اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ساتویں محرم کو بھی وادی کے اطراف و اکناف میں متعدد مقامات پر جلوس عزا برآمد کئے گئے جن میں عزاداروں کی بھاری تعداد نے شرکت کی جن مقامات پر علم شریف اور تعزیہ کے جلوس برآمد ہوئے ان میں پاٹواوبڈگام ، کری پورہ بڈگام ، وتہ ماگام بیروہ ، آستان پورہ چھترگام چاڑورہ ، سنزی پورہ چاڑورہ، سوٹھ کٹرباغ چاڑورہ و، آستانہ شریف سید صالح ؒیاگی پورہ ماگام، سونہ پاہ بیروہ، میر گنڈ بڈگام، پاریس آباد بڈگام ،امام باڑہ بٹہ چک راجہ محلہ دندوسہ، گنائی محلہ گریند کلان بڈگام، توحیدیہ اسکول شالنہ چاڑورہ ،امام باڑہ پائین محلہ گریند،لبرتل بڈگام ، آستان شریف بابا حیدر علی چاڑورہ ،ڈار محلہ ریشی پورہ بڈگام، اندرون کاٹھی درواز حسن آباد سرینگر، شالیمار، کرالہ پورہ جڈی بل، جے کے پی سی سی اگروباغ سرینگر، آباد پورہ گامدو ، نوگام سوناواری ، کائو پورہ بالا ، بونہ محلہ اندرکوٹ ، گگلو محلہ ذالپور،مدون ، اوڑینہ سوناواری، لالہ حاجی اوڑینہ ،چھانہ محلہ پائین نوگام،دیورہ بارہ مولہ،ملہ پورہ دوسلی پورہ پٹن بارہ مولہ،وکھرون پلوامہ شامل ہیں۔
علم شریف کا سب سے بڑا جلوس حسب عمل قدیم اندرون کاٹھی دروازہ رعناواری سرینگر سے برآمد ہوکر قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں اختتام پذیر ہوا جس میں حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے بھی شرکت کی پاٹواو بڈگام میں برآمد جلوس عزا میں شامل عزادروں سے خطاب کرتے ہوئے آغا مجتبیٰ نے معرکہ کربلا کے اسباب اور محرکات بیان کئے اور موجودہ زمانے میں عزاداری کی مجالس اور ماتمی جلوسوں کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کیا انہوں نے کہا کہ عزا داری ایک تحریک ہے اور شہداے کربلا ؑ کے مصائب پر گریہ کرنا ایک مسنون عمل ہے تاہم عزاداری اور گریہ ہمارا مقصد اور ہدف نہیں بلکہ یہ منزل اور اہداف کے حصول کا ایک ذریعہ ہے جو ہمیں حضرت امام حسین ؑ کے کربلائی مشن اور کردار و عمل کی طرف متوجہ کرکے ہمارے احساس ذمہ داری کو زندہ رکھتاہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲