5 اگست 2024 - 20:49
صہیونیوں کے اقدامات کے باوجود، حماس طاقتور اور ثابت قدم ہے

غزہ میں مصروف جہاد، مجاہدین نے گذشتہ تین دنوں سے غزہ کے اطراف کے علاقوں میں واقع صہیونی ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ میدان جنگ میں حاضر، ثابت قدم اور دشمن کے دانت کھٹے کنے کے لئے تیار ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، حماس اور جہاد اسلامی سمیت دوسری جہادی تحریکوں کی طرف سے صہیونیوں کے خلاف زبردست کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے؛ جس سے ظاہر ہوتا کہ مقاومت کے مجاہدین، صہیونیوں کے بہیمانہ اقدامات کے باوجود، اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہيں۔

غاصب صہیونیوں نے القسام کے عسکری شعبے "القسام بریگیڈز" کے کمانڈر محمد الضیف کی شہادت کا بھی اعلان کیا ہے جس کی البتہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، اور دوسری طرف سے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل عبدالسلام ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا ہے اور ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ حماس کو ایک شکست خوردہ قوت کے طور پر پیش کرے، اسے انفعالیت سے دوچار قوت کے طور پر متعارف کرائے، تاکہ یوں وہ یہ کہہ سکے کہ حماس اب قیدیوں کے تبادلے کے لئے ہونے والے مذاکرات کو کسی شرط سے مشروط نہیں کر سکے گی اور صہیونی ریاست مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے گی۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکا، سابقہ معمول کے مطابق۔

حالیہ تین دنوں کے دوران غزہ میں صہیونی غاصبوں کے خلاف بر سرپیکار مجاہدین نے "غلاف غزہ" (یعنی غزہ کے اطراف) کے صہیونی بستیوں اور قصبوں میں موجود صہیونی ٹھکانوں کو بھاری راکٹ اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا؛ نتزاریم (یا نتساریم) نیز رفح کے علاقے میں صہیونی ٹھکانوں پر بھاری راکٹوں اور میزائلوں کی بارش کر دی اور انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے ہتھیاروں اور بلڈوزروں کو تباہ کر دیا۔

فلسطینی مجاہدین کی مذکورہ کاروائی کا ایک مقصد یہ جتانا تھا کہ حماس زندہ اور پائندہ ہے اور قائدین کی شہادت سے اس کی قوت ختم نہیں ہوتی بلکہ مجاہدین کو روحانی اور نفسیاتی طور پر تقویت پہنچتی ہے۔

۔۔۔۔۔

حال ہی میں امریکی چینل ایم ایس این بی سی کی ویب گاہ نے لکھا: "اسرائیل نے ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ سے پہلے بھی حماس کے کئی سینئر راہنماؤں کو قتل کیا ہے لیکن حماس نے ان واقعات کے بعد اپنی بقاء کا تحفظ کیا ہے اور فلسطینیوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا دیا ہے۔۔۔ اسماعیل ہنیہ رخصت ہوگئے، ایک نیا راہنما ہنیہ کی جگہ لے گا، غزہ میں جنگ جاری، اور حماس قائم و دائم رہے گی"۔

۔۔۔۔۔۔

110