اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں پر صہیونی حلقوں میں ہی، تقریبا یکسان رد
عمل سامنے آیا
سابق صہیونی وزیر اعظم لیبرمین نے لکھا: نیتن یاہو نے حتمی اور مکمل
فتح کی بات کی، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ فتح کس فریق کو نصیب ہوئی ہے؟! جنگ
بندی = حزب اللہ کے سامنے ہتھیار ڈالنا!
صہیونیوں کی لیبر پارٹی کے رہنما اور رکن کنیسٹ
میراؤ میخائیلی نے کہا: نیتن یاہو لفاظی بہت کرتا ہے، شیخیاں بہت بگھارتا ہے لیکن
آخر کار 101 اسرائیلی قیدی ابھی بھی غزہ میں ہیں اور اچھا سمجھوتہ وہ ہے جو ان قیدیوں
کی واپسی کا باعث بنے۔
میرتس پارٹی کے سابق رہنما زہاوا گیلیون نے کہا:
نیتن یاہو کہتا ہے کہ ہم مشرق وسطی کی شکل بدل دیں گے لیکن یہ واقعی کیسے ممکن ہے
جب اس نے 101 اسرائیلی قیدیوں کو غزہ کی سرنگوں میں تنہا چھوڑ دیا ہے؟!
صہیونی حزب اختلاف کے رہنما یائیر لاپید نے کہا:
اسرائیلی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ نیتن یاہو
کی وزارت عظمی کے دوران رونما ہوا ہے اور
حزب اللہ کے ساتھ سمجھوتہہ اس رسوائی کو کبھی نہیں مٹا سکے گا۔۔۔
ادھر سابق صہیونی وزیر اعظم نفتالی بینت نے بھی حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر کڑی
تنقید کی اور اس کو سفارتی اور سیکوریٹی کے لحاظ سے مکمل شکست قرار دیا اور کہا کہ
یہ سمجھوتہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملہ کرنے سے نہیں روک سکتا۔۔۔ حزب اللہ کے پاس
اب بھی لاکھوں راکٹوں کا ذخیرہ موجود ہے اور وہ خود بھی ہتھیار تیار کرتی ہے اور
اپنی صلاحیتوں کی تجدید کر سکتی ہے۔
نیتن یاہو کے اتحاد اور مبینہ داخلی سلامتی کے
صہیونی وزیر بن گویر نے بھی حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کو ایک تاریخی غلطی قرار دیتے
ہوئے کہا ہے کہ اس سے
شمالی اسرائیل کے باشندوں کو بحفاظت ان کے گھروں میں لانے کا مقصد پورا
نہيں ہوتا۔
عبرانی
وب سائٹ واللا کے عسکری تجزیہ کار
امیر بوخبوط نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے سلسلے میں
نیتن یاہو کو "فتح" کی اصطلاح کہاں سے ملی!
صہیونی چینل i-12 نے
بھی کہا کہ لبنان کے ساتھ معاہدے کے بارے میں ایک سروے میں، 69 فیصد اسرائیلی نہيں سمجھتے کہ "اسرائیل" نے حزب
اللہ کے ساتھ جنگ جیت لی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110