اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی چینل i12 کے مطابق، غاصب ریاست کی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل ٹومر بار نے اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی صبح اسرائیلی فضائیہ "کافی مؤثر" نہیں رہی۔
واضح رہے کہ
غاصب صہیونی ریاست کی سلامتی کا دارومدار صرف فضائیہ پر ہے اور اس کی زمینی فوج ہر
حال میں لڑنے سے عاجز ہے اور اس نے غزہ اور لبنان میں آمنے سامنے کی زمینی جنگ میں
اپنی بزدلی کے بےشمار عملی ثبوت فراہم کر دیے ہیں؛ چنانچہ صہیونی فضائی کی ناکامی
پوری صہیونی فوج کی ناکامی سمجھتی جاتی ہے۔
صہیونی فضائیہ
کے کمانڈر نے 7 اکتوبر کے حملے میں ہونے والی ناکامیوں کی تحقیقات کے دوران کہا کہ 7 اکتوبر کی صبح ہمارے لئے مکمل حیرت سے
شروع ہوئی۔
اسرائیلی فضائی
کے سربراہ نے مزید کہا کہ حماس کے حملوں کا ہم نے فوراً جواب دیا، ان کے ساتھ لڑائی بھی کی اور اپنے لوگوں کو بچانے کی کوشش
کی، مگر بدقسمتی سے، ہم اس دن کافی مؤثر ثابت نہیں ہو سکے۔
صہیونی چینل i12 نے اسرائیلی فضائیہ کی تحقیقات کے ممکنہ نتائج
شائع کیے ہیں۔ جس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ
حملے کی تیاری میں ناکام رہی اور اس کا ردعمل مؤثر نہیں تھا۔
واضح رہے کہ
فلسطین کی حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ "حماس" نے مورخہ 7 اکتوبر 2023ع کو
غاصب صہیونیوں کے فوجی ٹھکانوں اور آبادکاروں کی بعض بستیوں میں صہیونی مراکز پر
طوفان الاقصیٰ کے عنوان سے حملہ کیا تھا۔
مورخہ 7 اکتوبر
2023ع کی صبح، حماس کی قیادت میں فلسطینی مجاہدوں نے غزہ سے غاصب یہودی آباکاروں
کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا۔ یہ حملہ غاصب ریاست کے لئے بہت بڑا دھچکا
تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
110