18 مارچ 2020 - 10:55
کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی پھیپھڑوں کی چوٹوں کا علاج دریافت

ڈاکٹر مصطفی قانعی نے کہا ہے کہ "ہم کورونا میں مبتلا مریضوں کے پھیپھڑوں کی چوٹ کے علاج کے لئے ادویاتی مرکب تیار کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انسداد کورونا وائرس اسٹاف کی سائنسی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مصطفی قانعی کا کہنا تھا کہ نئی دوا کورونا میں مبتلا بیماروں کے اسپتالوں میں رہنے کی مدت کم کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے اور کورونا میں مبتلا مریضوں کو اب صرف چار دن تک اسپتال میں رہنے اور صحت یاب ہونے کے بعد فارغ کیا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ پھیپھڑوں کی چوٹ، پھیپھڑوں پر کورونا وائرس کے حملے کے بعد، لگتی ہے جس کے نتیجے میں مریض کو ICU تک بھی جانا پڑتا ہے اور بعض اوقات تو یہ چوٹ مریض کے جاں بجق ہونے کا سبب بھی بنتا ہے اور یہ نیا ادویاتی مرکب (Medicinal compound) کی مدد سے یہ مشکل حل ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر  قانعی کا کہنا تھا کہ یہ ادویاتی مرکب آج قومی انسداد کورونا کو متعارف کروایا گیا اور آخرکار وزیر صحت کو بھی پیش کیا گیا اور خوش قسمتی سے اس مرکب کے استعمال کو کورونا کے مریضوں کے علاج کے ابتدائی مرحلے کے طور پر منظور کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا: کورونا کے جن مریضوں کو یہ دوا دی گئی ہے ان میں سے 40 فیصد افراد چار روز اسپتال میں رہ کر صحت یاب ہوئے ہیں اور اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔
ڈاکٹر قانعی نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک مفصل تحقیقی مقالہ تحریر کیا جا چکا ہے جو بہت جلد شائع کیا جائے گا تاکہ کورونا میں مبتلا دنیا بھر کے مریضوں کے علاج میں معالجے میں مدد دی جاسکے۔

واضح رہے کہ کورونا کے علاج کے لئے کوئی خاص دوا ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے اور زیادہ مریضوں کا علاج دستیاب دواؤں سے کیا جارہا ہے اور ایرانی ڈاکٹروں کی تیار کردہ مرکب دوا کورونا کے نتیجے میں پھیپھڑوں پر لگنے والی چوٹوں اور زخموں کے علاج کے لئے ہے؛ لیکن اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہی چوٹیں ہی بیماروں کے ICU میں چلے جانے اور بعض اوقات موت کا باعث بنتی ہیں۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110