31 اکتوبر 2013 - 20:30
امریکی اعتراف: شام مخالف گروپوں میں شدید اختلافات

دمشق میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ انھوں نے شام کے مسئلے کے پرامن حل کے لئے حکومت مخالف گروپوں کے ساتھ رابطے کئے ہیں لیکن اعتدال پسند اور شدت پسند گروپوں میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "رابرٹ فورڈ" نے امریکی کانگریس میں شام کے مسئلے کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس میں کہا کہ اکتوبر کے مہینے میں وہ امریکہ اور مشرق وسطی کے درمیان مسلسل سفر کرتے رہے ہیں تا کہ شام کے اعتدال پسند مخالفین کو سیاسی راہ حل پر گامزن ہونے کے لئے آمادہ کرسکیں لیکن شام کی حکومت اور مخالفین اس بحران کو حل کرنے کے لئے کسی مشترکہ نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہیں اسی وجہ سے امریکہ نے روس اور اقوام متحدہ کے ساتھ شام کے مسئلے کے لئے کوئی راہ حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا: گیارہ ممالک نے لندن میں ایک اجلاس میں جنیوا 1 کانفرنس کے مشترکہ بیان کی تائید کی ہے اور ان ممالک نے روس اور امریکہ کے ساتھ بھی اس موضوع پر اتفاق کرلیا ہے کہ جنیوا کانفرنس 2 شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان مفاہمت کی بنیاد پر ایک عبوری حکومت کی تشکیل پر منتج ہونی چاہئے۔ امریکی سفیر نے کہا: شام میں سیاسی راہ حل پر اتفاق پایا جاتا ہے اور شامی باشندوں نیز شام کی حکومت اور مخالفین کے بیرونی حامیوں کی اکثریت بھی اسی روش کی حمایت کرتی ہے۔  فورد نے کہا: امریکیوں نے مذکورہ ممالک کے ساتھ مفاہمت کرلی ہے کہ حکومت شام کے مخالفین کو بعض جزئی مسائل پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ تمام مخالفین بشار اسد کی حکومت کو تسلیم کریں؛ چنانچہ مخالفین کو مذاکرات میں قابل قبول روشیں پیش کرنی چاہئیں۔  انھوں نے کہا: وہ تمام لوگ جو شام کے نظام حکومت کی حمایت کرتے ہیں ممکن ہے کہ بشار اسد کو نہ چاہیں اور وہ کسی معقول متبادل کی تلاش میں ہوں جو مخالفین کے نزدیک بھی قابل قبول ہو تا ہم شدت پسند اور اعتدال پسندوں کے درمیان شدید ترین اختلافات کی وجہ سے معقول متبادل تلاش کرنا بہت دشوار ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

شام میں دہشت گردوں کے لئے اسلحہ اسمگلنگ کا پرامن راستہ "ترکی"