10 اپریل 2012 - 19:30

"کانتراس" کے واقعے میں نقصان اٹھانے اور لاپتہ ہونے والوں کے لئے تشکیل یافتہ کمیشن کے کوارڈی نیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ کانتراس کمیشن کے تحقیقات کے مطابق سامپانگ اور مشرقی جاوا کے سرکاری اداروں نے سامپانگ کے مرکز میں رہنے والے شیعیان آل محمد (ص) کے گھروں میں اتشزدگی اور انہیں بے گھر کئےجانے کے سلسلے میں کسی قسم کا کوئی اقدام نہيں کیا ہے جبکہ تشددپسند وہابیوں کی طرف سے شیعہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسند وہابی ٹولے، نے انڈونیشیا کے مادورا جزیرے کے میں بسنے والے پر امن شیعیان اہل بیت (ع) کو، اپنی منطق کے مطابق، قتل کی دھمکیاں دی ہیں اور تشددپسندوں کی دھمکیوں، وہابیوں کے ہاتھوں شیعیان اہل بیت (ع) کے گھروں کو نذر آتش کئے جانے اور حکومتی اداروں کی جانب سے ان کی حمایت کے بعد سمپانگ کے علاقے سے 23 شیعہ باشندوں نے اپنا گھربار چھوڑ کر خانہ بدوشی کی زندگی اختیار کی ہے۔22 انڈونیشی شیعہ باشندے اور شیعہ عالم دین "شیخ تاج الملوک" نے 29 دسمبر 2011 کو اپنے گھروں کے جلائے جانے کے بعد اومین اور سمپانگ کے علاقوں کے دو دیہاتوں "نانگکرنانگ" اور "کرم گایم" میں اپنا گھر بار چھوڑ کر خانہ بدوشی کی زندگی اختیار کی ہے اور باقی شیعہ باشندے ـ جن کو اپنے گھروں میں لوٹنے کی اجازت ملی ہے ـ افسوسناک صورت حال کا سامنا کررہے ہيں اور انہيں دھمکی آمیز پیغامات موصول ہورہے ہیں۔دارالحکومت جکارتہ سے شائع ہونے والے روزنامے "پوسٹ سورا بایا" نے شیخ تاج الملوک کے حوالے سے لکھا ہے کہ: جب میری والدہ اہل خانہ کو دیکھنے کے لئے اپنے گاؤں نانگکرنانگ میں آئیں تو شیعہ مخالف وہابی ٹولے نے انہیں بھی دھمکی دی کہ اگر وہ دوبارہ اس گاؤں میں آجائیں تو باقی شیعہ افراد کے گھروں کو بھی نذر آتش کیا جائے گا اور اس وقت پولیس ہمار خالی گھروں کی حفاظت پر مامور ہوچکی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ بے گھر ہونے والے شیعہ باشندے ت می کند". سورابایا"، "پاسورون" اور "ملنگ" کے علاقوں میں عارضی رہائشگاہوں میں بسائے گئے ہيں اور وہ عوامی امداد پر گذر بسر کررہے ہیں اور ان کے بچوں کے لئے اسکول جانا ممکن نہیں ہے۔ ادھر کنتراس میں وہابی تشدد اور سرکاری بےرخی کا شکارکرنے والوں کے معاملات سلجھانے کے لئے تشکیل پانے والی کمیٹی نے سورابایا میں، سمپانگ میں انڈونیشی شیعیان اہل بیت (ع) پر وہابی ٹولے کے حملوں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جزیرہ نمائے جاوہ کے کے علاقے "سمپانگ میں شیعہ اقلیت کے گھروں کو نذر آتش کیا اور انہیں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا گیا اور یہ عمل امتیازی طرز سلوک ہی سمجھا جات ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک خبر یہ ہے کہ کنتراس کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ سمپانگ اور مشرقی جاوا کے سرکاری اداروں نے مصیبت زدہ عوام کی بہبود کے لئے کوئی اقدام نہيں کیا ہے اور شیعہ مخالف و معاند ٹولے کی طرف سے دھونس دھمکی اور خوف و ہراس پھیلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔کنتراس کمیشن کے کوارڈی نیٹر نے کہا اینڈی عرفان نے کہا ہے کہ مسئلہ بہت زيادہ سنجیدہ اور تشویشناک ہے اور جو بات اس تشویش میں اضافہ کررہی ہے وہ یہ ہے کہ سرکاری ادارے اور اہلکار کسی صورت میں بھی اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہيں کررہے ہیں اور تو اور، کئی سرکاری اہلکار خود بھی تشدد پسندوں کے ساتھ تعاون کررہے ہيں اور خود بھی امتیازی رویوں میں الجھ گئے ہیں۔جناب عرفان کا مدعا عالم دین شیخ تاج الملوک کے ساتھ مشرقی جاوا کی پولیس کا ناجائز برتاؤ تھا جن پر مقدسات کی توہین اور نا زیبا افعال کا الزام لگایا گیا اور ان سے تفتیش کی گئی جبکہ وہ خود معاندین کے حملے کا شکار ہوئے ہیں، ان کے گھر کو نذر آتش کیا گیا ہے اور انہیں دسمبر 2011 میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اینڈی عرفان نے  " متاثرین کی نگران و محافظ ایجنسی (LPSK یا Lembaga Perlindungan Saksi dan Korban = Victims Watch and Protection Agency) نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ متاثرین کی بحالی کے لئے ہونے والی سرکاری کاروائیاں سست رفتاری سے آگے بڑھائی جارہی ہیں تا ہم ہمارا کمیشن اگر ایک طرف سے پولیس کے اقدامات سے راضی نہيں ہے تو وہ LPSK کی کارکردگی سے بھی بری طرح ناراض ہے کیونکہ شیخ تاج الملوک کی رہائشگاہ کی حفاظت کی تجویز پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہے جبکہ اس کے حوالے سے درخواست جنوری میں اس ایجنسی کے سپرد کی گئی تھی، اور تاخیر کی وجہ سے یہ درخواست ناکام ہوگئی ہيں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110