اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی- ابنا - کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران میں فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے نمائندے ناصر ابو شریف نے بدھ [12 مئی 2021ء] کے روز "القدس اقرب" کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: صہیونی-یہودی ریاست کے خاتمے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔
انھوں نے حالیہ چند دنوں کے دوران مقبوضہ فلسطین میں جاری صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ایک صدی سے دباؤ کی مختلف صورتوں کو برداشت کررہے ہیں، ہمیں سرزمین کے حوالے سے بھی دباؤ کا سامنا ہے اور انسانی لحاظ سے بھی۔ جو اقدامات یہودی ریاست نے کئے ہیں وہ حتی کہ شیطان کو بھی نہیں سوجھتے، لیکن ان تمام سازشوں اور شرانگیزیوں کے باوجود آج فلسطین میں ہماری آبادی ستر لاکھ ہے۔ انتفاضہ کا آغاز ہوچکا ہے اور اس بار 1948 کے زمانے کے مقبوضہ فلسطین کے عوام نے بھی انتفاضہ میں فعال شرکت کی ہے۔ ہمیں "اللد" کے علاقے کے عوام سے ہرگز یہ توفع نہ تھی کہ اس قدر مؤثر انداز سے سفاک یہودی ریاست کے سامنے کھڑے ہونگے۔ یہ وہ مستضعف لوگ ہیں جو ہمیشہ سے غاصب دشمن کے نشانے پر رہے ہیں اور ہمیشہ سے محاصرے میں تھے۔
غزہ کی پٹی سات اطراف سے محاصرے میں ہے، شمال، جنوب، مشرق اور مغرب سے بھی اور زمین، فضا اور سمندر سے بھی۔ صہیونی دشمن نے زمین میں چھپ کر سننے (Eavesdropping) کے آلات نصب کئے ہیں، اور فضا میں ہر وقت اس کے مختلف قسم کے طیارے اور ڈرون محو پرواز ہیں۔ یہودی ریاست نے زمین، فضا اور سمندر کی طرف سے غزہ کو گھیر لیا ہے اور باریک سی گذرگاہ کو مصر نے گھیر لیا ہے۔ انھوں نے زمین کی اتہاہ میں کنکریٹ ڈال دیا ہے اور مصریوں نے بھی زمین میں لوہے اور دھاتوں کی دیواریں بنا رکھی ہیں تاکہ فلسطینی مصر کی طرف کوئی سرنگ نہ بنا سکیں۔ یہ تمام ظالمانہ اور غیر انسانی اقدامات اس علاقے کے عوام کی طاقت اور استقامت کی علامت ہیں کہ اتنے شدید محاصرے کے باوجود آج تک دشمن کے سامنے جمے ہوئے ہیں اور زبردست مزاحمت کررہے ہیں۔
فلسطین میں جنگ افرادی قوتوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ یہ ایک خدائی جنگ ہے۔ گوکہ ہم مستضعف اور مالی وسائل سے محروم ہیںاور غزہ کے پاس وسائل کی شدید کمی ہے، پینے کے پانی کی شدید قلت ہے اور غزہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے لیکن ان تمام مسائل کے باوجود، یہاں کے عوام کی روش اللہ کی بندگی اور استقامت و مزاحمت پر استوار ہے، اور یہی عبودیت اور مزاحمت، فتح و کامیابی کی ضمانت ہے۔
غزہ میں ایسا کوئی بھی خاندان نہیں ہے جس کا کوئی فرد شہید نہ ہؤا ہو۔ ایک ماں پانچ فرزندوں کو کھو چکی ہے، ایسے گھرانے بھی ہیں جن کے کئی افراد دشمن کے ہاتھوں اسیر ہیں، اور کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ غاصب یہودی ریاست اسلامی مزاحمت کے معاشرتی ساخت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے لیکن فلسطینی عوام آج تک افسانوی مزاحمت کا ثبوت دے چکے ہیں۔ فلسطینی عوام کو مدد کی ضرورت ہے۔
بےشک ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو ہمیں اللہ نے عطا کیا ہے اور یہ انقلاب اسلامی جمہوریہ کے قیام پر منتج ہؤا جس کی برکت سے ایران علاقے کے اسلامیانے (Islamization) کے عظیم منصوبے کا مرکز بن گیا۔ اور ایران نے تمام سطحوں پر فلسطینی عوام کی مدد کی اور ایران آج ہماری تمام کامیابیوں اور فتوجات میں شریک ہے۔ تازہ ترین سروے رپورٹوں کے مطابق فلسطین کے 88٪ عوام فلسطین میں یہودی ریاست کی موجودگی کے خلاف ہیں۔
ہم مقاومت (مزاحمت) کی کاٹتی ہوئی دھار، تیر کی نوک اور ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ لوگ روح و جان کے ساتھ اور مادی، روحانی اور نفسیاتی لحاظ سے ہمارے ساتھ ہیں؛ اور خدا کا شکر ہے کہ منافقین اور ساز باز کرنے والوں کے چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ غدار عرب ذرائع ابلاغ اور یہودی ریاست کے حامی برقی مکھیاں، خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں۔
جناب ابو شریف نے آخر میں کہا: میں زور دے کر کہتا ہوں کہ یہودی ریاست کے خاتمے اور نابودی کی الٹی گنتی کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس بار خاموشی مکمل ہے اور یہودی ریاست کی مکمل شکست بہت قریب ہے۔ ہم اللہ کے اذن سے قدس کے قریب ہیں، جیسا کہ یہاں دیوار پر لکھا نظر آرہا ہے "القدس اقرب" (قدس بہت ہی قریب ہے)۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔
110
13 مئی 2021 - 09:46
News ID: 1140424
اسلامی جمہوریہ ایران میں فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے نمائندے ناصر ابو شریف نے "القدس اقرب" کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: صہیونی-یہودی ریاست کے خاتمے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور اللہ کے اذن اور نصرت سے، فتح قریب ہے؛ قدس بہت ہی قریب ہے۔