15 جون 2012 - 19:30

اناسی سالہ سعودی ولیعہد مئي سے جنيوا ميں زير علاج تھے اور وہیں انتقال کرگئے۔ آل سعود میں اندرونی چپقلشوں کا امکان / 77 سالہ لبرل سلمان بن عبدالعزیز کی ولیعہدی کا امکان؛ سلمان بھی مرض قلب میں مبتلا ہیں / نائف بن عبدالعزيز کي موت پر سعودي اور بحريني عوام ميں خوشياں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودي عرب کے ولي عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزيز کا 79 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔

نائف بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ کل اتوار کو مکہ معظمہ میں نماز عشاء کے بعد ہوگی۔ سعودی حکام کی بڑی عمروں کی بنا پر آل سعود کے حلقوں میں اقتدار کی جنگ میں تیزی آچکی ہے۔ یاد رہے سعودی عرب کے بادشاہ بھی بیمار ہیں۔

آل سعود کے حکام کی بڑی عمروں کے پیش نظر امریکہ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ سعودی حکام کی موت کے نتیجے میں عوامی حکومت کے برسر اقتدار آنے سے واشنگٹن کے مفادات خطرے میں پڑ جائيں گے۔

واضح رہے کہ نائف بن عبدالعزیز دوسرے سعودی ولیعہد ہیں جو بادشاہی تک پہنچنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ان سے پہلے سابق ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز نومبر 2011 میں انتقال کرگئے تھے جن کے انتقال کا اعلان ہونے کے بعد نائف بن عبدالعزيز کو ولیعہد بنایا گیا تھا جو خود بھی بیمار تھے اور کئی بار آپریشن کرواچکے تھے۔ نا‏ئف کو 78 کی عمر میں ولیعہد بنایا گيا تھا جو ولیعہدی کے اس مختصر عرصے میں علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے اور دوسری بار ان کو جنیوا جانا پڑا۔ جہاں وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ نائف بن عبدالعزيز نے اپنی موت سے قبل عراق میں عدم استحکام پیدا کرنے اور بم دھماکوں کانیا سلسلہ شروع کرنے کے احکامات جاری کئے تھے اور اٹھارہ ایرانی ماہی گیروں کو بھی ان کے براہ راست احکامات کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔ جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق وہ پاکستان اور عراق میں اہل تشیع کے قتل عام میں بھی برابر کے شریک تھے اور دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کیا کرتے تھے جبکہ بلادالحرمین میں بھی شیعیان آل محمد (ص) پر عرصہ حیات کرنے، ان کی مسجدیں بند کرانے اور انہیں نماز جماعت سے روکنے کے احکامات بھی نائف ہی نے جاری کئے تھے۔

واضح رہے کہ 1987 میں مکہ معظمہ اور حرم امن میں ایران اور کئی ممالک کے 600 کے لگ بھگ حجاج کرام کا قتل عام بھی ان ہی کے حکم پر ہوا تھا۔

مبصرین بادشاہ اور ولیعہد اور بادشاہت اور ولیعہدی کا عہدہ سنبھالنے کی اہلیت رکھنے والے شہزادوں کے بڑھاپے کو آل سعود خاندان کے زوال کا امکانی سبب قرار دے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق سعودی خاندان نے تقریبا 70 سال سے بلادالحرمین پر اپنا خاندانی نام مسلط کررکھا ہے سعودی خاندان نے تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کی مکمل دولت اپنے نام کرلی ہے لیکن بادشاہ اور ولیعہد کی بیماری اور باقی بھائیوں کے بڑھاپے کی وجہ سے مستقبل قریب میں یہ ملک سیاسی حوالے سے عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے۔

نائف بن عبدالعزیز کو ذیابیطس (Diabetes Mellitus) اور آسٹیوپوروسس (Osteoporosis) نیز جوڑوں کی تکلیف میں مبتلا تھے۔  آسٹیوپوروسس کی بیماری میں انسان کی ہڈیوں کا مغز سوکھ جاتا ہے اور ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں اور معمولی سے غیرمعمولی حرکت سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ نائف بن عبدالعزيز ان سب بیماریوں کے ساتھ خون کے کینسر (Leukemia یا Blood Cancer) کے جان لیوا اور لاعلاج مرض میں بھی مبتلا تھے۔

نائف بن عبدالعزیز نومبر 2011 میں اپنے بھائی اور سابق ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد ولایت عہدی کا عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے لیکن مارچ 2012 میں انہیں "نجی چھٹیاں گذارنے کے لئے" مراکش جانا پڑا جہاں سے وہ خفیہ طور پر امریکی ریاست کلیولینڈ (Cleveland) گئے جہاں انھوں نے پہلے سے طے شدہ ٹیسٹ کرائے۔ یہ رپورٹ ان کی صحت اور سعودی عرب میں ولیعہدی اور بادشاہ کی جانشینی کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سبب بن گئی۔ گوکہ وہ کلیولینڈ سے آئے اور الجزائر میں قیام کرنے کے بعد اپریل 2012 میں سعودی عرب واپس آگئے۔

لیکن انہيں ایک بار پھر 26 مئی کے میڈیکل ٹیسٹوں کی غرض سے ریاض کو ترک کرنا پڑا اور اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے 22 مئی کو ان کے ممکنہ سفر کے بارے میں رپورٹ دی تھی اور لکھا تھا کہ " نائف بن عبدالعزیز کمر اور جوڑوں کی تکلیف کا علاج کروانے کی غرض سے اس بار جنیوا جارہے ہیں"۔ لیکن سعودی میڈیا میں یہ بات راز میں رکھی گئی کہ ٹیسٹوں کے لئے  کس ملک میں پہنچے تھے۔ تین جون کو ان کے سگے بھائی اور وزارت داخلہ کے دور میں ان کے نائب شہزادہ احمد بن عبدالعزیز نے سعودی روزنامے الوطن کو بتایا تھا کہ "نائف کی صحت اچھی ہے اور بہت اچھی حالت میں ہیں اور وہ بہت جلد وطن واپس آرہے ہیں"۔ 13 جون کو عربین بزنس (Arabian Business) نے رپورٹ دی تھی "کہ نائف وطن واپس آئے ہيں اور کچھ دن قبل بعض لوگوں نے ان کے گھر میں ان کی عیادت کی ہے لیکن آج (16 جون کو) سعودی ریاستی ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ ولیعہد نائف بن عبدالعزیز دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ رائٹرز نے رپورٹ دی کہ ان کا جنیوا میں انتقال ہوا ہے اور آل سعود کے شاہی دربار نے کہا کہ وہ اتوار 17 جون کو دفنا دیئے جائیں گے۔ آل سعود سے وابستہ العربیہ ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ ان کی نماز جنازہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی۔

تاریخی حوالہ اور بلاد الحرمین کا نیا نام

عبدالعزیز بن سعود نے 1932 میں حجاز پر قبضہ کیا اور آل سعود کی بادشاہی کی بنیاد رکھی؛ ایک روایت کے مطابق 90 اور دوسری روایت کے مطابق 225 عورتوں سے نکاح کیا ـ جبکہ اسلام میں امت رسول اللہ (ص) کے لئے 4 بیویوں سے زیادہ اختیار کرنا شرعی اعتبار سے ناجائز ہے ـ اور ان کثیر شادیوں سے عبدالعزیز کے 43 بیٹے اور 50 بیٹیاں پیدا ہوئیں اور انھوں نے وصیت کی کہ جب تک ان کے بیٹے زندہ ہيں سلطنت ان کو پوتوں کا حق نہيں ہے چنانچہ اس وقت نائف بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے چھ بھائی بھائی زندہ ہیں جن کی عمریں ستر سال سے اوپر ہیں۔

یہ آل سعود کے دوسرے ولیعہد تھے جو بادشاہ ہونے سے قبل رخصت ہوگئے

ابھی ان کی ولیعہدی کے آٹھ مہینے پورے ہورہے تھے کہ دنیا سے چلے گئے وہ آل سعود کی السدیری شاخ کے سات شہزادوں میں سے ایک تھے اور سابق ولیعہد ـ جو عرصہ دراز سے سرطان کی بیماری میں مبتلا تھے ـ کے زمانے میں ہی ان کی موت یا اپنی ولیعہدی کا انتظار کررہے تھے لیکن ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

نائف بن عبدالعزیز نے اپنے بادشاہ بھائی عبداللہ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی وزارت داخلہ کے زمانے میں بحرین پر چڑھائی کردی، عراق اور شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے تمام امور کی نگرانی ان کے ہاتھ میں تھی اور انہیں ان ممالک میں اپنی پسند کی کٹھ پتلی حکومتوں کے قیام کا ثمر نہيں مل سکا کیونکہ قادر مطلق بہر حال اللہ عز و جل کی ذات با برکات ہے۔

بوڑھے شہزادوں کی موت اور آل سعود میں اقتدار کی جنگ

آٹھ مہینوں کے مختصر عرصے میں آل سعود کے دوسرے ولیعہد کی موت کے بعد خاندان میں اقتدار کے لئے رسہ کشی میں شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

بیرون ملک مقیم سعودی اپوزیشن راہنماؤں نے کہا ہے کہ آل سعود کے اندر بحران کے نئے امکانات واضح ہوئے ہيں اور اقتدار کی جنگ میں شدت آنے کا امکان ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دو ولیعہد مختصر عرصے میں دنیا سے رخصت ہوئے ہوئے ہيں اور آل سعود کے دوسری نسل کے شہزادے ـ جو ولیعہدی کے حقدار سمجھے