اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دو دہشت گرد قصائیوں کی طرح، نوعمر سید زادے کے بدن کے ٹکڑے کردیتے ہیں اس کے بعد ان ٹکڑوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے نہایت دل دہلا دینے والا ویڈیو ہے البتہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے یہ تو سنہ اکسٹھ ہجری کو میدان کربلا میں بھی تاریخ نے دیکھا ہے کہ فرزندان نبی (ع) کے بے جان جسموں پر گھوڑے دوڑائے گئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ 11 افراد جنہوں نے یہ جسارت کی تھی نسل اور ماں باپ کے لحاظ سے بھی ناقابل قبول تھی اور ان کے گھوڑے بھی اصل نہیں تھے۔ یہاں بھی پیغمبر اسلام (ص) کا ایک بیٹا یزیدیوں کے جدید پیروکاروں اور جدید دور کے عصر جاہلیت میں پروان چڑھنے والے خونخوار دہشت گردوں کے ہاتھون ان مظالم کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ واقعہ نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ہوگا کیونکہ حق و اہل حق کے خلاف امویت کے پیروکاروں کا بغض اسی وقت تک جاری رہے گا جب تک اہل حق حق کے تحفظ کے لئے ڈٹے رہیں گے۔یاد رہے کہ اس کلپ کا تعلق 2007 سے ہے۔ یہ نوعمر نوجوان جو وہابی درندگی کا شکار ہوگیا ہے ایک اور دوست کے ہمراہ زخمی حالت میں بالش خیل کے علاقے سے دہشت گردوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور ان ہی دنوں ان کی جلی کٹی لاش ابراہیم زئی میں سادات کے خاندان کے حوالے کی گئی۔ اس ویڈیو کا تعلق اسی زمانے سے ہے لیکن حال ہی میں اس کو منظر عام پر لایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ تمام قبائلی ایجنسیوں کی بغاوت کے باوجود کرم ایجنسی کے شیعہ قبائل کی طرف سے ابھی تک بغاوت نہیں ہوئی ہے اور اس علاقے میں فوجی آپریشن کے لئے کوئی جواز موجود نہیں ہے اور حکومت اور ایجنسیاں اس علاقے میں محب وطن پاکستانیوں کے خلاف فوجی آپریشن کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور اس کے لئے لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کا ایجنڈا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 4 سال سے علاقے کے وحشیانہ محاصرے میں مدد دینے والی فوج ـ جو محب وطن پاکستان کے مصائب پر خاموش ہے ـ نے علاقے میں عوام پر مظالم شروع کررکھے ہیں تاکہ لوگوں کو اشتعال دلائیں اور انہیں بغاوت پر اکسائیں لیکن علاقے کے عوام کی ہوشیاری مثال زدنی ہے اور وہ اس بھونڈی سازش کا شکار ہوکر طالبان ملک کے تمام علاقوں حتی کہ جی ایچ کیو، فوجی تنصیبات اور حال ہی میں مہران ائیر ـ نیوی بیس پر طالبان سے شکست کھانے والی فورسز کو علاقے میں فوجی آپریشن کا جواز فراہم نہیں کریں گے۔دوسری طرف سے ان قوتوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں جو علاقے کے شیعہ عوام کو بغاوت کے لئے مشتعل کرنا چاہتے ہیں اور انہیں جاننا چاہئے کہ ان کو شکست دینے والی دہشت گرد قوتوں کو کئی بار اس علاقے کے غیور عوام سے شکست کھانی پڑی ہے اور اس علاقے کے عوام کی بغاوت ہرگز ہرگز ان قوتوں کے فائدے میں نہیں ہوگی۔ گوکہ علاقے کے عوام اب بھی ان جاہلانہ اقدامات کو جاہلانہ سمجھ کر ملک سے وفاداری کے سلسلے اپنے عہد پر استوار ہیں۔اور ہاں! حجر بن عدی، میثم تمار، رُشَید ہجری، قنبر غلام امیرالمؤمنین، اور اسی زمانے سے اس دور تک شہید ہونے والے شیعیان علی (ت) پر ایسی ہی مظالم ہوئے ہیں چنانچہ یہ مظالم بنوامیہ کے دور سے جاری ہیں پیروان محمد و آل محمد (ص) پر. حدیث میں ہے کہ تمہارے لئے تکلیف صرف اسی وقت تک ہے جب تک کہ تم قتل ہوجاتے ہو لیکن اس کے بعد تمہارے دشمنوں کی تکالیف کا آغاز ہوتا ہے اور ان تکالیف اور مصائب کا کبھی خاتمہ نہیں ہوتا۔ قرآن فرماتا ہے: اگر تمہیں زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا۔(آل عمران - 140)یہ نوجوان شہید ہوگئے ہیں ایسے لوگوں کے ہاتھوں جن کا کوئی دین نہیں ہے یقینی بات ہے کہ یہ رسول اللہ اور صحابہ کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ کام تو ابوجہل اور ابولہب کے ہاں بھی مذموم تھا صرف وہابیت کے ماننے والوں کے نزدیک یہ خونخواری اور یہ درندگی شاید مقبول ہو چنانچہ شہیدوں کے وارثوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم جو ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئی بہت جلد مرجائیں گے اور کوئی بھی اللہ کے سوا زندہ نہیں رہے گا لیکن شہید زندہ رہ گئے. شہدا اپنے مقام پر کھڑے ہیں اور زمانہ ہمیں ادھر ادھر لے کر جاتا ہے اور دشمن کی ذلت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ مردہ جسموں پر آل محمد کے ساتھ اپنے بغض کی آگ ٹھنڈی کررہے ہیں یہ ان کی بے بسی ہے یہ طاقت کی علامت نہیں ہے مردہ جسموں پر گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑنا، بلکہ ذلت و رسوائی کی علامت ہے. ہاں اتحاد کی صورت میں شاید ایسے مناظر کم ہی سامنے آئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایک وضاحت:
شیعہ کلنگ۔ گروپ shiakilling.com کے نوجوانوں کی کوششیں قابل قدر ہیں اور اس رپورٹ میں جس سازش کی بات ہوئی ہے اس کا تعلق ان قوتوں سے ہے جو علاقے میں ایک بار پھر خونی ڈرامہ رچانے کی کوششیں کررہے ہیں اور محب وطن عوام کے خلاف فوجی آپریشن کے درپے ہیں۔ بھائیوں کی دل آزاری ہوئی ہے تو ہماری معذرت قبول فرمائیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کی دستاویزات قاتلوں اور دہشت گردوں کی رسوائی کے لئے نشر کرنا بہت ضروری ہے لیکن ہوشیار رہنا چاہئے کہ پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش کامیاب نہ ہونے پائے۔ ویڈیو میں جو درندگی دکھائی گئی ہے اس سے بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھل سکتی ہیں اور برادران کی یہ کوشش قابل فدر ہے۔
ویڈیو دیکھیں CLICK ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانی فوج دہشتگردوں کو شیعیان پاراچنار سے لڑانا چاہتی ہے / اہم اپڈیٹ