14 جولائی 2020 - 15:00
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے ’’حجاب و عفت‘‘ کے زیر عنوان آنلاین بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

ایران میں شاہی حکومت کے دور میں مقدس شہر مشہد میں واقع ’مسجد گوہر شاد‘ میں ہونے والے خونریز واقعے کی یاد منانے کے لئے ’’حجاب و عفاف‘‘ فاؤنڈیشن نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور لبنان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلیٹ کے باہمی تعاون سے ایک نشست کا انعقاد کیا۔

 اہل بیت نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق ’’حجاب اور عفت عزت اور وقار کی علامت‘‘ کے موضوع پر آنلاین ہونے والی نشست میں ایران، بحرین، لبنان، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، گینی کوناکری، بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے فعال ثقافتی کارکنوں نے شرکت کی۔
لبنانی خاتون صحافی ’’سوزان خلیل‘‘ نے میزبانی کا فریضہ انجام دیا۔ جبکہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے لبنان میں ایرانی کلچرل قونصلر عباس خامہ یار نے حجاب کی اہمیت اور افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حجاب آزادی کی علامت ہے۔ انہوں نے نشست کے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور ’یوم حجاب و عفت‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہی حکومت اتاترک کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے خواتین کو حجاب سے محروم کرنا چاہتی تھی۔ طاغوتی حکومت کو گمان تھا کہ اس کے اہداف حاصل ہوگئے ہیں۔ آج بھی بعض روشن خیال افراد حجاب کو خواتین پر ظلم سمجھتے ہیں حالانکہ حجاب آزادی کا ضامن اور انسانی وقار کی علامت ہے۔ حجاب کی آغوش میں ہی عورت معاشرے میں اپنے وجود کا اظہار کرسکتی ہے۔
انہوں نے عورت کے بارے میں اسلام اور مغرب کے نظریات اور مغربی معاشرے میں عورت کے مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے امام خمینی کے اس فرمان کی طرف اشارہ  کیا کہ مرد عورت کے دامن سے ہی عروج کی طرف جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حجاب فقط شرعی اور مذہبی فریضہ نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اسلام کے علاوہ مسیحیت جیسے مذاہب میں بھی راہبہ خواتین حجاب کی پوری رعایت کرتے ہوئے نامحرموں کی نظروں سے دور رہتی ہیں۔


آنلاین نشست سے خطاب کرتے ہوئے ’’حجاب و عفاف‘‘ فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل اور اہل بیت(ع) عالمی کونسل کی سپریم کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور تحفظ حجاب کی راہ میں قربان ہونے والے مسجد گوہر شاد کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حجاب و عفت کے موضوع پر ہونے والی یہ پہلی کانفرنس ہے۔ آئندہ بھی اس موضوع پر مختلف اوقات میں نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا جس کے لئے بروقت اطلاع دی جائے گی۔
آیت اللہ اختری نے بعض یورپی ممالک میں حجاب کے خلاف قانون سازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان عورت حجاب کے ذریعے اپنی شخصیت اور وقار کی حفاظت کرسکتی ہے۔ حجاب جیسے اہم مذہبی شعائر کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان میدانوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ایسی نشستیں حجاب جیسے اہم موضوع کے بارے میں تبادلہ خیال اور سوال و جواب کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران آیت اللہ اختری نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی جانب سے یورپی جوانوں کے نام خط کے اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حجاب و عفت کے بارے میں ان کے نظریات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حجاب و عفت کی ترویج کے لئے فعال افراد کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ حجاب کی ثقافت کو عام کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲