ابنا: سابق سینیٹر اور معروف عالم دین علامہ سید جواد ہادی نے کہا ہے کہ دہشتگرد ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہے ہیں، ہم ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ حکومت دہشتگردوں کیخلاف فوری طور پر کارروائی کا آغاز کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر طوری بنگش سپریم کونسل کے صدر حاجی گلاب حسین، جامعہ شہید عارف حسین الحسینی کے خطیب علامہ عابد حسین شاکری، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ڈویژنل صدر اقتدار علی شایان اور یوتھ آف پارا چنار کے چیئرمین سید علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علامہ ڈاکٹر سید جواد ہادی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں شہداء کے ورثاء نعشوں کو سڑکوں پر رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں صرف شیعہ ہی نشانہ نہیں بن رہے بلکہ مختلف مکاتب فکر کے پیروکار شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ کسی کی جان محفوظ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کا استحکام اور ترقی چاہتے ہیں، ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ مک میں شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ صرف ایک دہشتگرد گروہ ملک میں حالات خراب کر رہا ہے، جبکہ حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ حکومت کو فوری طور پر دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 جنوری کو پشاور میں ڈاکٹر سید ریاض حسین شاہ کے بیہمانہ قتل سے ملک بھر میں باالعموم اور کرم ایجنسی میں باالخصوص شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہید ڈاکٹر کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے پہلے شخص نہیں جن کے خون سے پشاور شہر رنگین ہوا بلکہ اس سے پہلے حاجی گلاب طوری، امجد علی طوری، علی اکبر طوری، ریحان بنگش، شرافت بنگش، ڈاکٹر جمال اور ابرار حسین طوری کو بھی اِسی شہر میں قتل کیا گیا، لیکن قابل افسوس اور صوبائی حکومت کیلئے شرمناک بات یہ ہے کہ تاحال کسی کے قاتل کا پتہ نہیں چلا، نتیجتاً دہشتگرد بِلا خوف کارروائی کرکے فرار ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیرستان تک دہشتگردوں کا پیچھا کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہے لیکن اسکے اپنے صوبائی دارالحکومت میں دن دیہاڑے نعشیں گِرانے والوں پر اس کی کوئی نظر نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور سیکورٹی اِدارے بخوبی جانتے ہیں کہ فرقہ ورایت کے نام پر قتل و غارت کے ذمہ دار کون ہیں اور ایک ایک واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت اور دیگر اِدارے اِن عناصر کو کھلی چھٹی دینے میں ملوث ہیں۔ علامہ ڈاکٹر سید جواد ہادی نے مزید کہا کہ ہم کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کے قتل کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ہم کسی صورت مزید جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں اہلِ تشیع کی نسل کشی جاری ہے اور ایک بار پھر بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اپنے کٹھ پتلی اور بے اختیار ہونے کا اعتراف کر لیا ہے، لیکن روزانہ گرنے والی نعشوں سے صوبائی حکومت کی کرسی تک نہیں ہلتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی دن میں سو سے زیادہ افراد کو شہید کرنے والوں نے بلاخوف ذمہ داری قبول کرلی لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اہل تشیع کے قتل عام میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ صوبائی حکومت ڈاکٹر سید ریاض حسین شاہ کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر بالخصوص پشاور میں مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں قتل کئے جانے والے کرم ایجنسی کے تمام افراد کے قتل کی تحقیقات کرکے ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔ ملک بھر بالخصوص کوئٹہ، گلگت اور کراچی میں شیعہ نسل کشی بند کی جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
