2 اگست 2024 - 00:36
نیویارک نے صہیونی دہشت گردانہ کاروائی کے بارے میں جھوٹی افواہ کیوں پھیلائی؟

شہید اسماعیل ہنیہ کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی جھوٹی افواہ ـ جس کو کچھ پاکستانی اخبارات میں بھی کوریج دی گئی ہے، ـ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، اور ابتدائی تحقیق کے مطابق، انہیں دور سے پھینکے جانے والے پروجیکٹائل (projectile) سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اور پروجیکٹائل کی نوعیت بھی ابھی واضح نہیں کی گئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ اس کو سات ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک ماہ دو مہینے قبل ہنیہ کے کمرے میں رکھا گیا تھا جسے ریوٹ کنٹرول کے ذریعے پھاڑا گیا ہے۔ یہ رپورٹ بعض پاکستانی اخبارات کے ویب نسخوں میں بھی دیکھی گئی۔

نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ اسماعیل ہنیہ سابقہ دوروں میں بھی اسی کمرے میں قیام کرتے رہے تھے؛ اور جب حملہ آوروں کو یقین ہؤا کہ ہنیہ اس کمرے میں موجود ہیں تو انہوں نے بم کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پھاڑ دیا!

نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ ایکسیوس، بلومبرگ وغیرہ جیسے صہیونی نواز ذرائع میں دہرائی گئی اور اسی کی بنیاد پر مختلف قیاس آرائیوں کو ہوا دی۔

صہیونی نواو ذرائع اس جھوٹ کا سہارا لے کر درحقیقت صہیونی ریاست کو ایران کی حدود کی خلاف ورزی سے بری الذمہ قرار دینے کے لئے کوشاں ہیں، اسی بنا پر صہیونی ذرائع میں بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

نیویارک ٹائمز ـ جو یہودی صہیونیوں کی ملکیت ہے ـ کی اس جھوٹی افواہ میں بھی ماضی کی طرح نامعلوم "باخبر ذرائع" کو سورس کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ہر بار ان کا جھوٹ طشت از بام ہو گیا ہے؛ اور عیاں ہو چکا ہے کہ یہ خفیہ ذرائع در حقیقت مغرب میں خفیہ زندگی بسر کرنے والے ایران دشمن عناصر ہیں۔

اس طرح کی افواہیں اس سے قبل ایران دشمن عناصر اپنے فارسی چینلز کے ذریعے اڑایا کرتے تھے اور اب انہیں نے بزعم خود معتبر ذرائع تک رسائی حاصل کی ہے اور ان ذرائع کی ساکھ کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ ایران کے حوالے سے نیویارک ٹائمز جیسے اخبارات بھی بدنامی کے مراحل طے کر رہے ہیں۔

شہید اسماعیل ہنیہ کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی جھوٹی افواہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، اور ابتدائی تحقیق کے مطابق، انہیں دور سے پھینکے جانے والے پروجیکٹائل (projectile) سے نشانہ بنایا گیا ہے؛ اور اس جارحانہ دہشت گردی میں صہیونی ریاست کا کردار ناقابل انکار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110