20 اکتوبر 2023 - 10:07
عیسائی راہنماؤں سے ملاقات؛ روحانیت صرف خدا پرستی کے ساتھ بامعنی بن جاتی ہے۔۔۔ آیت اللہ رمضانی

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے علمائے دین کی جانب سے معاشرتی گمراہیوں کا سد باب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج بنی نوع بشر کو خدا کے بغیر روحانیت کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ ہمیں اس دعوت کا مقابلہ کرنا چاہئے، اور کہنا چاہئے کہ روحانیت صرف خدا پرستی کے ساتھ با معنی بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے آج یورپ اور امریکہ میں تقریب 4000 جعلی روحانی فرقے متعارف کرائے گئے ہیں جو خدا کی نفی کرتے ہیں۔۔۔ ہمارے عقیدے کے مطابق دین زندکی کے تمام میدان میں جاری و ساری ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت اسمبلی آیت اللہ رضا رمضآنی ـ جو شیعیان اہل بیت(ع) اور دیگر اسلامی مکاتب کے پیروکاروں کی دعوت پر افریقی ملک ملاوی کے دورے پر ہیں ـ نے ملاوی کے عیسائی راہنماؤں سے ملاقات میں لبرل معاشروں کے انحرافات کی تشریح کرتے ہوئے کہا: لبرل معاشروں کے انحرافات میں سے ایک یہ ہے کہ انبیاء کی توہین کو آزادی کا نام دیتے ہیں۔ میں ہیمبرگ کی مذاہب کونسل میں تھا تو ہمیں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی تصویر کے [معاذ اللہ] گھوڑے کی تصویر سے بدلا جاتا ہے اور اس کو ایک معمولی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ہمارے نزدیک مقدسات کی توہین ہے۔

انھوں نے کہا: حضرت عیسی، حضرت موسی، حضرت ابراہیم اور حضرت نوح (علیہم السلام) ہمارے نزدیک قابل قبول اور خدا کے پیغمبر ہیں اور ہم انبیاء کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ ان دنوں قرآن کو جلایا جاتا ہے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی توہین کی جاتی ہے اور اس کو ایک "اچھا" عمل قرار دیتے ہیں۔ تقدس شکنی یعنی یہ کوئی بھی امر مقدس وجود تک نہیں رکھتا اور اگر کسی چیز کو مقدس گردانا جائے تو وہ اس کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔

آیت اللہ رمضانی نے شریعت مین مسامحت کو مغربی معاشروں کا دوسرا انحراف قرار دیا اور کہا کہ یہ انحراف دین کے خاتمے پر منتج ہوتا ہے۔

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے مغربی معاشروں دین کی سیاست سے مکمل جدائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: خطرہ اس وقت ہے جب سیاست دین سے جدا ہو جائے اور حکومت بھی بھٹک جائے، اور اب ان کا پروگرام ہے کہ دین اور کلیسا کو اپنے ساتھ ملا لیں، چنانچہ ہم جنس پرستوں کی شادیاں کلیسا اور گرجا گھروں میں منعقد کرتے ہیں!

انھوں نے کہا: ان اقدامات کے نتیجے میں خاندان انحراف کا شکار ہوئے، ہم کہتے ہیں کہ گھرانہ مرد، عورت اور بچوں سے تشکیل پاتا ہے حبکہ وہ ہر ان دو اشیاء یا موجودات کے ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہونے کو گھرانے اور خاندان کا نام دیتے ہیں، چاہے وہ دونوں عورتیں ہوں، دونوں مرد ہوں یا ایک انسان اور ایک حیوان ہو!

آیت اللہ رمضآنی نے علماء کی جانب سے دینی انحرافات کے سد باب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج بنی نوع بشر کو خدا کے بغیر کی روحانیت کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ ہمیں اس دعوت کا مقابلہ کرنا چاہئے، اور کہنا چاہئے کہ روحانیت صرف خدا پرستی کے ساتھ با معنی بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے آج یورپ اور امریکہ میں تقریب 4000 جعلی روحانی فرقے متعارف کرائے گئے ہیں جو خدا کی نفی کرتے ہیں۔

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے نوجوان نسل کے ساتھ رابطے کے بارے میں کہا: اس نسل کے ساتھ رابطہ صرف اتوار کے دن کلیسا میں منعقدہ مجلس دعا تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ مختلف مسائل میں ان کے سوالات کا جواب دینا چاہئے۔ نوجوانوں سے کہنا چاہئے کہ صرف ایمان کی طرف نہ جائیں، قرآن کریم جب ایک اسلامی اور انسانی معاشرے کے بارے میں بات کرتا ہے، تو دو چیزوں کو باہم بنیادی حیثیت دیتا ہے ایک ایمان ہے اور دوسرا عمل ہے۔

انھوں نے کتاب مقدس کی طرف رجوع کو ضروری سمجھا اور کہا: ضروری ہے کہ ہم معرض وجود میں آنے والے انحرافات کی شناخت کریں اور انجیل مقدس اور قرآن کریم سے ان انحرافات کا جواب دیں۔ ضروری ہے کہ انجیل مقدس اور قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور انحرافات کا جواب دیں۔ معاشروں کے انحرافات کے سلسلے میں قرآن اور انجیل کی آیات کا مسلسل مطالعہ کرنا چاہئے۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا: کچھ لوگ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ایک دفعہ میں جارجیا (گرجستان) کے اُسقُفِ  اعظم کے ساتھ ملاقات کر رہا تھا، تو انھوں نے کہا کہ "آپ کو 70 سالہ تلخ کمیونسٹ دور سے نہیں گذرنا پڑا ہے، وہ کسی صورت میں بھی عبادت کی اجازت نہیں دیتے تھے اور انہوں نے مساجد اور گرجاگھروں کو گوداموں میں تبدیل کیا۔ کچھ لوگ دین کو خرافات کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ پوری قوت سے دین کے خلاف لڑ رہے ہیں"۔

انھوں نے ایک دینی عالم کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: دینی عالم کو دین اور تحفظ کے درپے رہنا چاہئے۔ کچھ لوگ دین کو محو کرنا چاہتے ہیں اور کچھ لوگ دین کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، محدود کرنا چاہتے ہیں اور دینی احکام کی چھٹی کرنا چاہتے ہیں، یہ دونوں گروپ آخرکار تک اس نقطے تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ ادیان و مذاہب انسان کے نزدیک بالکل غیر اہم ہو جائیں اور ہماری زندگی میں کوئی کردار ادا نہ کریں۔ حالانکہ ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ دین فکر، عقیدے، اخلاق، عمل، ثقافت، معاشرے، سیاسی، معیشت اور عدالت و انصاف کے تمام میدانوں میں جاری و ساری ہے۔ یہ دین کے سلسلے میں علمائے اسلام کا دقیق نظریہ ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے آخر میں کہا: ہمیں امید ہے کہ تمام ادیان و مذاہب اپنے عقائد پر عمل کریں اور اپنی دینی تعلیمات کو نوجوان نسل تک منتقل کریں۔ ہم ایک عیسائی عالم کے اسلام لانے کے درپے نہیں ہیں بلکہ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک عیسائی حقیقی عیسائی ہو اور ایک مسلمان بھی حقیقی مسلمان ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110