3 اکتوبر 2024 - 20:06
امریکہ اور کوئی بھی تیسرا فریق، اسرائیلی ریاست کے ساتھ ہمارے تنازعے میں مداخلت سے باز رہے، نیویارک میں ایران کے نمائندہ دفتر کا بیان

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک جارح ریاست کی مدد کرے، وہ شریکِ جرم ہے، ہم خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی اسلامی جمہوریہ ایران اور اسرائیلی ریاست کے تنازعے میں مداخلت نہ کرے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، نیویارک میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کے سربراہ نے ایران اور امریکہ درمیان رابطے کے ذرائع نیز وعدہ صادق-2 آپریشن کے بعد صہیونیوں کی ممکنہ شرانگیزیوں کے جواب کی سطح۔، کے بارے میں ایک امریکی نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ تہران نے میں سوئٹزرلینڈ کا سفارت خانہ ہے جو امریکہ میں ایران کے مفادات کا سیکشن بھی ہے۔

قبل ازیں کچھ ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو پیغام بھجوایا ہے۔

وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران، سید عباس عراقچی نے بھی غاصب صہیونی ریاست کے خلاف ایران کی تعزیری میزائل کارروائی کے بعد کہا تھا کہ تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے امریکہ کو خبردار کیا کیا گیا ہے کہ اس تنازعے سے پیچھے ہٹ جائیں اور مداخلت نہ کریں ورنہ انہیں ایران کی جانب سے سخت جوابی اقدام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ادھر ایران کے نمائندہ دفتر نے کہا کہ ایران صرف جارح فریق کی جارحیت کا جواب دے گا، لیکن اگر کسی نے جارح کی مدد کی تو وہ بھی جرم میں شریک ہے اور ہماری کاروائیوں کا جائز نشانہ سمجھا جائے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائند دفتر نے امریکہ اور کسی بھی تیسرے فریق کو خبردار کیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسرائیلی ریاست کے تنازعے میں مداخلت سے بار رہیں اور اس معرکے [میں ٹانگ اڑآنے] سے دوری اختیار کریں۔

واضح رہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس فورس نے ـ تہران میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ، حزب اللہ لبنان کے قائد سیدالمقاومہ شہید سید نصر اللہ، اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کے کمانڈروں اور مشیروں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث، ـ یکم اکتوبر 2024ع‍ کی رات کو، سینکڑوں میزائلوں سے صہیونیوں کے فوجی اور سیکورٹی مراکز کو نشانہ بنایا اور محتاط اندازے کے مطابق، 90 فیصد میزائل ٹھیک نشانوں پر لگے اور صہیونی سیکورٹی اور فوجی مفادات کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا یہ جوابی آپریشن (وعدہ صادق-2) اقوام متحد کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز دفاع کے زمرے میں اتا ہے۔

ادھر نائب وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی نئی جارحیت سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے، اور اگر صہیونی دشمن ایک پھر غلطی کا ارتکاب کرکے ایران کی قومی سلامتی اور ارضی سالمیت، ایرانی املاک، اور شہریوں کو نشانہ بنانا چاہئے تو اسے اس بار عبرتناک جواب دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 یہ لنکس بھی دیکھئے: 
امریکہ کو ایران کا پیغام, اسرائیل دوبارہ جارحیت کرے تو ایران کا جواب غیر روایتی ہوگا

https://ur.abna24.com/story/1491333


اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا اقدام، جائز اور قانونی تھا / زخمی اور خون آلود لبنان کا قرض ادا کرنا، ہمارا فریضہ ہے، امام خامنہ ای

https://ur.abna24.com/story/1491472