22 دسمبر 2012 - 20:30

اخوان المسلمین کا یہ سفاک دہشت گرد عسکری بازو شام میں سب سے زيادہ طاقتور عسکری گروپ ہے جو حکومت شام کے خلاف انتہائی وحشیانہ اور خونی کھیل کھیل رہا ہے؛ اخوان کا کہنا ہے کہ یہ گروپ القاعدہ سے وابستہ ہے اور امریکہ نے بھی اس کو ایک دہشت گرد ٹولے کا نام دے کر اس کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم سے جان چھڑانے کی کوشش کررہا ہے اور یوں امریکہ اور اخوان کے درمیان مکمل ہمآہنگی پائی جاتی ہے اور اخوان نے جھوٹ کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جبہۃالنصرہ ایک مسلح اور منظم گروپ ہے جو شام میں با اثر قرار دیا جاتا ہے اور شمالی علاقوں سے لے کر لبنان کی سرحد تک اس کے دہشت گرد سفاکیاں کررہے ہیں۔ اس گروہ کے پاس وسائل کی فراوانی اور ہتھیاروں کی کثرت نیز مالی اور عسکری وسائل کی بہتات ہے اور عسکری تربیت کے حوالے سے بھی دوسرے دہشت گرد گروپوں سے کہیں آگے ہے۔ جبہۃالنصرہ کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں اور یہ ایک سوال ہے کہ کیا یہ گروہ واقعی القاعدہ سے وابستہ ہے ـ جس طرح کہ اخوان المسلمین کہتی ہے؟ ـ جبکہ القاعدہ کی اعلانیہ مدد نہيں کی جاتی جبکہ جبہۃالنصرہ وسیع مالی اور عسکری امداد مختلف ممالک سے لے رہا ہے اور اس کی کمانڈ مغربی افسروں کے ہاتھ میں ہے اور اس کے وسیع وسائل اور روابط نیز امداد کی آزادانہ وصولی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ایمن الظواہری نے الجزیرہ ٹی وی چینل پر نشر ہونےوالے بیان میں کہا ہے کہ جبہۃالنصرہ کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے چنانچہ اب بھی جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ یہ القاعدہ سے وابستہ گروہ ہے تو جبہۃالنصرہ کو قریب سے جاننے والے اس دعوے پر ہنسے بغیر نہيں رہ سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت شام اور اسرائیل مخالف محاذ مزاحمت کے خلاف لڑنے والے گروہ جبہۃالنصرہ کو شام کی جماعت اخوان المسلمین نے تشکیل دیا ہے اور یہ دہشت گرد گروہ ترکی میں تعینات عسکری کونسل کے سربراہ فاروق طیفور  کے توسط سے تشکیل پایا ہے اور طیفور جو بظاہر اخوان کے نائب سرپرست ہیں درحقیقت جماعت اخوان المسلمین کے موجودہ عملی قائد ہیں کیونکہ اس جماعت کے اصل قائد "محمد ریاق الشفقۃ" سیاسی سمجھ بوجھ اور قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے بہت زيادہ کمزور ہیں چنانچہ جبہۃالنصرہ کے جنگجو استانبول میں طیفور کے دفتر اور انٹرنیشنل روم سے رابطہ کرتے ہیں اور ہدایات وہیں سے لیتے ہیں۔ فرانسیسی ہفت روزہ اوکانارد آنچینیہ (Okanard Oncinih) لکھتا ہے کہ طیفور کا استنبول دفتر امریکی، فرانسیسی، ترک اور قطری فوجی افسروں سے تشکیل پایا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اخوان المسلمین جبہۃالنصرہ کو القاعدہ سے منسوب کرکے تین اہم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے:1. جماعت اخوان المسلمین نے حکومت شام کے حامیوں کے قتل عام کا فیصلہ دو مقاصد کے حصول کے لئے کیا ہے: 1۔ گذشتہ عشروں کا بدلہ لینا اور 2۔ ان شہروں اور دیہاتوں پر اخوان کا تسلط مضبوط کرنا جن پر دہشت گرد تنظیمیں قبضہ کرتی ہیں۔2. اخوان المسلمین جانتی ہے کہ موجودہ مرحلے میں جبہۃالنصرہ کو القاعدہ سے منسوب کرنے سے اس گروہ کے سفاکانہ جرائم کی ذمہ داری جماعت کے کندھوں سے اٹھ جائے گی کیونکہ یہ جماعت ـ بشار الاسد کی حکومت گرانے میں کامیابی کی صورت میں شام پر حکومت کرنے کے سپنے دیکھ رہی ہے چنانچہ اگر وہ جبہۃالنصرہ کو القاعدہ سے جوڑنے میں کامیاب ہوجائے تو خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اس گروہ کے ہاتھوں عوام اور حکومت کے حامیوں کے قتل عام کی ذمہ داری اپنے دوش سے اتارنے میں بھی کامیاب ہوجائے گی۔

3۔ اخوان المسلمین کے مخالفین اور سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شام اپنے جنگی قواعد میں تبدیلی کرتی ہے تو جبہۃالنصرہ بھی اپنا موجودہ نام تبدیل کرے گا اور دوسرے کسی نام سے، خونخواری کے موجودہ سلسلے کو جاری رکھے گا کیونکہ موجودہ نام جنگ کے اس مرحلے میں جماعت اخوان المسلمین کے مقاصد کی خدمت کے لئے منتخب کیا گیا ہے اور دوسرے مراحل میں دوسرے ناموں سے یہی خدمات انجام دیتا رہے گا۔امریکہ نے بھی حال ہی میں جبہۃالنصرہ کا نام دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکیوں کا ایک مقصد یہ تھا کہ اخوان المسلمین اور اس سے وابستہ حلقے اس امریکی فیصلے پر تنقید کرکے اپنی اصلیت فاش کردیں چنانچہ سب نے دیکھا کہ ایک طرف سے نام نہاد قومی کونسل کے "عیسائی سربراہ" جارج صبرا، مخالف اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب اور جماعت اخوان کے کئی راہنماؤں نے اس امریکی فیصلے پر شدید احتجاج کیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس امریکی فیصلے کا ایک پس پردہ مقصد بھی تھا اور یہ کہ یہ فیصلہ اخوان المسلمین کو دہشت گردی سے بری الذمہ قرار دینے کے لئے تھا جو اخوان المسلمین اور امریکہ کے درمیان خفیہ ڈیل کا نتیجہ تھا کیونکہ اخوان المسلمین اس ملک میں حکومت کرنے کے چکر میں ہے اور وہ بدنام نہیں ہونا چاہتا لیکن گویا یہ مسئلہ بھی اخوان کو "پاک کرنے" کے لئے کافی نہیں ہے۔ایک اور رائے یہ ہے کہ اخوان المسلمین نے غزہ پر صہیونی حملے سے قبل امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا کہ وہ اس جنگ کے دوران غیرجانبدار رہے گی اور اپنے تاریخی منشور اور حکمت عملی سے و نصب العین کو فراموشی کے سپرد کرے گی۔ لیکن عالمی جماعت اخوان المسلمین کی تمام شاخوں نے قطر اور ترکی کے توسط سے منعقدہ اس معاہدےکی پابندی نہ کی جس میں امریکہ نے اخوان المسلمین سے کہا تھا کہ وہ جہاد اسلامی تنظیم کو ایرانی میزائل "فجر 5" اسرائیلی اہداف کی طرف فائر کرنے سے باز رکھے؛ اخوان المسلمین نے حماس کو ـ جو عالمی اخوان المسلمین کی رکن جماعت ہے ـ ہدایت کی تھی کہ جہاد اسلامی کو میزائل فائر کرنے سے باز رکھے لیکن نہ صرف حماس جہاد اسلامی کو اس اقدام سے نہ روک سکی بلکہ اس کے اپنے عسکری شعبے نے بھی فجر میزائل استعمال کئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حماس کا عسکری شعبہ سیاسی شعبے کے سیاسی کھیل میں شریک ہونے کے لئے تیار نہیں ہے چنانچہ اسرائیل کی شکست اور فجر میزائل کی مؤثر کارکردگی کی ذمہ داری، اپنی تاریخ اور پروگرام کو اقتدار کی خاطر قربان کرکے عالمی استعمار کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی جماعت اخوان المسلمین پر آ پڑی۔ادھر مصر کے صدر محمد مرسی نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مصر بھی غزہ پر صہیونی حملے کے دوران کیمپ ڈیویڈ معاہدے کا پابند اور غیرجانبدار رہے گا لیکن وہ وہ بھی عوام کے جذبات سے مجبور ہوئے اور انھوں نے وقتی طور پر اپنا سفیر تل ابیب سے واپس بلایا اور ان کا یہ اقدام امریکی غیظ و غضب کا سبب بنا۔ رجب طیب اردوگان ـ جو عرب دنیا میں انقلابات کو لگام دینے کے امریکی مشن کو آگے بڑھا رہے ہيں ـ کے سفیر نے بھی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جبر نے بھی مرسی کو "زیادہ تیزی دکھانے سے روکنے" کی کوشش کی تھی لیکن مرسی عوامی دباؤ کی وجہ سے مجبور تھے اور پھر ان کو غزہ کی جنگ سے ایک اندرونی فائدہ اٹھانے کی سوجھی تھی چنانچہ جنگ غزہ کے خاتمے کے فورا بعد انھوں نے مصر کے اندر "آئینی اعلامیہ" جاری کرکے مصر کے نظام حکومت پر مسلط ہونے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مخالفین غضبناک ہوئے اور انقلاب کے دو سال بعد قاہرہ کا میدان التحریر ایک بار پھر مظاہرین کے قبضے میں چلا گیا۔ امریکہ بھی اس بحران میں کود پڑا اور مصری فوج کے ذریعے مرسی پر اپنا دباؤ بڑھایا اور مرسی کے مخالفین کو حمایت کا یقین دلاکر میدان میں اتارا اور دوسری طرف سے عالمی جماعت اخوان المسلمین پر بھی اس نے اپنا دباؤ "جبہۃالنصرہ" کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرکے، بڑھایا تا کہ ثابت ہوسکے کہ شام میں تمام تر قتل و غارت کے پیچھے جماعت اخوان المسلمین کا ہاتھ ہے۔ادھر امریکہ نے اردن کے بادشاہ کو اشتعال دلایا کہ وہ عالم عرب پر اخوان المسلمین کے تسلط کے منصوبے کی مذمت کرکے ترک وزیر اعظم طیب اردوگان کے جام غضب کو چھلکا دیں چنانچہ اردن کے بادشاہ نے اخوان المسلمین کے خلاف ایک بیان جاری کیا جو در حقیقت اردوگان کے لئے اس پیغام کا حامل تھا کہ امریکہ صرف اور صرف ان کو مذکورہ بالا معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110