اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی کی ایک نیوز ایجنسی اے جی آئی A.G.I نے جنرل شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے سلسلہ سے تحریر کئے گئے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل کا یہ نیا اقدام امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی طریقوں اور معیاروں کو کمزور بنانے اور واشنگٹن کے ایک سرکش حکومت میں تبدیل ہو جانے کی علامت ہے۔
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: باوجود اس کے کہ امریکہ کی حکومت نے بغیر سوچے سمجھے سردار سلیمانی کو ایک دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی لیکن” حقیقت تو یہ ہے کہ مشرق وسطی میں قاسم سلیمانی کو زیادہ تر صحیح یا غلط جو بھی ہو لیکن ایک ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا تھا جن خصوصیات کی نسبت جنرل سلیمانی کو دی جاتی ہے انکے تحت یہ شخصیت اپنے دشمنوں کے درمیان بھی احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی تھی ۔
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے شہید قاسم سلیمانی کی خصوصیات اور انکی فوجی و عسکری ذہانت و نبوغ کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایران میں ایک قومی ہیرو کے طور پر دیکھے جاتے تھے ایسی شخصیت کے طور پر انہیں لوگ مانتے تھے جو فقیروں اور امیروں ، مومنوں اور غیر مومنوں، ایران کے انقلاب کے حامیوں اور مخالفوں سبھی کو آپس میں جوڑ سکتی تھی ۔
امریکہ ایک سرکش حکومت کا روپ دھارن کر رہا ہے
اس اطالوی قلمار نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ شہید قاسم سلیمانی ہمیشہ معمولی فلائٹ سے سفر کرتے تھے اس سب کے باوجود اسرائیل کی بھی جرات نہ تھی کہ اس جنرل کو نشانہ بناتا، آگے لکھا ہے ” شہید سردار سلیمانی کو نشانہ بنانے والے امریکہ کے اس بغیر سوچے سمجھے مذموم اقدام نے اسرائیل کے علاوہ ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن جو چیز یورپ کے لئے سب سے زیادہ بے چینی کا سبب ہے وہ یہ ہے ایک ملک جو کہ کسی زمانے میں مغرب کا آئیڈیل تھا دھیرے دھیرے ایک سرکش ملک میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے ایک ایسے ملک کی صورت ڈھل رہا ہے جو اپنے مفادات کو بین الاقوامی ضوابط ،قرار دادوں و کنوینشن پر ترجیح دیتا ہے ۔
امریکہ کی عسکری اور اقتصادی طاقت اب اسکی ذمہ دارانہ قیادت کا وسیلہ نہیں ہے بلکہ اسکی یہ طاقت اسکی چودراہٹ و ہٹ دھرمی کا سبب ہو گئی ہے۔
تجزیہ نگار نے آگے چل کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل کا فیصلہ وہائٹ ہاووس میں موجود ایک بہت چھوٹے سے دھڑے نے لیا اور وہ بھی اس حالت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ کسی جنگ میں مشغول نہیں تھا اور یہ قتل بھی ایک تیسرے ملک میں انجام پایا۔
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ امریکن کانگریس کو اس فیصلہ کا علم نہیں تھا آگے لکھا ہے کہ ” واضح ہے کہ امریکہ کے حلیف ممالک کو بھی یہ بات نہیں بتائی گئی تھی ۔
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے مزید لکھا ہے کہ۱۱ ستمبر۲۰۰۱ میں نیو یارک کے ایک تجارتی مرکز پر امریکی حملے کے بعد امریکہ کے صدر جمہوریہ کے اختیارات اس طرح کے حملوں کو لیکر اس قدر بڑھا دئے گئے کہ حتی روس کے صدر جمہوریہ پوٹین اور چین کے صدر جمہوریہ جین پینگ تک کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ جہاں چاہیں دھاوا بول دیں، یہی بات سبب بنی کہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھتے ہوئے بغداد میں امریکی سفارت پر مظاہرین کے حملے کے رد عمل کے طور پر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا فرمان صادر کر دیا۔
وہ کیڑے جو امریکہ کی ڈموکراسی کو کھا رہے ہیں
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے اپنی تحریر میں مذکورہ باتوں کے بعد ایسے کیڑوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو انکے بقول امریکہ کی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں ، وہ کیڑے جو امریکہ کی ڈیموکریسی کو کھائے جا رہے ہیں ایسے کیڑے ہیں جو امریکہ کے سیاست مداروں کے درمیان ہمہ گیر فساد سے وجود میں آئے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جسے ۲۰۱۲ ء میں امریکہ کی عدالت عظمی کی جانب سے بھی لیپ پوت کر برابر کر دیا گیا، چنانچہ عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے حکم کے مطابق امریکہ کے بنیادی دستور العمل کی روشنی میں فردی آزادی کی بنیاد پر سیاست مداروں اور انکی کمپنیوں کے سرمایہ کاروں کولا محدود مالی تعاون کی اجازت حاصل ہوگی فاینانشل ٹائمز کی جانب سے اس سلسلہ سے ہونے والی جانچ پڑتال کی ایک رپورٹ کے مطابق اس اجازت کے بعد کہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی حکمرانوں کی اعانت میں اب کوئی بندش و حد نہیں رہے گی ،امریکہ کانگریس کے ہر نمائندہ کو اپنے کام کے اوقات کا ۶۰ فیصد حصہ اس بات میں لگا رہا ہے کہ کیسے ان سورسز کو تلاش کیا جائے جہاں سے مدد مل سکتی ہے لہذا ۶۰ فیصد کا حصہ مالی تعاون کو اکھٹا کرنے میں لگتا ہے اور محض ۴۰ فیصد ہی ملک کے لئے صرف ہوتا ہے۔
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے اپنی اس تحریر میں امریکہ میں لابیوں کے رول پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ مختلف لابیوں کو بنانے والی تنظیموں کا رول اب امریکہ کی داخلی وبیرونی سیاست کی تعیین میں حق رائے دہی کے استعمال تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس سے ماوراء ہو چکا ہے اور اب یہ مختلف لابیاں ہیں جو واشنگٹن کو بین الاقوامی مراکز کو کمزور کرنے کی طرف ڈھکیل رہی ہیں۔
اس اطالوی صحافی نے اقوام متحدہ ، عالمی تجارت کی منڈی ، بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کو ان مراکز کے طورپر پیش کیا ہے جنہیں امریکہ مسلسل کمزور کرتا جا رہا ہے ، مارکو امبروگی Marco Ambrogi کے بقول اقوام متحدہ کے اراکین کی جانب سے صہیونی رجیم کے ناجائز قبضوں کی مخالفت، عالمی تجارت کی تنظیم کے آزاد تجارت پر مبتنی قوانین، اور صہیونی رجیم کے جنگی جرائم کے سلسلہ سے بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کی جانب سے تحقیق کا مطالبہ یہ وہ چیزیں جنکے سبب واشنگٹن ان تمام مراکز سے مقابلہ کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے جو مستقل سوچ رکھتے ہیں یا مقبوضہ فلسطین کے بارے میں امریکہ کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں ۔
امریکہ نے یورپ کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے اپنی تحریر میں آگے چل کر امریکہ کے غیر قانونی طرز عمل کے مقابل یورپ کی سخت مشکل کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے” ان حالات میں ہم یورپ کے لوگ اپنے آپ کو ایک سخت و دشوار حالت میں پا رہے ہیں ،ہم وہی ہیں کہ جنہوں نے امریکہ کی چھتر چھایہ میں مدہوشی کے عالم میں ایک رفاہ و چین و سکون کا طولانی دور گزارا ہے، آج ہم ایک ایسے ملک کے سامنے خود کو بے بس پا رہے ہیں جسے ہم نے بین الاقوامی اتحاد کا رہبر قرار دیا تھآ، آج ہم بین الاقوامی رہبر کے حد سے تجازو کرنے والے اقدامات کے سامنے بے دفاع و بے بس ہیں ۔
اطالوی روزنامہ نگار نے آگے لکھا ہے کہ ” جب ریاست ہائے متحدہ عالمی تجارت کے ادارہ (World Trade Organization) WTO کی جانب سے بیان کئے گئے مراحل کو طے کئے بغیر حتی مذاکرات سے بھی پہلے ہماری اجناس پر کسٹم لگا دیتا ہے ،جب امریکہ یورپ کی ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیتا ہے جو امریکہ کے قوانین کو نہیں مانتیں، جب گیس پائپ لائن کے پراجیکٹ پر عمل کرنے والی نورث اسٹریم نامی کمپنی کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ چاہتے ہیں کہ اپنی ٹیکلنالوجی کو ہم پر تھوپیں اور نشانہ لیتے ہوئے ایک مخصوص خدمت پہنچانے والی ٹکنالوجی کی حامل کمپنی پر دباو بنائیں، جب فرانس کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر تم نے امریکی ٹکنالوجی کی حامل بڑی بڑی کمپنیوں کے انٹرنیٹ پر کوئی ٹیکس لگایا تو امریکہ کی جانب سے رد عمل سامنے آئے گا، تو ایسی صورت میں ہم اپنے آپ کو ناگہاں کمزور پاتے ہیں اور صرف اپنی زبان سے ان باتوں کی مخالفت کر سکتے ہیں ۔
مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے مزید لکھا ہے کہ ” کل ملا کر ان باتوں کا نتیجہ یہی ہے کہ ہم یورپ کے لوگ اپنے سامنے دشوار و سخت آپشنز کو دیکھ رہے ہیں ایسے آپشنز جنکے لئے نہ ہی ہم نے کوئی تیاری کی ہے اور نہ ہی رائے عامہ کے لئے انکا ہضم کرنا ہی آسان ہے ، اس صورت حال کا واحد مثبت پہلو بس یہی ہے کہ یہ حالت یورپی پراجیکٹ کی تقویت کی ضرورت کو بتا رہی ہے اور یہ کام محض مشترکہ مفادات پر ہونے والی یلغار کے دفاع کے پیش نظر نہیں ہے بلکہ اس ہزار سالہ فرہنگ و تمدن کے پیش نظر جوآج خطرے کی زد پر ہے ،یہ حالت ہم سے کہتی ہے کہ اپنے تمدن اور اپنے فرہنگ کو بچانے کے لئے ہمیں کچھ کرنا ہوگا ۔
آخر میں مارکو امبروگی Marco Ambrogi نے سردار شہید جنرل سلیمانی کی دہشت گرد تنظیم داعش سے لڑائی و جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شہر موصل میں اس دہشت گرد تنظیم کو شکست دینے میں ایران کے ممتاز رول کے باوجود امریکہ میں موجود اسرائیل کی لابیوں نے امریکہ کو ایٹمی معاہدے سے نکل جانے پر اکسایا اور واشنگٹن نے ان تمام کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں جو ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کاتعاون کر رہی تھیں اس اطالوی قلم کارنے یورپ کو نصحیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو راضی رکھنے کی سیاست سے ہاتھ اٹھا لیں اس لئے کہ اس سیاست کا جو بھی نتیجہ رہا ہے وہ سامنے ہے اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔
https://www.agi.it/blog-italia/idee/morte_soleimani_guerra_iran_usa-6846083/post/2020-01-08/
https://www.farsnews.com/news/13981028001026/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطالوی نیوز ایجنسی؛
قاسم سلیمانی کا قتل امریکی انتظامیہ کے ایک سرکش و ہٹ دھرم حکومت میں ڈھل جانے کا عندیہ ہے
21 جنوری 2020 - 07:09
News ID: 1004143
تجزیہ نگار نے آگے چل کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل کا فیصلہ وہائٹ ہاووس میں موجود ایک بہت چھوٹے سے دھڑے نے لیا اور وہ بھی اس حالت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ کسی جنگ میں مشغول نہیں تھا اور یہ قتل بھی ایک تیسرے ملک میں انجام پایا۔