دوسری جانب یمن کی طبی کمیٹی کے سربراہ مطہر الدرویش نے بھی کہا ہے کہ طویل عرصے سے جاری جنگ اور محاصرے کے نتیجے میں کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے اور ان کی تعداد عالمی حدوں کو پار کر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیماروں کے علاج کے لئے میڈیکل ٹیموں کو بھی یمن پہنچنے نہیں دیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آٹھ سال پر مشتمل محاصرے اور جارحیت سے براہ راست سینتالیس ہزار عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ اس دوران ایک سو ساٹھ سے زیادہ طبی مراکز مکمل طور پر اور تین سو ستر سے زیادہ ہسپتال اور کلینک جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔ اسکے علاوہ ان آٹھ برسوں کے دوران سعودی فوجیوں نے سڑسٹھ ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کو بھی شہید کیا ہے۔
آل سعود کی مسلط کردہ جنگ کے باعث ساڑھے چھے لاکھ کے قریب یمنی بچے جن کی عمر پانچ سال اور اس سے کم بتائی گئی ہے اور اسی طرح پندرہ لاکھ حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر سعودی حکام نے طبی وسائل اور ادویات، غذائی اشیا اور ایندھن پر عائد پابندیاں ہٹانے سے گریز کیا، تو یمن میں ایک خوفناک انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے۔
امریکی حمایت اور عالمی برادری کی خاموشی کی آڑ میں ریاض نے سن دو ہزار پندرہ میں یمن کے خلاف جنگ چھیڑ دی جو کہ چند مہینے کے اندر ختم کرنے کے دعووں کے باوجود ابھی تک جاری ہے۔ اس جنگ میں ابوظہبی اور بعض دیگر عرب دارالحکومتوں نے ریاض کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور اب یمن میں مصروف جارحیت حکومتیں وہاں پر مغربی اور صیہونی ایجنسیوں کی موجودگی کے لئے زمین ہموار کر رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242