28 نومبر 2012 - 20:30

جزیرہ نمائے عرب کے جمہوریت و انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نے کہا: سعودی بادشاہ مہلک بیماری میں مبتلا ہیں جبکہ ولیعہد کی صحت بھی نامناسب ہے چنانچہ اس وقت سعودی حکومت کی صورت حال کے بارے میں کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جزیرہ نمائے عرب کے جمہوریت و انسانی حقوق مرکز کے ڈائریکٹر "علی الیامی" نے آج (جمعرات 29 نومبر 2012) العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی صورت حال کو ناگفتہ بہ ہے، ملک عبداللہ بستر مرگ میں پڑے ہوئے ہیں اور ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز کی جسمانی صورت حال بھی نامناسب ہے، ملک مکمل طور پر غیرمطمئن اور درہم برہم ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ کس طرح کی صورت حال پیش آسکتی ہے۔ انھوں نے آسٹریا میں سعودی حکومت سے وابستہ دینی گفتگو مرکز میں ایک یہودی رابی کی سعودی بادشاہ کے مشیر کی حیثیت سے تعیناتی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ایسے حال میں کہ بلادالحرمین میں شیعہ اور اسماعیلی مسلمانوں کے شدید ترین سعودی امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آل سعود کے اس مخالف سیاستدان و قانوندان نے کہا: ادیان کے درمیان بات چیت مرکز  اہلکار آل سعود کی طرف سے مذہبی اور دینی اقلیتوں کے ساتھ آل سعود کے امتیازی سلوک کی طرف اشارہ ہی نہیں کرتے؛ بہتر یہ ہے کہ وہ ابتداء میں سعودی معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندوں سے بات چیت کریں اور اس کے بعد ادیان کے پیروکاروں کے کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کریں۔واضح رہے کہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنے زير انتظام ادیان کے درمیان گفتگو مرکز کے ویانا کے شعبے میں ایک صہیونی رابی "دیویڈ شلومو روزن" کو اپنا مشیر مقرر کیا ہے اور یہودی ریاست کے عہدیداروں اور ذرائع ابلاغ نے عبداللہ عبدالعزیز کے اس اقدام کو سراہا ہے۔دریں اثناء بلادالحرمین کے مختلف شہروں میں جمہوریت اور بنیادی حقوق کے حصول اور سیاسی آزادیوں نیز سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آل سعود کے اذیتکدوں میں سیاسی قیدیوں کی تعداد 30ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110