10 جنوری 2014 - 20:30
شام: عورتوں کے بھیس میں "مجاہدین" کے فرار کا ایک واقعہ اور، النصرہ کا کمانڈر گرفتار + دلچست تصویریں

یہ شخص "ابو انس الصحابہ" کہلواتا تھا اور میدان جنگ سے بھاگنے کے لئے عورتوں کے لباس میں ملبوس ہوکر شام سے لبنان بھاگتا ہوا حراست میں لیا گیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سماجی ویب سائٹون نے شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم کے مقامی کمانڈر کی تصویریں شائع کی ہیں جو جان بچانے کے لئے خواتین کا لباس پہنے ہوئے تھے لیکن سرکاری اہلکاروں نے اس کو گرفتار کرلیا۔ القاعدہ کا یہ "باعث فخر" کمانڈر حال ہی میں سرکاری فورسز کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے الرقہ سے بھاگ کر لبنان میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ "سوریا الآن" لائن نے لکھا ہے کہ اس شخص نے اپنا نام ابو انس الصحابہ بتایا ہے، اس نے "جوسیہ" چیک پوسٹ سے گذرنے کے لئے  خواتین کی طرح اپنے ابرو صاف کرائے تھے، اور میک اپ کرکے اور خواتین کا لباس اور نقاب پہن کر نکلنا چاہتا تھا لیکن سرکاری اہلکاروں نے اس کو مشکوک پاکر روکا اور معلوم ہوا کہ وہ بدنام دہشت گرد اور الرقہ کے عوام کا قاتل اور اور اس شہر میں القاعدہ کی ذیلی دہشت گرد تنظیم کا مقامی کمانڈر ہے۔ یہ دہشت گرد شمالی اردن کے شہر "الزرقاء" کا رہائشی ہے جو قبل ازیں "ابو جیلید الطوباسی" کے نام سے رقہ میں دہشت گرد تنظیم کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔  اس شامی ویب سائٹ نے لکھا ہے: ابو انس نے رقہ میں کہا تھا کہ "الرقہ" کے عوام کو جب اشیاء خورد و نوش کی ضرورت ہوتی ہے تو انہیں اپنی بیویاں جبہۃالنصرہ (القاعدہ) کے "مجاہدین" کے سپرد کرنی پڑتی ہیں!۔ (اندازہ کریں وہابی اسلام کا)۔  مصر ميں القاعدہ کے ایک تربیتی کیمپ کے کمانڈر "نبیل نعیم" نے بعض دستاویزات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں "جبہۃالنصرہ" کا سرغنہ امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہے؛ تاہم القاعدہ کے ایمن الظواہری نے جبہۃالنصرہ کو اپنی ذیلی تنظیم قرار دیا ہے اور اگر نبیل نعیم کی بات درست ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایمن الظواہری کس کا ایجنٹ ہے؟ اور کیا بات درست نہيں ہے کہ القاعدہ اور تمام تکفیری تنظیمیں ـ جو اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے اسلام کا خوبصورت چہرہ مخدوش کررہی ہیں ـ سی آئی اور موساد کی ایجنٹ نہیں ہیں؟ ادھر عراقی نیوز ویب سائٹ "عراق القانون" نے ایک عراقی سیکورٹی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ القاعدہ کی عراقی شاخ "داعش" کے متعد دہشت گرد عورتوں کے بھیس میں صوبہ الانبار سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ اپنی داڑھی مونچ منڈواتے ہیں اور آرائش و زیبائش کرکے عورتوں کے لباس میں ملبوس ہو کر بھاگے جاتے ہیں اور کئی افراد اسی حالت میں گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ عراقی اہلکار کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے عورتوں کا لباس فراہم کرنے کے لئے شہر میں خواتین کا لباس بیچنے والی دکانوں کو لوٹ لیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

الفرار بعد الجہاد بالتنکر بزی النساء جائز

اس سے قبل عراق میں القاعدہ کے ایک دہشت گرد کو اس حلئے میں پکڑا گیا دیکھئے:

اس سے بھی پہلے القاعدہ کا ایک "مجاہد" اس حلئے میں کار بم دھماکہ کرنے جارہا تھا کہ عراقی فورسز نے اس کو پکڑ لیا:

کربلا میں دھماکہ کرنے کے لئے عورتوں کے لباس میں ملبوس "مجاہد" گرفتار:

نقشبندیہ نامی "مجاہد" گروہ کا ایک "مجاہد" بغداد میں گرفتار:

شام میں "مجاہد" کو "جہاد کا حلیہ عطا کرنے والا ورکشاپ، مجاہد کو تیار کیا جارہا ہے:

سب سے مشہور "شہادت" کے سندیسے وصول کرنے والے برقعہ پوش مجاہد جو کسی تعارف کے محتاج نہیں:

اور یہ قصہ کافی پرانا ہے ۔۔۔