اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے عید سعید فطر کے موقع پر ملاقات کے لئے آنے والے ایران کے سینئر حکام اور اسلامی ممالک کے سفراء نیز عوام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حساس، اہم اور فیصلہ کن حالات میں مسلمانوں کے لئے ہوشیاری، حالات و واقعات کی حقیقت جاننے اور استکباری محاذ کی انتہائی پیچیدہ سازشوں سے آگہی، کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا: دنیائے اسلام کا بنیادی اور اصلی مسئلہ قدس شریف اور فلسطینِ مظلوم کا مسئلہ ہے جو اسلامی بیداری کی تحریک کی وجہ سے ابھر کر نمایاں ہوچکا ہے اور تمام مسلم حکومتوں اور اقوام اور سیاسی و ثقافتی مفکرین دشمن کی طرف سے ـ امت اسلامی کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کرکے ـ مسلمانوں کے اس بنیادی مسئلے کو چھپانے اور جھوٹ کو سچ کرکے جتانے کی سازش سے ہوشیار رہیں۔ خطاب کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسماللّهالرّحمنالرّحیم
مبارکباد عرض کرتا ہوں اس عظیم عید (عید فطر) کے سلسلے میں آپ حاضرین محترم، عزیز مہمانوں، اسلامی ممالک کے سفراء اور ایران کی عظیم اور مؤمن ملت نیز پوری دنیا میں تمام اسلامی ممالک میں پوری مسلم امہ کو۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان مواقع کا قدردان ہونا چاہئے۔ خداوند متعال نے عید سعید فطر کو امت اسلام اور پیغمبرعظیم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے عزت و ذُخر (اثاثہ) اور شرف و وقار اور کرامت قرار دیا ہے؛ "و لمحمّد صلّى اللّه علیه و ءاله ذخراً و شرفاًو کرامةً و مزیداً". (1) (اور یہ عید) امت اسلامی اور پیغمبر عظیم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے عزت و شرف میں اضافے کا سبب ہے۔ اب یہ ہم مسلمانوں پر منحصر ہے کہ ہم ان کیفیات اور ان مواقع اور ان مناسبتوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں۔ مسلمانان عالم عید رمضان اور عید فطر کو عزت و عظمت کا وسیلہ اور معنوی و مادی ارتقاء اور دنیا و آخرت کی عزت و عظمت کی چوٹیاں سر کرنے کے لئے سیڑھی قرار دیں۔ ہمیں بیدار ہونا اور رہنا چاہئے ہمیں ان مواقع اور ان مناسبتوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔ مسلم ملتیں عشروں تک دنیا کے مستکبرین کے زیر تسلط تھے۔ دنیا کی مستکبر قوتوں کے درمیان رونما ہونے والی بین الاقوامی جنگیں یورپ سے شروع ہوئیں؛ دنیا کی استعماری قوتیں آپس میں لڑ پڑیں لیکن انھوں نے مسلم اقوام اور اس علاقے کی ملتوں کو ان جنگوں کے منفی نتائج اور ان سے پیدا ہونے والی مشکلات میں الجھا دیا اور ان ہی جنگوں کے تسلسل میں میں ہی خطرناک اور مہلک صہیونی زائدہ (Appendage) ہماے حساس علاقے میں، اسلامی ممالک کے درمیان اور عالم اسلام کے قلب میں، معرض وجود میں آیا۔ ان جنگوں کے تسلسل میں ہی ناقص عمارت اور عیب دار ہندسے (جیومیٹری) پر مبنی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل معرض وجود میں آئی اور ویٹوپاور کی حامل قوتیں ظہور پذیر ہوئیں۔ یعنی وہی خون ہاتھ اور چنگل جنہوں نے ان ہلاکت خیز جنگوں کے اسباب فراہم کئے تھے، ان جنگوں کے بعد دنیا کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے ـ اور اس حساس، نعمتوں سے سرشار علاقے ـ جو دنیائے اسلام کے اتحاد کا ممکنہ مرکز بن سکتا تھا ـ کا انتظام سنبھالنے کے لئے سرگرم ہوگئے؛ اور وہ یہ کام کر بھی گذرے۔ ہم غافل تھے؛ مسلم اقوام خواب غفلت میں مگن تھیں؛ ان پر یلغار کی گئی؛ ان کے مقدرات کو عظیم اور پیچیدہ مسائل اور مشکلات میں خلط ملط کیا گیا جن میں وہ آج بھی الجھے ہوئے ہیں۔ ہم غفلت کا شکار ہوئے۔ اسلامی ممالک کے سربراہ ایک زمانے میں غفلت کے مرتکب ہوئے اور طاقتوں کے کھیل سے دھوکا کھا گئے۔ آج محسوس ہوتا ہے، دیکھا جاتا ہے کہ غفلت کا یہ پردہ علاقے کے ممالک اور مسلم اقوام کے اذہان سے ہٹ رہا ہے، اس کو غنیمت سمجھ لینا چاہئے۔ ہمارا حساس علاقہ، شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا ـ جس کو یورپیوں نے اپنی مرضی سے مشرق وسطی کا نام دیا اور دنیا قلب اور حساس مرکز ہے ـ آج اسلامی بیداری کی برکت سے، اس علاقے کے مقدرات اور مستقبل کا تعین کررہا ہے۔ ہمیں اس موقع اور اس صورت حال کو پہچان لینا چاہئے اس کا قدردان ہونا چاہئے، اس اہم موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔ قدس شریف اور فلسطینِ مظلوم کا مسئلہ مشرق وسطی کے مسائل کے مرکز میں واقع ہوا ہے۔ ہمارا حساس علاقے کے بہت سے مسائل اسی سرطانی صہیونی پھوڑے کی وجہ سے ہیں جس کو بڑی طاقتوں کے خون آلود ہاتھ، پوری قوت صرف کرکے بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اعلانیہ کہتے ہیں، دنیا کی دوسری مسلط قوتیں برملا کہہ دیتے ہیں کہ انھوں نے اپنی قسمت کو صہیونی ریاست کی قسمت سے جوڑ رکھا ہے۔ یہ ان کے نقصان میں ہے۔آج مسئلۂ فلسطین، اسلامی بیداری کی برکت سے، ایک بار پھر دنیائے اسلام کے اصلی اور بنیادی مسئلے میں تبدیل ہوچکا ہے؛ آپ کو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ اس مسئلے کی یہ نمایاں اہمیت اور امتیازی حیثیت ضائع ہوجائے اور امت اسلامی دشمنوں کی سازشوں اور ہتھکنڈوں کے بوجھ تلے دب جائے۔ مسئلۂ فلسطین ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اقوام فلسطین کے مسئلے میں اپنی حکومتوں کو ان کے موقف کی روشنی میں جانچتی رہیں۔ تاہم استبداد و استکبار، گھٹن اور جبر نے کبھی بھی اقوام کی خواہشات کو ابھر کر سامنے نہیں آنے دیا۔ اس سال یوم القدس کو علاقے کی اقوام کی ریلیوں میں ـ صہیونیوں کی خواہش کے برعکس ـ اقوام اپنے دل کی بات کہنے میں کامیاب ہوئیں اور انشاء اللہ یہ مسئلہ روز بروز بیشتر اور فعالتر ہوجائے گا۔ البتہ دشمن بے کار نہيں بیٹھتا اور بیکار نہیں بیٹھا ہے؛ دشمن کی سازشیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ اسلامی ممالک کے ذمہ داران، مسلم ممالک کی حکومتیں، مفکرین ـ چاہے وہ سیاسی مفکرین ہوں چاہے ثقافتی مفکرین ہوں، چاہے وہ دانشور ہوں چاہے علمائے دین ہوں ـ کا فرض بنتا ہو کہ حقائق کو اپنی قوموں کے لئے واضح کریں۔ آج پھر بھی انھوں نے اپنا پرانا حربہ آزمانا شروع کیا ہے، جو عرصہ دراز سے مستکبر اور استبدادی قوتوں کے ہاتھوں ملتوں پر غلبہ پانے کے لئے بروئے کار لایا جاتا تھا، اور وہ اختلاف کا حربہ ہے؛ ممالک کے سربراہوں کے درمیان اختلاف، حکومتوں کے درمیان اختلاف، قوموں کے درمیان اختلاف، مختلف بہانوں کی بنیاد پر۔ استکبار کا دائمی اور مسلسل اور مستقل منصوبہ اور طریق کار یہی ہے کہ اختلافات پیدا کرے؛ یا ملتوں کے درمیان قومیتوں اور قوم پرستیوں کو زندہ کرے؛ ان اختلافات کو ابھار دے جو فطری طور پر زبان، نسل، رنگ اور مذہب کے حوالے سے پائے جاتے ہیں۔ استکبار کا کام یہ ہے؛ اس نے ہمیشہ یہی کام کیا ہے۔ پرانی کہاوت ہے کہ "اختلاف ڈالو اور حکومت کرو"، آج بھی (وہ) اسی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ ہمیں ہوش میں آنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے حواس کو مجتمع کرنے کی ضرورت ہے، حکومتوں کو بھی اور قوموں کو بھی۔وہ حقائق کے بر عکس ـ اس علاقے کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے ـ بنیادی چیلنچ اور اصل خطرے ـ یعنی صہیونیت ـ کو چھپانا چاہتے ہیں۔ صہیونیت پورے نوع انسان کے لئے خطرہ ہے۔ آج مغربی حکومتوں کو بھی صہیونی تصرفات اور مداخلتوں کا سامنا ہے؛ وہ بھی طاقت اور دولت کے ان مراکز کی وجہ سے مار کھا رہے ہيں؛ جہاں تک علاقے کے ممالک کا تعلق ہے تو وہ بالکل واضح ہے کہ انہیں صہیونیوں کی وجہ سے کیا کیا مسائل برداشت کرنے پڑے۔ یہ دہشت گردانہ حملے ان کا کام ہے، یہ ملتوں اور اقوام کے درمیان اختلاف ان کا کام ہے، ان کے مختلف النوع وسائل اور اوزاروں کا کام ہے؛ ہمیں ہوش کے ناخن لینے پڑیں گے۔ اس خطرے کو ـ جو کہ علاقے کے لئے اصلی اور بنیادی خطرہ ہے ـ وہ چھپانا چاہتے ہیں اور جو حقیقت نہيں ہے اس کو حقیقت بنا کر پیش کررہے ہیں، ایسیے خطروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں جن کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈال رہے ہیں۔ ہمیں ہوش میں رہنا چاہئے۔ عرب و عجم، شیعہ اور سنی، مختلف مذاہب، بدن اور چہرے کے رنگوں کو ہمارے درمیان اختلاف کا سبب نہيں بننا چاہئے؛ "وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا"، (اور ہم نے تمہیں قومیں اور قبائل قرار دیا تا کہ ایک دوسرے کو پہچان لو) یہ شعبہ شعبہ ہونا، قوم قوم اور قبیلہ قبیلہ ہونا اور یہ نسل نسل ہونا، اختلاف کا سبب نہيں ہے؛ "إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ" (2) (تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی اور خداترس ہو)، محور و معیار کچھ اور ہے (وہ یہ کہ) اسلام پر عمل کرنے میں، برادری اور اخوت قائم کرنے میں، ملتوں کے لئے محنت کرنے میں، بڑی طاقتوں ـ اور ان کے سرغنے امریکہ ـ کے فیصلوں اور ارادوں سے سرتابی اور نافرمانی کرنے میں مسلم اقوام کے درمیان مسابقت کا اہتمام ہو۔ مسلم اقوام کو دیکھنا چاہئے کہ جہاں بھی امریکی اور صہیونی پالیسی اختلاف ڈال رہی ہے، وہ یقین کریں کہ یہ اختلاف مضر ہے، دھوکا نہ کھائیں۔ ہمارے علاقے کے مسائل اور قضایا بہت اہم ہیں؛ قومیں جاگ اٹھی ہیں۔ کئی اسلامی ممالک، کئی مسلم قومیں اسی بیداری کے نتیجے میں اس صورتحال پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوئیں جو استکبار کو پسند تھی۔ قوموں نے مصر، تیونس اور بعض دوسرے ممالک اور علاقوں میں، امریکیوں کی کئی عشروں پرکے دوران کی ہوئي سرمایہ کاری کو باطل کردیا اور اس کو آگ لگا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیا اور نیست و نابود کردیا۔ یہ بیداری ہے، اس کا تحفظ کرنا پڑے گا۔ معیار یہ ہونا چاہئے کہ اسلام کے جانے پہچانے دشمن کہاں ہیں؟ اور جان لینا چاہئے کہ دشمن باطل ہے اور جو نقطہ اس کے مدمقابل ہے وہ حق کا نقطہ ہے؛ یہ معیار ہے اور ہمیں اس معیار کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اور میری رائے کے مطابق سب سے اہم مصداق ملتوں کے اتحاد اور اتفاق کا مسئلہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ملتوں کے درمیان اختلاف ڈالیں اور ہمیں جاننا چاہئے کہ اختلاف باطل ہے۔ آیات قرآنی میں اس سے منع کیا گیا ہے؛ مسلم ملتوں کے درمیان تقرقہ، اختلاف، ایک دوسرے لڑنا جھگڑنا، زہر قاتل ہے اور ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ہم سب کو خدائے متعال سے مدد مانگنی چاہئے۔ ماہ رمضان کا یہ موقع بہت اہم موقع تھا اور امید ہے کہ مسلم اقوام نے ان سے استفادہ کیا ہوگا۔ عید فطر کا موقع بہت عظیم موقع ہے۔ یہ مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں یہ فرصتیں ہاتھ سے نکلتی ہیں "تمرّ مرّ السّحاب" (3) (فرصتوں بادلوں کی مانند گذرجاتی ہیں) چنانچہ ان کے ہر لمحے سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پروردگارا! مسلم اقوام کو ان فرصتوں اور مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما جو تو انہیں عطا فرماتا ہے۔اس مظلوم ملت (مسلمہ) کو یکجہتی اور اسلامی وحدت عطا فرما۔ ہمیں اس راستے میں اپنے فرائض پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔والسّلام علیکم و رحمةاللّه و برکاته
۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:1۔ مفاتیحالجنان، ذکر قنوت نماز عید فطر2۔ سورہ حجرات آیت 13۔3)