ابنا: مجلس وحدت المسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری ،شعبہ جوانان کے مرکزی سیکرٹری علامہ اعجاز حسین بہشتی اور دیگر راہنمائوں نے امام بارگاہ نچاری کوئٹہ میں شہدائے مستونگ کے سوئم کے بعد منعقدہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں بلوچستان کی حکومت اور کوئٹہ کی انتظامیہ کو دہشت گردی کے اس سنگین واقعہ میں برابر کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جمعہ کے روز مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ اگرماضی میں دہشت گردوں کو سزادی جاتی تو مستونگ میں بیس ستمبر کا سانحہ پیش نہ آتا،سانحہ مستونگ میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاری تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے بعد کوئٹہ سے زخمیوں کی مدد کے لیے جب ایک ٹیکسی میں ہمارے کچھ لوگ جا رہے تھے، اخترآباد پولیس چوکی سے چند قدم کے فاصلے پر ان پر فائرنگ ہوئی ہے اور ان میں سے تین افراد وہیں پر شہید ہو گئے۔فائرنگ کے دوسرے واقع کے بعد پاکستانی قوم یہ سوچنے ہر مجبور ہے کہ کہیںایسا تو نہیں کہ ہماری انتظامیہ اور فورسز ان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں یا سب کچھ ان کے علم میں ہے اور ان کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس سے ہمیں زیادہ تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی طرفداری کی انتہاہے کہ گزشتہ سال یوم القدس ریلی کے زخمیوں سمیت 38 افراد کے خلاف بوگس ایف آئی آر درج کی گئی اور ان کو ہراساں کیا جا رہا ہے، لاشیں بھی ہماری گریں، انتظامیہ بھی ہمیں پریشان کرے، ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ یہ حکومت اور انتظامیہ کیوں اس طرح ہمارے ساتھ سلوک کر رہی ہے؟ یہ جانبدارانہ رویہ کیوں ہے؟ یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ کوئٹہ کے دورے سے اس وقت پورے پاکستان بلکہ دنیا میں شیعہ کمیونٹی کے اندر ایک بے چینی پائی جاتی ہے، ایک تشویش ہے، بے چینی ہے لہٰذا وفاقی حکومت اور بالخصوص صوبائی حکومت اپنے جانبدارانہ رویے میں تبدیلی لائے اور شیعہ دشمنی میں اتنا آگے نہ بڑھ کہ خود حکومت کے لیے مسائل کھرے ہو جائیں۔ اس لیے کہ ظلم کی کوئی حد ہوتی ہے ایک فطری تقاضہ ہے انسان کا کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اس کا فطرتاً ری ایکشن بھی ہوتا ہے لہٰذا ہم بروقت متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے یہ دوست پرامن احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں، اتنے بڑے بڑے سانحات ہوئے، اور ایک ایک بلاسٹ میں سو سو کے قریب ہمارے لوگ شہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے لیکن کبھی ان دوستوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، ہمیشہ قانون کے راستہ کو اپنایا ہے، المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں جو پرامن آواز اٹھاتا ہے اس کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی، اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور جس کے ہاتھ میں طاقت ہے، جو دہشت گردی کرتا ہے اس کے سامنے انتظامیہ مذاکرات پر بھی مجبور ہو جاتی ہے۔ ہم حکومت سے جو انکوائری کمیٹی بناتی ہے، جس میں وزیرداخلہ اور دیگر لوگ ہیں، اسے کسی صورت میں بھی تسلیم نہیں کرتے اورمیں اس کا برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ وزیرداخلہ جن کے بارہا ہمارے لوگوں کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں اور بارہا انہوں نے وعدے کیے ہیںہمارے لوگوں کے ساتھ کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گالیکن کوئی وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا، یہ جھوٹے وزیرداخلہ ہیں۔ پاراچنار کے مسئلہ پر ہمیں بارہا یقین دہانی کرائی گئی کہ راستہ محفوظ بنا دیں گے لیکن اتنا عرصہ گزر گیا کوئی راستہ محفوظ نہیں بنایا گیااب یہ انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں وزیر داخلہ ساتھ ہیں اور وہ انتظامیہ کے آفسیر جن کا ہمارے ساتھ جانبدارانہ رو یہ ہے، ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ایسی انکوائری کمیٹی بنائی جائے جس پر ہماری کمیونٹی کو اعتماد ہو اور جو صحیح خطوط پر تحقیق کرے انہوں نے کہا کہ کل ہی کا واقعہ ہے کہ بلوچی سٹریٹ میں ہمارے کچھ ہمارے کچھ جوان موٹرسائیکل پر اپنے کام کے لیے گئے۔ محلے کے لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے تحقیق کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، بعدازاں ہمارے لوگوں سے مذاکرات ہوئے اور انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کھلم کھلا جانبداری، طرفداری اور عدل و انصاف کے حوالے سے جو رویہ ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ یہ سانحہ وزیراعلیٰ کے علاقہ مستونگ میں ہوا، وہاں سے وہ الیکٹ ہوئے ہیں اگر بڑے وڈیرے کے علاقہ میں واقعہ ہو جائے تو اسے سب کچھ پتہ ہوتا ہے، ایک مرغی بھی اگر چوری ہوتی ہے تو اس کو پتہ ہوتا ہے کہ کون چور ہے اور کون ملوث ہے۔ اتنا بڑا سانحہ ہو گیا ہے مستونگ کے علاقہ میں، دیدہ دلیری کے ساتھ دہشت گرد آتے ہیں، گاڑیوں میں مسلح تھے، ان کے ساتھ راکٹ لانچر تھا لیکن کیوں نہیں ان کا سراغ لگایا گیا، اس پر ہمیں تشویش ہے۔ ، و مجلس وحدت مسلمین اس سانحہ پر اور جس طرح سے اس سانحہ کی نوعیت ہے، اس سے پہلے بھی واقعات ہوئے ہیں، یہ ظلم کوئی نیا نہیں ہے،علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ بیسیوں سالوں سے پاکستان میں ہماری ملت کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے لیکن جس انداز سے یہ سانحہ تھا کہ جس میں بس سے اتارا گیا اور لوگوں کو کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیاایسا تو فاٹا میں بھی نہیں ہوتا۔ بلوچستان جہاں صوبائی حکومت ہے، فورسز ہیں، سب کچھ ہے، کچھ ہی فاصلے پر پولیس بیٹھی تھی وہاں پر فورسز موجود تھیں چند کلومیٹر کے فاصلے پر پولیس چوکی ہے لیکن گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہاں سے انتظامیہ آئی ہے اور انہوں نے لوگوں کو سنبھالا ہے، انہوں نے کہا کہ جو بس ڈرائیور اور ا جس کمپنی کی یہ بس تھی، اس کو بھی ضرور شامل تفتیش کیا جائے۔ ۔ ڈرائیور بھی ملوث ہو سکتا ہے، ڈرائیور کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جب بھی بس لے کر جائے یہاں کے سکیورٹی اداروں کو بتائے اور ان کو آگاہ کرے کہ وہ زائرین کو لے کر جا رہا ہے لہٰذا اس حوالے سے ڈرائیور سے متعلق بھی ہماری کمیونٹی میں یہ تشویش پائی جاتی ہے۔ اب تک ہم پرامن احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں، کل بھی مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے کراچی میں احتجاج ہوا۔ ملتان میں احتجاج ہوا، لاہور میں احتجاج ہوا ہے، اسلام آباد، راولپنڈی میں ہوا، مختلف علاقوں میں ہوا اور انشاء اللہ کل نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں گلگت میں بھی اور باقی علاقہ جات میں ہم نے بھرپور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ یہ پرامن احتجاج ہے ایم ڈبلیو ایم کے راہنما نے کہا کہ ہمارے پالیس ساز ادارے شوریٰ عالی کا ہنگامی جلاس دو روز بعد اسلام آباد میں منعقد ہو گا جس میں انشاء اللہ خاص کر کوئٹہ کی صورتحال کے حوالے سے ایک مضبوط لائحہ عمل کا اعلان ہو گا۔ اب ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ پرامن آواز مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہم نے 24 جولائی کو پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ساٹھ ستر ہزار افراد کا اجتماع کیا ہے۔ ہمارے پاس یہ سارے آپشن ہیں۔ ہم پوری قوم کو کال دے سکتے ہیں ، کوئٹہ میں بھی بھی اسلام ّباد کی طرح اجتماع کیا جا سکتا ہے۔ ہم لانگ مارچ کا اعلان بھی کر سکتے ہیں، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں وزیراعلیٰ صاحب آپ کی ذمہ داری ہے آپ بلوچستان کے ایک ذمہ دار منصب پر بیٹھے ہوئے ہیں، حالات کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ انشاء اللہ ہمارا یہ ادارہ جو فیصلہ کرے گا، جو لائحہ عمل دے گا، ہم عنقریب اس کا اعلان کر دیں گے اور انشاء اللہ اس میں یہ سارے آپشن موجود ہوں گے۔ ہم لوگوں کو کوئٹہ کی جانب بلا سکتے ہیں۔ لانگ مارچ ہو سکتا ہے۔ یہ لانگ مارچ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے عظیم قائد سید عارف حسین الحسینی سے بھی ایک آمر اور ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس پر آمر مجبور ہو گیا اور ہمارے اسیروں کو چھوڑ دیا گیا۔ ہم ابھی پرامن راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں، کل بھی نماز جمعہ کے بعد ہمارا پورے ملک میں احتجاج ہے اور ہم حکومتی اداروں کو متوجہ کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں. افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحات ہو گئے، کوئی حکومتی عہدیدار نہیں آیاتعزیت کے لیے۔ یہ دنیا کی رسم ہے کہ جب کسی کے ہاں کوئی فوت ہو جاتا ہے، انسانی ہمدردی کا تقاضہ ہے کہ لوگ اس کے پاس جائیں اظہار ہمدردی کریں لیکن ہم نے اسی اسی جنازے اٹھائے، کوئی حکومتی عہدیدار، کوئی انتظامیہ کا آفیسر ہمارے زخمی دلوں پر مرہم لگانے نہیں آیا، وزیرداخلہ صاحب یہاں کوئٹہ میں آتے ہیں، ایک اور بلاسٹ ہوا ہے اس میں وہ گئے ہیں لیکن چند قدم کے فاصلے پر جہاں ہماری قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں وہاں پر وہ نہیں آتے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک طرح کا جانبدارانہ رویہ ہے اس ملت کے ساتھ۔ جہاں ایک عرصے سے ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور پھر انتظامیہ اور حکومتی عہدیداروں کی اتنی بے حسی اور یہ رویہ قابل مذمت ہے ہم پوچھتے ہیں کہ پندرہ بیس دن انکوائری کمیٹی کو کس لیے دیئے گئے ہیں، اسے رپورٹ پیش کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت کیوں نہیں دیا گیا۔ کیا اتنی مشکل تھی۔ خفیہ ادارے موجود ہیں، پورا سیٹ اپ ہے، ایک سسٹم ہے، فورسز موجود ہیں۔ یہ لوگ واردات کر کے اسی روڈ پر واپس آئے ہیں، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،کس کو نہیں پتا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کہاں پر ہیں، کون لوگ چلا رہے ہیں لیکن غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور خواہ مخواہ لوگوں کو تسلیاں دینے کے لیے ایک نام نہاد کمیٹی بنا دی گئی۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس کمیٹی کا انجام کیا ہونا ہے۔ سب کچھ ختم ہو جانا ہے لہٰذا ہمیں کسی صورت میں یہ انکوائری کمیٹی قبول نہیں۔ حکومت بلوچستان اس مسلئے کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھے۔ ہماری مشکلات کو سمجھے۔ انہیں فی الفور گرفتار کیا جائے اور فی الفور ان قاتلوں کو سزاء دی جائے۔ اخباروں میں آرٹیکل آ رہے کہ 98فی صد دہشت گرد رہا کر دیئے جاتے ہیں۔ جس ملک میں عدلیہ کا نظام ایسا ہو کہ 98فیصد خودکش جیکٹوں میں پکڑے ہوئے لوگ رہا ہو جاتے ہیں تو پھر کیسے امن قائم ہو سکتا ہے لہٰذا یہ ذمہ داری حکومت کی ہے، عدلیہ کی ہے، چیف جسٹس صاحب چھوٹے چھوٹے مسائل پر خود ایکشن لے لیتے ہیں لیکن جہاں ایک ملت کا بے دردی کے ساتھ قتل عام ہو رہا ہے، کوئٹہ میں 98 سے لے کر آج تک سات سو کے قریب لوگ شہید ہوئے ہیں۔ ایک ایک بلاسٹ میں 80 اور 85 جانیں ضائع ہوئیں لیکن ان سانحات پر سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں۔ نواز شریف نے کراچی جا کر عسکری ونگز کے خاتمہ کا مطالبہ کیا، صرف سندھ میں عسکری ونگز نہیں ہیں پورے پاکستان میں عسکری ونگز موجود ہیں۔ پورے پاکستان کی بات کیوں نہیں کی جاتی، کوئٹہ میں نہ عسکری ونگز موجود ہیں، سیاسی پارٹیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس ملک میں امن قائم کرنے کے لیے مفادات کی سیاست نہ کریں۔ اس ملک اور قوم کی ہمدردی کے لیے مفادات کی سیاست سے بالاتر ہو کر خلوص کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ ملک کے چیلنجز کو سمجھیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ، وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی ہم آہنگی کے بغیرزذائرین نہیںجا سکیں گے۔ اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت خود اپنی کمزوری کا اعتراف کر رہی ہے۔کیا اس روٹ کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا، دہشت گردوں کو اگر روکا جائے، انہیں لگام دی جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، زائرین کے لیے مشکلات کھڑی نہ کریں، زائرین نے آنا جانا ہے، ہماری مذہبی عقیدت ہے۔ ایران میں جو مقام
علامہ اصغر عسکری
کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم کے راہنماوں جمعہ کو یوم سوگ منانے کا اعلان
21 ستمبر 2011 - 20:30
News ID: 267293
شہداء کے سوئم کے بعد کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم کے راہنماوں جمعہ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔