اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ریف دمشق میں واقع وادی بردی کی طرف جانے والے تمام دشوار گذار راستوں کا کنٹرول شامی افواج نے سنبھال لیا ہے اور سعودی و ترکی کے حمایت یافتہ گروپ جبہۃالنصرہ نیز غیر ملکی سلفیوں کے کئی گروپوں کا محاصرہ کرلیا گیا ہے۔وادی بری طویل عرصے سے النصرہ اور اس کے ذیلی گروپوں کا ٹھکانہ سمجھی جاتی ہے اور گوکہ اس وادی کا کنٹرول شامی فوج نے بہت عرصہ پہلے سنبھال لیا تھا لیکن دہشت گرد ٹولے ایک بار پھر "قدسیا البلد"، "الہامہ" اور "وادی بردی البلد" میں اپنے ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوچکے تھے جس کے بعد اس علاقے کے مکینوں نے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کئے اور دہشت گردوں اور فوج کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی لیکن دہشت گرد ہتھیار ڈال کر خود کو فوج کے حوالے کرنے سے انکاری تھے جس کےبعد فوج کے پاس عسکری مداخلت کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ ایک فوجی ذریعے نے کہا کہ فوج نے اس علاقے کا محاصرہ مکمل کرلیا ہے اور دہشت گردوں کے لئے رسد کے تمام راستے بند کئے گئے ہیں اور اس علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کے لئے صرف چند دنوں کی ضرورت ہے اور چند روز قبل فوج کی گولہ باری کا نشانہ بننے والے علاقے "الہامہ" سے حملہ ہو تو فوج کا کام مزید آسان ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس علاقے میں تین ہزار دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں جن میں اکثریت جبہۃالنصرہ کے دہشت گردوں کی ہے اور یہاں غیر ملکی سلفی دہشت گرد ـ جو مہاجرین کہلواتے ہیں ـ بھی موجود ہیں۔ یہاں دہشت گردوں کی تعداد "معربا" کی گذرگاہ پر فوج کے کنٹرول کی وجہ سے، نہیں بڑھ سکی ہے۔فوجی ذریعے کے مطابق یہ ایک دشوار گذار علاقہ ہے اور اسی علاقے سے غوطہ کے علاقے تک ہتھیاروں کی سمگلنگ ہوتی تھی جب اب ان کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ہم نے دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا لیکن یہ موقع انھوں نے ضائع کیا اور اس وقت فوج کے سامنے کاروائی کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ عوام کی موجودگی ہے جن کے ہوتے ہوئے فوج مسلسل اور شدید کاروائی نہیں کرسکتی لہذا وادی کے اندر کاروائی کے آغاز کے وقت کا تعین ابھی نہیں ہوسکا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭
شامی فضائیہ کے اڈے میں دھماکے کا اسرائیلی دعوی
امریکی اعتراف: شام مخالف گروپوں میں شدید اختلافات
کربلائےمعلی کو ہم نشانہ بنایا تھا/ محرم الحرام میں لبنان اور عراق کےلئےسعودیوں کا مذموم منصوبہ
شام میں دہشت گردوں کے لئے اسلحہ اسمگلنگ کا پرامن راستہ "ترکی"
شام: 3000 دہشت گرد فوج کے گھیرے میں
عراق بم دھماکوں میں ۴۵ افراد جانبحق اور زخمی
امریکی اعتراف: شام مخالف گروپوں میں شدید اختلافات