اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی کی طرف سے شیخ الفقہاء آیت اللہ العظمیٰ شیخ لطف اللہ صافی گلپایگانی کی ترویح روح کے لیے نماز جمعہ کے بعد آصفی مسجد میں مجلس عزا کا انعقاد عمل میں آیا ۔اس مجلس کو مولانا سید اصطفیٰ رضا استاذ حوزہ علمیہ حضرت غفران مآبؒ نے خطاب کیا ۔
مولانا نے اپنے بیان میں علماء کی اہمیت اور عظمت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انسان کو تقویٰ اور پرہیز گاری کی دعوت دی ۔مولانا نے کہا کہ آیت اللہ لطف اللہ صافی طاب ثراہ نے سو سال سے زیادہ کی مبارک عمر پائی ۔بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اوائل شباب سے عمر کے آخری حصے تک تعلیم و تعلم اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ہیں ۔انہوں نے بیش بہا کتابیں تحریر کیں اور عالم اسلام میں اپنے علم و فضل کا لوہا منوایا ۔مولانا نے کہاکہ آیت اللہ صافی رحمۃ اللہ علیہ کو ہندوستان سے خاص الفت تھی ۔وہ تقریباً آج سے 60 سال پہلے ہندوستان تشریف لائے تھے ۔انہوں نے لکھنؤ کا سفر بھی کیا تھا جس میں آصفی مسجد اور بڑے امام باڑہ میں بھی وہ تشریف لائے تھے۔اس وقت مولانا کلب عابد صاحب طاب ثراہ موجود تھے جن کے وہ مہمان ہوئے ۔وہ لکھنؤ کے علمی شہرہ کی بنیاد پر لکھنؤ کو پہچانتے تھے ۔
مولانا نے دوران مجلس علم اور علماء کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آیت اللہ صافی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی خدمات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ۔مجلس کے آخر میں مولانانے شہیدان کربلا کے مصائب کو بیان کیا ۔
مجلس میں بڑی تعداد میں آصفی مسجد کے نمازیوں، مدارس کے طلباء اور دیگر افراد نے شرکت کی۔یہ مجلس امام جمعہ مولانا سیدکلب جواد نقوی کی طرف سے منعقد کی گئی تھی۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242