحری جہاز کا کپتال تقریبا 300 مسافروں کے حامل مسافر طیارے کو مار گرائے اور تمام مسافروں کو ہلاک کر دے اور پھر اس کو تمغہ دے دیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ (17) یہ "وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ" آشکار ہوجاتا ہے، یہ سب ہمیشہ سفارتکارانہ مسکراہٹوں کی پشت پر چھپا رہتا ہے؛ سفارتکارانہ مسکراہٹوں کے پیچھے، اس طرح کی دشمنیاں، کینہ اور بغض، یہ خبیث باطن، چھپا ہؤا ہے۔ ہمیں اپنی آنکھوں کو کھولنا چاہئے۔  "(اَللَّهُمَّ أ۔۔۔ وَأَعْطِنِي ۔۔۔) وَفَهْماً فِي خَلْقِكَ [2]". اپنی آنکھیں کھولنا ضروری ہے، تاکہ ان میں سے نہ ہوں جن کے بارے میں ارشاد ہے کہ "تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ" [3] (تم خفیہ طور پر ان سے محبت کی پینگ بڑھاتے ہو)۔ محتاط رہنا چاہئے کہ ہمیں کس کا سامنا ہے کہ ہمیں کس کا سامنا ہے، کس کے ساتھ لین دین کر رہے ہیں، اور سے بات کر رہے ہیں؛ ان مسائل کو جاننا چاہئے۔ انسان جب اپنے مقابل فریق کو پہچانتا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ لین دین بھی کرے، لیکن وہ جانتا ہے کہ کیا کر رہا ہے۔ ہمیں پہچاننا چاہئے، جاننا چاہئے۔

مقاومت بعثت کا تسلسل

میرے خیال میں ہمارے اس زمانے میں مقاومت (Resistance) کا یہ دھارا، مقاومت کی یہ فعالیت، بعثت کا ایک رَشْحَہ (اور رِساؤ) ہے۔ مقاومت و مزاحمت نے ـ جو کے اسلامی ایران سے شروع ہوئی ـ مسلمان اقوام کو بیدار کر دیا؛ کچھ اقوام کو یہ میدان میں لے آئی؛ اس نے مسلمان اقوام کو بالعموم بیدار کر دیا، بہت سے غیر مسلموں کے ضمیروں کو بھی جگا دیا۔ تسلط پسند نظام کی پہچان ہوئی، اس کو [دنیا والوں سے] متعارف کرایا گیا۔ بہت سی اقوام تسلط پسند نظام کو نہیں پہچانتی تھیں۔

غزہ کو دیکھئے:

آپ غزہ کو دیکھئے! غزہ جو ایک محدود اور چھوٹا سال علاقہ ہے، کیل کانٹے سے لیس صہیونی ریاست، جسے مکمل امریکی پشت پناہی حاصل ہے، کو غزہ نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا! کیا یہ ایک مذاق ہے؟ یہ وہی رَشْحَہ ہے بعثت کا؛ یہ وہی ایمان اور عقل ہے؛ یہ وہی آیات قرآن کی تلاوت ہے، یہ اللہ سے لگاؤ ہے' یہ وہی " إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا" [4] پر ایمان و اعتقاد ہے۔ سربلند حزب اللہ کو سید حسن نصر اللہ جتنی عظیم شخصیت [کے فقدان] کے عظیم نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ ایک مذاق نہیں ہے۔ ہمارے پاس شہید بزرگوار سید حسن نصراللہ (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی سطح کی کتنی عظیم شخصیات ہیں؟ اتنی عظیم شخصیت حزب اللہ میں سے رخصت ہوگئی؛ دشمن اور دوست سمجھتے تھے کا حزب اللہ کا کام تمام ہو چکا ہے؛ [مگر] حزب اللہ نے ابت کرکے دکھایا کہ نہ صرف اس کا کام تمام نہیں ہؤا ہے، بلکہ بعض مسائل میں اس کے عزم و ہمت میں اضافہ بھی ہؤا ہے اور وہ صہیونیوں کے مد مقابل کھڑے ہونے میں کامیابی رہی۔ یہ وہی رشحہ ہے بعثت کا۔ یہ سب مسلمانوں کے لئے تھا۔

غیر مسلموں کے ضمیروں کی بیداری

غیر مسلموں کے ہاں ضمیر ہل گئے۔ جو اعداد و شمار مجھے فراہم کئے گئے، [ان کے مطابق] صہیونیت کے خلاف 30000 مظاہرے، صہیونی ریاست کے خلاف 30000 مظاہرے دنیا کے 619 شہروں ميں، اس عرصے میں بپا ہوئے! لوگ جاگ گئے، ضمیر بیدار ہوئے؛ یہ مقاومت ہے، یہ مقاومت بعثت کا ایک رشحہ اور ایک قطرہ ہے۔ خود امریکہ میں کچھ لوگ جمع ہوئے، جو امریکی تھے، اور کہا: "مرگ بر آمریکا"؛ خود امریکہ میں! یہ وہی ادراکی ارتقاء (Perceptual evolution) ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے انبیائے عظام (علیہم السلام) نے کوشش کی اور اس کوشش کی سب سے بڑی، سب سے اہم اور سب سے حیرت انگیز قسم کو ـ اسلام کے رسولِ مُکَرَّم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے اپنے زمانے میں اور اختتام عالم تک کے لئے ـ سرانجام دیا، اور آج مقاومت بھی بھی اس کو نمایاں کر رہی ہے۔ ہمیں ضروری ہے کہ ان حقائق کی طرف متوجہ رہیں اور قرآن کی اس آیت کریمہ کو کبھی نہ بھولیں کہ:

"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ؛ [5]

اور کمزوری نہ دکھاؤ اور رنجیدہ [و محزون] نہ ہوں اور تم برتر ہو؛ اگر تم ایمان رکھتے ہو"۔

والسّلام علیکم و رحمة ‌الله و برکاته

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:



[1] -. سورہ آل عمران، آیت 118۔

[2]۔ یہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقولہ ایک دعا کا حصہ ہے: ۔۔۔ اَللَّهُمَّ أَعْطِنِي نَصْراً فِي دِينِكَ وَقُوَّةً فِي عِبَادَتِكَ وَفَهْماً فِي خَلْقِكَ وَكِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِكَ وَبَيِّضْ وَجْهِي بِنُورِكَ وَاِجْعَلْ رَغْبَتِي فِيمَا عِنْدَكَ وَتَوَفَّنِي فِي سَبِيلِكَ عَلَى مِلَّتِكَ وَمِلَّةِ رَسُولِكَ۔۔۔"۔ (الکلینی، الکافی، ج، ص589)۔

[3]۔ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي 'تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ' وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ؛ اے ایمان لانے والو! میرے اور اپنے دشمن کو اپنے دوستوں اور سرپرستوں کی حیثیت نہ دو، تم ان کے ساتھ محبت کی پینگ بڑھاتے ہو، حالانکہ انہوں نے کفر اختیار کیا اس کے ساتھ جو تمہارے پاس حق آیا اور ان کا عالم یہ ہے کہ وہ گھروں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہیں پیغمبر کو اور تمہیں اس جرم میں کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے؛ اگر تم نکلے تھے میری راہ میں جدوجہد کے لئے اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، تم خفیہ طور پر ان سے محبت کی پینگ بڑھاتے ہو؛ اور میں خوب جانتا ہوں اسے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم میں سے ایسا کرے گا اس نے سیدھے راستے سے بھٹک کیا ہے"۔ (سورہ ممتحنہ، آیت 1)۔

[4]۔ "وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ؛ اور ان کی [بے بنیاد] گفتگو آپ کو رنجیدہ نہ کرے، یقینا عزت تمام کی تمام اللہ کے لئے ہے"۔ (سورہ یونس، آیت 65)۔

[5]۔ سورہ آل عمران، آیت 139۔