27 ستمبر 2024 - 10:04
لبنان میں دھماکےسے پھٹنے والے پیجرز میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا، سی این این

لبنان کے دو اعلی سیکورٹی اہلکاروں نے سی این این سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ لبنان میں دھماکے سے پھٹنے والے پیجرز میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا جس کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سی این این نے آج [جمعہ 27 ستمبر 2024ع‍ کی] صبح لبنانی سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے سے، عارضی صہیونی ریاست کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کاروائی کے دوران، لبنانی عوام کے ہاتھوں میں پیجرز کے پھٹنے کے واقعے کا جائزہ لیا۔

اس رپورٹ کے مطابق، لبنان کے دو اعلی سیکورٹی اہلکاروں نے ـ جن کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ـ نے سی این این کو بتایا کہ پیجرز کو دھماکے سے اڑانے پر مبنی، جرائم پیشہ اسرائیل کی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی، بیٹریوں میں رکھے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے انجام پائی۔

ان دو اہلکاروں میں سے ایک نے کہا: "پیجرز کی بیٹریوں میں دھماکہ خیز مواد کو اس قدر پیچیدہ انداز سے چھپایا گیا تھا کہ اس کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا تھا"، لیکن اس اعلی افسر نے یہ نہیں بتایا کہ لبنان میں داخل ہونے سے پہلے ان ڈیوائسز کو چیکنگ کے کن مراحل سے گذارا گیا تھا۔

دوسرے اہلکار نے بھی سی این این سے کہا: "میں نے ان پیجر ڈیوائس کو خود دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ اس کو کنٹرول شدہ انداز سے پھاڑا گیا ہے۔ دھماکہ خیز مادہ پیجر کی لیتھیم بیٹری کے ساتھ سی لیا گیا تھا اور عملی طور پر ناقابل تشخیص تھا۔ ہم نے کبھی بھی ایسی چیز نہیں دیکھی"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110