اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی پارلیمان "دوما" کی خارجہ تعلقات کمیشن کے سربراہ آلیکسی بوشکوف نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں پر عالمی نگرانی کے منصوبے کے ابہامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تجویز اور شام کے خیرمقدم کا مفہوم اس بات کا اعتراف نہیں ہے کہ شام کے پاس کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں بلکہ صدر اوباما شام کے خلاف کاروائی کے سلسلے میں حیرانگی اور پریشانی کا شکار تھے اور ہم نے تجویز پیش کرکے انہیں اس کیفیت سے نجات دلائی اور شام نے ہماری تجویز مان کر مزید تباہی اور خونریزی کا سد باب کیا۔ انھوں نے کہا: اوباما نے کہا تھا کہ کیمیاوی ہتھیار کا استعمال شام میں امریکہ کے لئے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر شام اس لکیر کو پار کرے تو ممکن ہے کہ اس کو امریکہ کی طرف سے عسکری اقدامات کا سامنا کرنا پڑے اور امریکہ نے بہرحال حملے کی تیاری بھی کردی جبکہ روس نے شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کی نگرانی کی تجویز پیش کرکے اوباما کو موقع فراہم کیا کہ وہ جنگ سے دوری کرے کیونکہ اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے اور یہ جنگ اس کی حیثیت اور اعتبار کو نقصان پہنچائے گی۔ بوشکوف نے زور دے کر کہا کہ کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوای نگرانی کے لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے نگرانوں کا وفد ان علاقوں میں موجود رہیں جہاں ان ہتھیاروں کی موجودگی کا امکان پایا جاتا ہے اور یوں کوئی بھی ان علاقوں پر حملہ نہیں کرے گا۔ انھوں نے بحیرہ روم میں روس کی بحری یونٹوں کی موجودگی کے بارے ميں کہا: ہماری عسکری موجودگی سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم شام کے مسئلے کے لئے غیر معمولی اہمیت کے قائل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شام پر امریکی حملہ نہ ہونے کا سب سے بڑا ہارنے والا ابوالفتنہ بندر بن سلطان آل سعود
شام پر حملے کے منصوبے میں امریکہ تذبذب کا شکار کیوں؟
جان کیری کے موقف میں تبدیلی، اوباما نے اپنی بات واپس لےلی
علاقائی اور بین الاقوامی رد عمل/ پانچ سو میزائلوں کا رخ تل ابیب کی جانب
المختار آرمی: امریکیوں کے خلاف لڑنے کے لئے 23 ہزار استشہادی تیار
علاقائی اور بین الاقوامی رد عمل/ پانچ سو میزائلوں کا رخ تل ابیب کی جانب