1 اکتوبر 2011 - 20:30

بحرین کے لئے نیا امریکی سفیر اور عرب حکمرانوں کی فکرمندی / بحرینی سیاستدان: دنیا آل خلیفہ کے جرائم پر رد عمل ظاہر کرے / بیروت میں آل خلیفہ کے خلاف قانونی اقدامات کا جائزہ / انتخابات کا عوامی بائیکاٹ آل خلیفہ کے جرائم کا رد عمل / بحرین کی صورت حال سے یورپی یونین کا اظہار تشویش / آل خلیفہ کے انتخابات کے ابتدائی نتائج / سیٹلائٹ چینلوں سے بحرینی انقلابیوں کی درخواست / بحرین کا بحران تشدد سے حل نہیں ہوگا / نبیل رجب: آل خلیفہ کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے / آل خلیفہ کی عدالتوں کے احکامات سے فرانس کی تشویش / زیادتی، ضرب ‌و جرح اور پانچ سال قید "زخمیوں کے مداوا کی پاداش"

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی انقلابی تحریک زور و شور سے جاری ہے اور آل خلیفہ اور اس کے آل سعودی حامیوں کو مسلسل ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے اور اب تو امریکہ بھی آل خلیفہ اور آل سعود کے سات مہینوں کے مظالم سے مایوس نظر آرہا ہے اور اس نے اپنا نیا سفیر بحرین روانہ کردیا ہے جو بحرینی اپوزیشن سے مذاکرات کا خواہاں ہے اسی بنا پر بحرین میں انقلاب کے شعلے بجھانے کی امید لگانے والے عرب حکام کو تشویش لاحق ہوگئی ہے اور اس تشویش کی بنیاد بحرینی عوام کے مطالبات کی منظوری سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ انہیں اپنی فکر لاحق ہوگئی ہے کیونکہ بحرینی انقلاب کی کامیابی کے بعد ان عرب ریاستوں کو بھی تبدیلی اور انقلاب کے سامنے سر خم کرنا پڑے گا۔ کہا جارہا ہے کہ نئے امریکی سفیر کی بحرین میں تعیناتی کے بعد آل سعود کو اپنی جارح افواج کے انخلاء کے بارے میں سوچنا پڑ رہا ہے۔ــ بحرین کے لئے نیا امریکی سفیر اور عرب حکمرانوں کی فکرمندی آل خلیفہ نے آخر کار امریکہ کے مجوزہ سفیر کی بحرین میں تعیناتی سے اتفاق کرلیا اور "تھامس کراجسکی (Thomas Krajeski) بحرین میں تعینات ہوگئے اور عرب ممالک کے ڈکٹیٹرز کو شدید تشویش لاحق ہوگئی ہے کیونکہ لگتا یہی ہے کہ آل خلیفہ حکومت مزید امریکی مفادات کا تحفظ کرنے سے عاجز ہوگئی ہے اور آمروں اور بادشاہوں کو تشویش ہے کہ وہ کہیں عراق میں اپنے دور سفارت جیسا کردار یہاں بھی ادا نہ کرنا چاہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بحرین کی موجودہ صورت حال کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے اور سعودی عرب نے امریکی حکم سے بحرین پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے لیکن آل خلیفہ اور آل سعود مل کر بھی بحران پر قابو نہ پاسکے جب کہ امریکہ نے انہیں یہی مشن سونپا تھا کہ وہ انقلاب بحرین کو کچل دیں اور اب جو وہ ناکام ہوگئے تو امریکہ دوسرے آپشن آزمانے کے درپے ہے۔خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حکام کی تشویش کا سبب یہ ہے کہ کراجسکی 2008 اور 2009 میں عراق میں امریکی نائب سفیر اور شمالی عراق کے معاملات کے نگران تھے اور انھوں نے کردوں کو المالکی کی حمایت پر اکسایا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایاد العلاوی کی حمایت نہ کریں اور انھوں نے امریکہ کو بھی ایاد علاوی کی حمایت کو روکا تھا۔ عرب شیوخ فکرمند ہیں کہ کہیں کراجسکی عراق میں اپنا کردار بحرین میں بھی نہ دہرائیں اور آل خلیفہ خاندان کے مخالفین سے ناطہ نہ جوڑیں اور انہیں بحرین میں اقتدار کی راہ نہ دکھائیں جن کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ کراجسکی 2004 سے 2007 تک یمن میں امریکی سفیر کے عہدے پر فائز تھے اور 2008 سے 2009 تک عراق میں امریکہ کے نائب سفیر اور شمالی عراق کے معاملات کے نگران تھے۔کراجسکی نے نامزد امریکی سفیر کی حیثیت امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بحرینی حکومت کی جانب سے گرفتاریاں اور دباؤ بحران کے حل کے لئے ممکنہ راستوں کے خاتمے کا سبب ہیں؛ میں آل خلیفہ حکومت کو مذاکرات کی ترغیب دلا‎ؤں گا اور میں خود مذاکرات کے عمل کی نگرانی کروں گا"۔ کراجسکی نے یہ بھی کہا ہے کہ "وہ بحرین میں جمہوریت کی حمایت کے سلسلے میں انسانی حقوق کی حامی غیر سرکاری تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کریں گے"۔

ــ بحرینی سیاستدان: دنیا آل خلیفہ کے جرائم پر رد عمل ظاہر کرےقومی ڈموکریٹک سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے عالمی برادری، بین الاقوامی تنظیموں اور دنیا کی غیر سرکاری تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آل خلیفہ کے جرائم پر رد عمل ظاہر کریں اور آل خلیفہ حکومت کے خلاف سنجیدہ موقف کا اظہار کریں۔ فاضل عباس نے اتوار کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکومت نے بحران حل کرنے کے لئے تمام بین الاقوامی تجاویز پر اپنے دروازے بند کرديئے ہیں اور ظالمانہ مقدمے روکنے کے لئے بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی درخواستیں مسترد کررہی ہے اور قیدیوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔  انھوں نے کہا: عوامی تحریک لمحہ بھر بھی نہیں رکی اور پر امن احتجاج بدستور جاری ہے اور وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے اور اگرچہ امریکہ نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے دوہرے معیار اپنائے ہوئے ہیں اور واشنگٹن آل خلیفہ کے مظالم کی حمایت کررہا ہے لیکن نوجوانوں کے حوصلے بلند ہیں اور احتجاج تمام شہری اور دیہی علاقوں میں جاری ہے۔ فاضل عباس نے امریکہ اور برطانیہ سمیت انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویدار ممالک سے مطالبہ کیا کہ کم از کم اپنے سفراء بحرین سے واپس بلاکر عوام پر آل خلیفہ کے جبر و تشدد پر احتجاج کریں۔

ــ بیروت میں آل خلیفہ کے خلاف قانونی اقدامات کا جائزہ بیروت میں بعض بحرینی اور بین الاقوامی راہنماؤں نے ایک سیمینار کے انعقاد کا انتظام کیا ہے جس میں وہ آل خلیفہ کے جرائم سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں اور ان جرائم کے مرتکبین کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے امکانات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ العالم کی ویب نیوز بیس کے مطابق یہ سیمینار اسی ہفتے کے بدھ اور جمعرات کو منعقد ہورہا ہے اور سیمینار کے مہمان خصوصی سابق لبنانی وزیر اعظم سلیم الحص ہونگے اور سیمینار میں بحرینی، لبنانی اور بین الاقوامی قانوندانوں کی خاصی تعداد شرکت کرے گی۔ اس سیمینار میں بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب اور ملت بحرین کی حمایت کی عمومی کانفرنس کے سربراہ احمد الچلبی، بحرین کی انجمن انسانی حقوق کے سربراہ یوسف الربیع سمیت کئی بین الاقوامی قانوندان اور انسانی حقوق کے علمبردار شخصیات شرکت کررہی ہیں۔

ــ انتخابات کا بائیکاٹ آل خلیفہ کے جرائم کا رد عملبحرینی سیاستدان نے خلیفی انتخابات کے پہلے مرحلے کے عمومی بائیکاٹ کے بعد بحرینی عوام کی جانب سے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کے بارے میں کہا کہ یہ آل خلیفہ کے جرائم اور نمائشی مقدمات کا فطری رد عمل تھا۔یاسین الموسوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں عام شہریوں پر مقدمہ چلانے کا عمل ناجائز اور غیر قانونی ہے۔انھوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کو حکومت کے جرائم پر عوام کا فطری رد عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو حکومت عوامی ارادے سے قائم نہ ہوئی ہو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور اس وقت بحرین میں راتوں کو بھی اور دنوں کو بھی وسیع عوامی مظآہرے اور آل خلیفہ حکومت کے خلاف ان کے احتجاج سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے بارے میں عوامی رائے کیا ہے؟۔انھوں نے کہا: بحرین میں شدید گھٹن اور بیرونی اور اندرونی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود عوامی اجتماعات، فیسٹیولز اور جلسے اور جلوس در حقیقت آل خلیفہ حکمرانی کے خلاف عوامی ریفرینڈم ہے اور عوام ببانگ دھل دنیا والوں سے کہہ رہے ہیں کہ آل خلیفہ حکومت ان کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور اس کے اقدامات غلط اور ناجائز ہیں اور وہ اپنے جائز حقوق کے حصول تک اپنا پر امن احتجاج جاری رکھیں گے؛ کیونکہ وہ کٹھن راستوں سے گذر کر یہاں تک پہنچتے ہیں اور اپنے مطالبات سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام کا خیال ہے کہ ان کی کامیابی یقینی اور عنقریب ہے۔ الموسوی نے کہا: بیرونی جارحین کی موجودگی، آل خلیفہ حکومت کے جابرانہ اور غیر انسانی اقدامات، چادر اور چاردیواری کی پامالی، عوام کی ناکہ بندی، مساجد اور حسینیات کے انہدام اور قرآن کو نذر آتش کئے جانے، سرکاری ملازمین کی بیدخلی، فوجی عدالتوں میں نمائشی مقدمات اور عوام کو ظالمانہ سزائیں سنانے جیسے اعمال سے ہرگز آل خلیفہ کے جھوٹی اصلاحات کا پتہ نہیں ملتا اور آل خلیفہ حکومت نے نمائشی انتخابات کے ذریعے بحرینی عوام کا مذاق اڑایا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرینی عوام چار اور چھ اکتوبر کو سڑکوں پر آکر منامہ کا محاصرہ کریں گے۔

ــ بحرین کی صورت حال سے یورپی یونین کا اظہار تشویش یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشتون نے بحرینیوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے خلیفی اقدام پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ: میں بحرین کے عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر اپنی تشویش کا اعلان کرتی ہوں اور یہ بات خاص طور پر ہماری تشویش کا سبب بنی ہے کہ ان عدالتوں میں ڈاکٹروں، اساتذہ، قانوندانوں، انسانی حقوق کے شعبے میں فعال کارکنوں اور سیاستدانوں کو نہایت سنگین سزائيں سنائی گئی ہیں۔ اشتون نے آل خلیفہ حکومت سے کہا ہے کہ ان عدالتوں کی کاروائی فوری طور پر بند کرے، اصلاحات اور مذاکرات کے سلسلے ميں اپنے وعدوں پر عملدرآمد کریں۔انھوں نے کہا: یہ مقدمات عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرکے شفافیت کے ساتھ بحرین کے قوانین کے مطابق سول عدالتوں میں چلائے جانے چاہئیں اور آل خلیفہ حکومت کو اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہئے اور ان ہی قوانین کے ملزموں کو اپیل کا حق ملنا چاہئے اور ان کو سنائی گئی سزاؤں پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔انھوں نے کہا: یورپی یونین بحرین میں مذاکرات کے عمل کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ فوجی عدالتوں میں چلائے گئے مقدمات بحرین میں بحران کو شدیدتر کررہے ہیں۔

ــ آل خلیفہ کے انتخابات کے ابتدائی نتائجآل خلیفہ کے جرائم پر احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن کے اٹھارہ شیعہ اور چار سنی ارکان پارلیمان نے استعفے دیئے اور یوں بحرینی پارلیمان مکمل طور پر تحلیل ہوگئی اور بحرینی آل خلیفہ کی واحد جمہوری علامت بھی رخصت ہوگئی لیکن دنیا کی مجرمانہ خاموشی میں آل خلیفہ خاندان نے اسی پارلیمان کو بحال رکھا اور خالی نشستوں کو پر کرنے کے لئے وسط مدتی انتخابات کرائے جس کو عوام کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا تا ہم بیرونی دنیا کی مجرمانہ خاموشی ایک بار پھر آل خلیفہ کے کام آئی اور اس نے ناکام انتخابات پر ندامت کا اظہار کرنے کی بجائے نتائج کا اعلان بھی کیا۔خلیفی اعلان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کی تاریخ میں پہلی بار دو خواتین سميه الجودر و ابتسام هجرس بھی پارلیمان پہنچ گئی ہیں۔خلیفی وزیر قانون (!؟) نے یہ اعلان کرتے ہوئے انتخابات میں عوام کی شرکت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گوکہ اس سے قبل خلیفیوں نے دعوی کیا تھا کہ 51 ٪ ووٹروں نے شرکت کی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ 82 فیصد عوام نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور بہت سوں نے بائیکاٹ نہ کرتے ہوئے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا چنانچہ 11 فیصد کے قریب ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا جن میں فوجی، سیکورٹی فورسز اور بیرونی شہریت یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ پارلیمان تحلیل ہوگئی ہے اور آل خلیفہ خاندان کو سیاسی اور سلامتی کے بحران کے خاتمے کے لئے مؤثر جمہوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابات کے بعد بحرین میں احتجاج کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے اور بحرینی عوام کہتے ہیں کہ آل خلیفہ خاندان نے ان انتخابات کے ذریعے ان کی توہین کی ہے۔ ــ سیٹلائٹ چینلوں سے بحرینی انقلاب