4 اکتوبر 2020 - 20:37
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ ساتویں قسط

کئی ممالک میں شیعیان اہل بیت(ع) پر دباؤ میں شدید اضافہ ہوا، کئی مقامات پر شیعہ اور سنی کے درمیان تناؤ کی فضا تصادم کی طرف بڑھی اور سرزمین حرمین کے شیعیان اہل بیت(ع) کے لئے عرصۂ حیات تنگ ہونے لگا؛ یہاں تک کہ علماء اور مراجع تقلید کو اس پر رد عمل ظاہر کرنا پڑا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ سے پیوستہ
17۔ فدک چینل: کویتی شہری "یاسر یحیی عبداللہ الحبیب" المعروف بہ "یاسر الحبیب" اس چینل کا ڈائریکٹر ہے۔ یہ شخص 1977ع‍ میں کویت میں پیدا ہوا، اس نے جامعۂ کویت سے سیاسیات میں گریجویشن کے بعد صرف 22 سال کی عمر میں "ہیئت خدام المہدی" کی بنیاد رکھی اور صرف تین سال بعد مذہبی افراط اور انتہا پسندیوں کی وجہ سے کویت نے اس کی شہریت منسوخ کردی، اس کی انجمن یا ہیئت پر پابندی لگائی اور اسے جیل بھیج دیا۔
مگر یہ نوجوان بہت گستاخ تھا جبکہ انگریزی ایم آئی 6 کو ویسے بھی اس طرح کے لاپروا نوجوانوں کی تلاش رہتی ہے اور پھر حیرت کی بات یہ کہ دنیا بھر کو آگ لگانے والے اور کروڑوں انسانوں اور اقوام و ممالک کو نیست و نابود کرنے والے برطانیہ اور امریکہ کے ہاں "انسانی حقوق" کے ادارے بھی ہوتے ہیں جنہیں عالمی سطح پر لاکھوں کروڑوں مظلومین کو چھوڑ کر یاسر الحبیب کا انسانی حق نظر آیا جسے کویتی حکومت نے پامال کیا تھا!! یقینا کویتی حکمرانوں کو بھی حیرت ہوئی ہوگی کہ کویت ہی کے عقوبت خانوں میں درجنوں افراد کو تشدد برداشت کرنا پڑ رہا تھا مگر انھوں نے اس شخص کو ہی انسان سمجھا؛ لیکن کویتی حکمران جانتے تھے کہ امریکہ اور برطانیہ کی خواہش کی مخالفت "آ بیل مجھے مار" کے مترادف ہے چنانچہ انھوں نے یاسر حبیب کو تین مہینے جیل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ یاسر حبیب اس مختصر سے عرصے میں "شیخ" بھی بن چکا تھا؛ مگر زیادہ حیرت انگيز بات یہ تھی کہ برطانیہ اور امریکہ نے کویت سے اس شیخ کی شہریت کی بحالی کا تقاضا ہی نہیں کیا!!!
خود اعلان کردہ نوجوان مولوی کویت کی جیل سے رہا ہوکر برطانیوں کا رفیق کار بن گیا؛ نشانی یہ کہ اس نے فوری طور پر برطانیہ میں سیاہ پناہ لے لی اور اس ملک کے شمالی علاقے کی طرف چلا گیا۔ اس بےنام و نشان اور تنگدست شخص کو لندن میں قیام پذیری کے لئے دو سال کا عرصہ درکار تھا؛ جہاں سے اس نے انگریزی سرکار کی مدد سے shianewspaper نامی اخبار بھی شائع کیا، "امامین عسکریین" کے نام سے دینی مدرسے کی بنیاد بھی رکھی، اور برطانوی حکومت کی پشت پناہی میں "فدک" نامی سیٹلائٹ چینل کی بنیاد بھی رکھ لی۔ سنہ 2010ع‍ میں اس کی انجمن کے مرکزی دفتر کی بنیاد بھی رکھ دی گئی لندن کی بڑی امام بارگاہ "حسینیۂ سیدالشہداء" اس کے حوالے کی گئی اور ایک نئی عمارت کو اپنے مدرسے، دفتر، فدک چینل اور shianewspaper کا مشترکہ مرکز بنانے کے لئے اس نے حاصل کرلیا۔
اس لندنی چینل نے ایک بار اعلان کیا کہ "آج ہم عائشہ کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں(!)" اور انگریزی شیعوں کو توقع تھی کہ یہ اعلان ایک "کوڈ لفظ" کے طور پر لندن میں ایک بڑے اجتماع کے انعقاد کا سبب بنے مگر ان کے مٹھی بھر ہم فکر افراد لندن میں اکٹھے ہوئے اور زوجۂ رسول(ص) کی توہین اور بےحرمتی کی۔ عراق، حجاز، لبنان، پاکستان اور شمالی افریقی ممالک کے ذرائع ابلاغ نیز تکفیریوں اور وہابی چینلوں اور ویب گاہوں نیز سماجی رابطے کی ویب سائٹوں میں وسیع تشہیر کی گئی اور البتہ حجاز پر مسلط بعض وہابی مفتیوں نے یاسر الحبیب کے اس اقدام کا دبے لفظوں میں خیرمقدم کیا اور مبہم انداز میں یاسر الحبیب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "جو کام ہم برسوں میں نہیں کرسکتے تھے وہ یاسر الحبیب نے کرکے دکھایا؛ ہمیں عرب ممالک میں تیز رفتاری سے مذہب شیعہ کے فروغ کا مسئلہ درپیش تھا اور ہم اس کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوچکے تھے لیکن یاسر الحبیب نے تشیّع کی اس لہر کو روک لیا ہے"۔
کئی ممالک میں شیعیان اہل بیت(ع) پر دباؤ میں شدید اضافہ ہوا، کئی مقامات پر شیعہ اور سنی کے درمیان تناؤ کی فضا تصادم کی طرف بڑھی اور سرزمین حرمین کے شیعیان اہل بیت(ع) کے لئے عرصۂ حیات تنگ ہونے لگا؛ یہاں تک کہ علماء اور مراجع تقلید کو اس پر رد عمل ظاہر کرنا پڑا۔
آخرکار، سرزمین حجاز کے شیعہ علمائے کرام نے زوجۂ رسول(ص) عائشہ بنت ابی بکر کی توہین کے سلسلے میں، رہبر معظم آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) سے استفتاء کیا جس پر آپ نے درج ذیل فتوی جاری کیا:
"اہل سنت برادران کے مقدسات، منجملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ کی زوجہ پر بہتان باندھنا حرام ہے۔ یہ موضوع تمام انبیاء اور بالخصوص سید الانبیاء پیغمبر ا‏عظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی ازواج پر صادق آتا ہے"۔
امام خامنہ ای کے اس فتوی نے لندن نشین فتنہ گروں کی آتشِ فتنہ کو ٹھنڈی خاکستر میں بدل دیا اور ایم آئی 6 کی اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ اس فتوی کو بھی دنیا بھر کے مسلمانوں ـ بالخصوص اہل سنت ـ سے وابستہ ذرائع ابلاغ میں وسیع کوریج ملی۔

بقلم ابواسد

............

۱۱۰