28 مارچ 2021 - 10:03
میانمار میں آمریت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فوج تشدد، 90 سے زائد ہلاک

میانمار میں آمریت کے خلاف جاری مظاہروں کے شرکا پر فوج کی فائرنگ سے مزید 90 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق یکم فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین ینگون، منڈالے اور دیگر قصبوں کی سڑکوں پر نکل آئے۔

میانمار کے جرنیلوں کی جانب سے 'مسلح افواج کا دن' منایا گیا اور ساتھ ہی مظاہرین کے لیے انتباہ جاری کیا گیا کہ انہیں باہر نکلنے پر 'سر اور پیٹھ میں گولی' لگ سکتی ہے۔

معزول قانون سازوں کی قائم کردہ فوج مخالف گروپ سی آر پی ایچ کے ترجمان ڈاکٹر ساسا نے ایک آن لائن فورم کو بتایا کہ 'آج کا دن مسلح افواج کے لیے شرم کا دن ہے'۔

ہفتہ کا دن، جو فوجی بغاوت کے بعد سب سے خونی دن تھا، ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ملک میں فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 400 سے زائد ہوگئی ہے۔

میانمار کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی صبح سویرے ینگون ڈالا کے نواحی علاقے میں پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے ہجوم پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹس میں کہا گیا کہ میانمار کے شہر منڈالے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد میں پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

میانمار ناؤ نیوز پورٹل کے مطابق ملک میں ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے تھ 91 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔
نیوز پورٹل نے بتایا کہ کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔

دارالحکومت نیپائٹاو میں 'آرمڈ فورسز ڈے' کے موقع پر فوجی پریڈ کی صدارت کرنے کے بعد سینئر جنرل من آنگ ہیلنگ نے بغیر کوئی ٹائم فریم دیے ہوئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔

سرکاری فوج نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات میں کہا کہ 'فوج جمہوریت کے تحفظ کے لیے پوری قوم کے ساتھ کھڑی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے عوام کی حفاظت اور ملک بھر میں امن کی بحالی کے لیے بھی کوشش کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲