26 ستمبر 2024 - 14:49
لبنان پر زمینی حملہ اسرائیل کے لیے "موت کا پھندا" ہے، صہیونی ذرائع

صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے لبنان پر زمینی حملے میں صہیونی ریاست کی ماضی کی غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ریاست زمینی حملے کے لیے تیار نہیں ہے؛ ایسے وقت میں جبکہ غاصب صہیونی ریاست کے بعض اہلکاروں نے لبنان کے خلاف زمینی حملے کی دھمکی دی تھی، ایک صہیونی اخبار نے لکھا ہے کہ یہ زمینی حملہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے لئے تیار کردہ "موت کا جال" ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یدیعوت آحارونوت کے نامہ نگار رونن برگمین نے لکھا: 98ویں ڈویژن سمیت فوجی اور ریزرو فورسز کی شمالی سرحدوں پر منتقلی کے باوجود لبنان میں زمینی داخلے کے لئے کوئی فوری تیاری نہیں ہے۔

برگمین نے مزید کہا: اعلیٰ سطحی کمانڈروں کی اکثریت کا خیال ہے کہ اسرائیل نے اس سے پہلے 1982 اور 2006 میں دو بار اس مسئلے (لبنان پر زمینی حملے) میں ایک تباہ کن اور تلخ غلطی کا ارتکاب کیا تھا اور اسے اس بار زمینی راستے سے لبنان میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے لوگ، ماہرین اور کمانڈر اسے حزب اللہ کی طرف سے تیار کردہ موت کا جال سمجھتے ہیں۔

یہ اخبار مزید کہتا ہے: آج اسرائیل کا طرز عمل 2006 کی جنگ کے آغاز سے ملتا جلتا ہے، اس وقت اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ فضائی طاقت سے حزب اللہ کو شکست دے سکتا ہے لیکن آخرکار اسے زمینی حملے جاری رکھنے پر اسرائیل کو مجبور کیا گیا۔

پیر کی صبح صہیونی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

حزب اللہ، لبنان پر کے عام شہریوں پر حملوں کے خلاف خاموش نہیں رہی ہے اور اس نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں صہیونی ٹھکانوں اور بستیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو ایجنڈے میں رکھا ہے اور صہیونی ریاست کے ٹھکانوں پر درجنوں راکٹ داغے ہیں۔

حزب اللہ کے حملوں سے صہیونیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، مقبوضہ شہر حیفا میں تمام تعلیمی سرگرمیاں بند کر دی گئی ہیں اور مکینوں کو اگلے اعلان تک پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔