عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی، کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ بعنوان "نا انصافی میں مساوات۔۔۔ سعودی حکومت مخالفین کی سرکوبی کو وسعت دے رہی ہے" کے ضمن میں تصدیق کی ہے کہ یہاں عدالتوں میں وکیل کو اپنے موکل کے دفاع کا حق حاصل نہیں ہے اور سعودی عدالتیں سرکاری پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سعودی باشندوں کو پہلے سے کہیں زیادہ شدید سزائیں سنا رہی ہیں اور یہ سلسلہ مزید شدت کی طرف جا رہا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات:
اگر کوئی سعودی عرب میں ٹویٹر پر تنقیدی پوسٹ شائع کرے تو اسے 15 سے 45 سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے! جیسا کہ سعودی بلاگر سعد المدی نے 14 الفاظ پر مشتمل ایک پیغام ٹویٹر پر لکھ دیا جس کی پاداش میں انہیں بن سلمان کے عقوبت خانے میں بند کر دیا گیا۔
سعد المدی سعودی شہریت کا حامل ہونے کے ساتھ امریکی شہریت کے حامل بھی ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایک پروفیسر نے سعودی عرب پر شدید تنقید کی تھی جس کے جواب میں انھوں نے لکھا تھا: "محمد بن سلمان نے اپنی ولی عہدی کے دور میں ہی سعودی بادشاہت کی معیشت، دفاع اور ہر چیز کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے"۔
یہ قصہ سات سال پرانا تھا اور المدی نے امریکہ میں قیام کے وقت یہ الفاظ لکھے تھے اور سات سال بعد جب 72 سالہ المدی نے سعودی دارالحکومت ریاض کا سفر اختیار کیا اور فوری طور پر گرفتار کئے گئے۔ سعودی حکومت نے ان کے مذکورہ ٹویٹر پوسٹ کو "ثبوت" کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے المدی کی دوسری پوسٹوں کے حوالے سے ان پر "سرکاری ادارے بدنام کرنے" اور "دہشت گردانہ عقائد اور دہشت گردانہ ایجنڈوں کی حمایت" جیسے الزامات لگائے اور ان ہی الزامات کی بنیاد پر انہیں 16 سال قید کی سزا سنائی؛ انھوں نے اپیل کورٹ میں نظر ثانی کی دوخواست دائر کروائی تو اپیل کورٹ نے قید کی مدت 16 سال سے 19 سال تک بڑھا دی۔
سعد المدی کے بیٹے ابراہیم نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میرے والد ماضی میں شراب نوشی اور طویل پیادہ روی کے عادی تھے، اب انہیں ریاض کی "الحائر جیل" میں قید کر دیا گیا ہے، جہاں القاعدہ کے ارکان اور سیاسی کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے۔
بیرون ملک مقیم سعودی کارکنوں نے نیویارک ٹائمز سے کہا کہ "ہم اپنے ملک میں واپسی کی صورت میں، خود کو محفوظ نہیں سمجھتے، کیونکہ جبر اور سرکوبی کا دائرہ غیر معمولی انداز سے پھیلایا گیا ہے"۔
ارض مقدس میں رقص و آواز کو اصلاحات کا نام دیا جاتا ہے
آج سے چند ہی سال قبل سعودی بادشاہی میں عورتوں کی ڈرائیونگ پر پابندی تھے اور نوجوانوں کے لئے عمومی رقص و آواز کی محفلیں جمانا، تقریبا نا ممکن تھا؛ لیکن اب سعودی ولی عہد تیل سے حاصل ہونے والی عظیم آمدنی کے ذریعے اس حوالے سے اصلاحات کا اہتمام کرنے کے لئے کوشاں ہے"۔
بن سلمانی حکومت کے ہاتھوں پھانسی یافتہ اطفال!
نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا ہے:
سعودی سیاسی اور سماجی کارکن ملک میں اصلاحات کے خواہشمند ہیں اور برسوں سے اس مقصد کے حصول کے لئے لڑتے رہے ہیں، لیکن آج وہ سب یا بیشتر افراد جیلوں میں بند ہیں۔ حالانکہ [مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے] سماجی پابندیوں میں کافی کمی آئی ہے لیکن سیاسی گفتگو کے لئے فضا ناکافی اور محدود [بلکہ غیر موجود] ہے۔
سنہ 2027ع سے اب تک سعودی حکمرانوں نے سینکڑوں جانے پہچانی شخصیات - بشمول سنیپ چیٹ میں سرگرم افراد، علماء، ارب پتی شہریوں [اور شہزادوں] نیز ولی عہد کے چچا زاد بھائیوں کو گرفتار کیا ہے۔
سنہ 2018ع میں سعودی حکومت کے گماشتوں نے سعودی-امریکی شہری اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس "جمال خاشُقجی" کو استنبول میں قتل کر دیا تو پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، "یہ سعودی حکومت کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر جبر اور سرکوبی کی اس لہر کا سب سے زیادہ ڈرامائی واقعہ تھا، جو خاشقجی کے قتل سے شروع ہوئی تھی"۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ایسے حال میں شائع ہوئی ہے، کہ بین الاقوامی قانونی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب میں پھانسیوں اور گرفتاریوں کی شرح میں 100 فیصد اضافہ ہؤا ہے؛ اور یہ ادارے سعودیہ میں بڑھتے ہوئے تشدد اور نا انصافی کی موجودہ صورت حال پر کڑی تنقید کر رہے ہیں: بن سلمانی مساوات = ظلم و نا انصافی اور سیاسی و سماجی دباؤ: سب کے لئے یکساں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110