اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے آیت اللہ محمد ہاشم صالحی مدرس اور آیت اللہ شیخ زادہ نے بدھ کے روز اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔
آیت اللہ "رضا رمضانی" نے اس ملاقات میں کہا: افغانستان ایک بے مثال حقیقی اور ممکنہ حیثیت اور صلاحیت مالک ہے اور اس پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے افغانستان میں بڑی طاقتوں کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طول تاریخ میں سوویت یونین اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں نے افغانستان کو ترقی کی طرف گامزن نہیں ہونے دیا جبکہ اس ملک میں ترقی کی زمین فراہم ہے۔ اگر افغانستان میں صلاحیت، استعداد اور دولت نہ ہوتی تو وہ مداخلت نہ کرتے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے تاکید کی: امریکہ افغانستان کو چھوڑنے والا نہیں ہے وہ مختلف طریقوں سے اس ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ مقامی حکام افغانستان کی سلامتی کو یقینی نہیں بنا سکتے کیونکہ امریکہ نے افغانستان میں سرمایہ کاری کی ہے اور اسے اس کا فائدہ اٹھانا ہے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ افغانستان کی صورتحال پیچیدہ ہے، انہوں نے ایک جامع حکومت کی تشکیل پر زور دیا اور کہا: "افغانستان میں ایک جامع حکومت کا قیام ضروری ہے، ورنہ ہم اندرونی تنازعات اور خانہ جنگی کا مشاہدہ کریں گے۔"
آیت اللہ رمضانی نے افغانستان کی صورتحال کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا: اس ملک میں مسلمانوں کا قتل عام نہیں ہونا چاہیے اور انتہائی تدبیر اور عقلانیت سے اس میں کام ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ علمائے کرام کی موجودگی اور افغانستان کی علماء کونسل کے وجود نے عوام کی حوصلہ افزائی کی، کہا: افغانستان کی علماء کونسل کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ افغان علماء نے کبھی بھی میدان کالی نہیں چھوڑا۔ مثال کے طور پر، آیت اللہ سید محمد علی عالمی بلخابی، افغانستان کے علماء میں سے ایک تھے، جنہوں نے کچھ ہی عرصہ قبل انتقال کیا، وہ ایک مبارز اور مقبول شخصیت تھے۔
اہل بیت(ع) کی عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے افغانستان کے عوام کو باوقار، دیندار اور اہل استقامت قرار دیا اور مزید کہا: یورپ میں اہل بیت(ع) کی مجالس میں افغانستان کے شیعوں خاص طور پر نوجوانوں کی نمایاں موجودگی تھی۔ ہیمبرگ کے اسلامک سینٹر میں عاشورہ کی تقریب کے پچاس فیصد شرکاء، جن میں چھ ہزار سے زائد عزادار شرکت کرتے تھے، افغان تھے۔
انہوں نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے افغانستان کے علماء کے ساتھ مزید تعاون پر تاکید کی اور کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی افغانستان پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ حجۃ الاسلام سید حسین عالمی بلخی کی افغانستان میں اسمبلی کے نمائندے کے طور پر موجودگی قابل تعریف ہے اور اس ملک میں موجود صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔
اجلاس کے آغاز میں افغانستان کے شیعہ علماء کونسل کے چیئرمین آیت اللہ محمد ہاشم صالحی مدرس نے اس ملک میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے کی تقرری کو بہت اچھا کام قرار دیا اور کہا: حجت الاسلام سید حسین عالمی بلخی افغانستان میں اسمبلی کے نمائندے کی حیثیت سے ایک معروف اور فعال شخصیت ہیں۔
انہوں نے افغانستان میں شیعوں کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس سال محرم میں عزاداری ایک خاص جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔ امام بارگاہوں اور مساجد میں عزاداروں کی شرکت گزشتہ سالوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی، اور عزاداروں کے لیے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔
افغانستان کے شیعہ علماء کونسل کے سربراہ نے افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بارے میں کہا: "افغانستان سے امریکہ کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، لیکن امریکہ بہت چالاک ہے اور اس نے ابھی میدان نہیں چھوڑا"۔
آیت اللہ شیخ زادہ نے اس ملاقات میں افغانستان میں ثقافتی امور کی انجام دہی میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون، مبلغین کے اعزام میں حمایت، جامعۃ المصطفیٰ کی سرگرمیوں کو تقویت دینے اور مفید کتابیں ارسال کرنے میں تعاون کا مطالبہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242