اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی
ذرائع نے کہا ہے کہ تل ابیب کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتماد کی کمی کا
حوالہ دیتے ہوئے اپنے طویل عرصے کے سیاسی حریف اور لیکود پارٹی کے رکن وزیر جنگ یو
آوف گالانت کو جنگ کے دوران ہی برطرف کرنے کر دیا ہے۔ یو آوف گالانت کی جگہ وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کو نیا وزیر
جنگ مقرر کیا جائے گا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں یو
آوف گالانت پر اعتماد تھا اور وہ بہترین کام کررہے تھے، مگر گذشتہ چند مہینوں میں
یہ اعتماد ٹوٹ گیا، گالانت جنگ کے معاملات پر مجھ سے اختلاف کرتا تھا اور اس نے
کابینہ کے فیصلوں کے برعکس بیانات دیے۔
صہیونی وزیر اعظم کے مطابق ان اختلافات کو ختم
کرنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن یہ خلیج بڑھتی چلی گئی، جس سے نہ صرف عوام بلکہ
دشمن بھی واقف ہوئے اور انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ حکومت کے بیشتر اراکین ان
کے فیصلے سے متفق ہیں۔
ادھر حزب اللہ لبنان نے کہا ہے کہ لبنانی محاذ
نے صہیونی کابینہ کے اندرونی اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور تنظیم نو کی تکمیل
کر دی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے شعبوں میں تمام خالی جگہوں کو پر کر دیا۔
صہیونی نظام کے اندر کی اپوزیشن جماعتوں نے نیتن
یاہو کے فیصلے کو تباہ کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جنون کا شکار ہوگیا ہے اور
اس وقت جبکہ ہمیں ایران کے شدید میزآئل حملے کا انتظار ہے، اس نے وزیر جنگ کو
برطرف کرکے ایک ایسے شخص کو وزارت جنگ کے لئے نامزد کر دیا ہے جو فوجی نہیں ہے
اور جنگ کا تجربہ نہیں رکھتا۔
کچھ جماعتوں نے اپنے حامیوں کو سڑکوں پر آنے کی
کال دی ہے اور آبادکاروں نے پرتشدد مظاہروں کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے 5 نومبر کو امریکی انتخابات کے موقع پر وزیر دفاع یوو گیلنٹ کو ہٹانے کا اعلان کیا۔
ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ کہ گویا وائٹ ہاؤس گالانت کی برطرفی کے نیتن یاہو کے فیصلے سے حیرت زدہ ہوگیا ہے۔
عجب یہ کہ نیتن یاہو نے [معاریف اخبار کے مطابق] آبادکاروں کو خوفزدہ کرنے اور گھروں اور پناہگاہوں کا رخ کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے افواہ اڑائی تھی کہ ایران آج رات [یعنی 5 اور 6 نومبر کی درمیانی] رات کو اسرائیل پر کئی محاذوں سے حملہ کرنا چاہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110

