26 جون 2021 - 13:04
منشیات اسمگلروں کے خلاف سخت کاروائی وقت کی اہم ترین ضرورت: اتحاد المسلمین

مولانا عباس انصاری نے کہا کہ صرف یوم عالمی یوم انسداد منشیات منانے سے اس سنگین مسئلہ پر قابو نہیں پایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر//جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سربراہ و بزرگ حریت رہنما مولانا محمد عباس انصاری نے عالمی یوم انسداد منشیات کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ریشیوں اور اولیاء کرام کی مقدس سرزمین منشیات کی ناپاک منڈی میں تبدیل ہو گئی ہے جو انتہائی تشوشناک ہے۔ مولانا نے کہا کہ منشیات کے ناجائز کاروبار کرنے والوں کو یہاں کھلی چھوٹ دی جارہی تاکہ وہ اس زہر کو بھیج کر یہاں کی نوجوان نسل کو جسمانی اور ذہنی طور پرمفلوج اور اپاہج بنادیں۔

انہوں نے سرزمین کشمیر پر منشیات کی جانب بڑھتے ہوئے رحجان پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ ایک اجتماعی و معاشرتی مسئلہ بن گیا ہے اور اس ناسور سے نمٹنا ایک بہت بڑاچلینج ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگین جرائم کی اصل جڑ منشیات ہے اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں سرکاری و سماجی سطح پرشدید کوتاہیاں اور لاپرواہیاں برتی جارہی ہیں۔ مولانا محمد عباس انصاری نے کہا کہ یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ والدین کی لاپرواہی اور عدم توجہی کے باعث ہمارے دسیوں ہزار نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس ناسور کے عادی ہوگئے ہیں اور اس کا تدارک کرنے کے بجائے والدین، ذی شعور افراد اور سرکاری ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ دین اسلام بھی منشیات کی سخت نفی کرتا ہے اور اسے حرام قرار دیتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک طرف سے اسلامی معاشرہ ہونے کا دم بھر رہا ہے تو دوسری جانب بے دریغ منشیات کا استعمال کررہا ہے۔

مولانا نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جس طرح پر امن طور پر جائز حق مانگنے والوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے اگر اسی طرح منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جاتی تو اس ناسور کا خاتمہ یقینی بن جاتا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ منشیات کے اسمگلروں کو تباہی مچانے کی کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جس کے باعث ان کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ منشیات اسمگلروں کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور سماج کے تمام طبقے بشمول ذی حس افراد، علمائے کرام، دانشورحضرات اور سول سوسائٹیاں اس بدعت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اپنامثبت کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ صرف یوم عالمی یوم انسداد منشیات منانے سے اس سنگین مسئلہ پر قابو نہیں پایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲