20 ستمبر 2021 - 07:37
رمضانی: توحید کی روح اربعین میں دیکھی جا سکتی ہے/ عاشورا عقل و جہل کے درمیان معرکہ آرائی کا نام ہے

آیت اللہ رمضانی نے امام حسین علیہ السلام کو ایک جامع نمونہ قرار دیا اور کہا: عاشورا عقل و جہل کے درمیان محاذ آرائی کا نام ہے جس میں ایک طرف فضائل اور خوبیاں نظر آتی ہیں اور دوسری طرف رزائل اور برائیاں۔ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں احساسات، جذبات اور عقلانیت ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اربعین کے موقع پر موکب لگانے والے اور بین الاقوامی سطح پر فعال افراد کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے قم دفتر میں ایک نشست کا انعقاد کیا۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اس نشست میں اربعین کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اربعین کی طرف ایک سطحی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے، امام حسین علیہ السلام کی مجلس سیاست و ثقافت کے مختلف میدانوں میں اہم صلاحیتیں رکھتی ہے کہ عام طور پر ہم ان صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتے، زیارت اربعین کو بھی مجلس امام حسین (ع) کی طرح مختلف پہلوؤں سے دیکھنا چاہیے تاکہ اربعین میں پائے جانے والے معرفت کے پہلو اجاگر ہو سکیں۔

انہوں نے مزید کہا: اربعین کے اندر بے شمار صلاحیتیں پائی جاتی ہیں اور جذبات و احساسات کا اظہار ان صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔ کربلا سے زیادہ احساسات اور جذبات پر مبنی تاریخ بشریت میں کوئی واقعہ نظر نہیں آتا جو انسان کے وجود کے اندر انقلاب برپا کر دے، اربعین کے دوسرے پہلو اخلاقی اور عرفانی بھی ہیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: زیارت اربعین کے لیے بہت سارا ثواب ذکر ہوا ہے اور اس میں الہی روحانیت نظر آتی ہے۔ اور زائر، زیارت اربعین کی راہ میں قدم قدم پر خدا سے راز و نیاز کر سکتا ہے اور روح توحید کو اس راستے میں مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اگر کورونا نہ پھیلتا تو اربعین ہر سال پچھلے سے زیادہ شاندار نظر آتا۔

آیت اللہ رمضانی نے امام حسین علیہ السلام کو ایک جامع نمونہ قرار دیا اور کہا: عاشورا عقل و جہل کے درمیان محاذ آرائی کا نام ہے جس میں ایک طرف فضائل اور خوبیاں نظر آتی ہیں اور دوسری طرف رزائل اور برائیاں۔ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں احساسات، جذبات اور عقلانیت ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اربعین کے موقع پر ان تمام جہتوں اور پہلووں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: زیارت عاشورا نے 20 مقام پر ہمیں تولی اور تبرا سکھایا ہے لہذا اربعین کی صلاحیتوں کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اور ان کے عقلانی، تربیتی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے اور کسی بھی صورت میں ان سے غفلت قبول نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اربعین کے بین الاقوامی ہونے کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ البتہ جتنا یہ پہلو وسیع تر ہوتا جائے گا اس میں انحراف زیادہ نظر آئے گا مثال کے طور پر عاشورا اور عزاداری میں بھی بہت سارے غلط نظریات پائے جاتے ہیں جبکہ امام خمینی نے فرمایا کہ عزداری میں ہمارا گریہ بھی سیاسی ہے۔

.............

242