19 مئی 2011 - 19:30

آل خلیفی وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایران کے ساتھ بہترین تعلقات کے خواہاں ہے لیکن ساتھ ہی آل خلیفی فوج کے چیف نے کہا ہے کہ چونکہ بحرین کو ایران سے خطرہ ہے اسی لئے بحرین میں سعودی افواج کی تعیناتی جاری رہے گی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین پر مسلط آل خلیفہ خاندان اندرونی چپقلش اور تضادات کا سامنا کررہا ہے چنانچہ اس کے سیاسی موقف میں بھی یکسانیت نہیں پائی جاتی اور یہ عدم ہماہنگی یہاں تک پہنچی ہے کہ آل خلیفہ کے دو سینئر سول اور فوجی حکام نے ایک ہی دن دو مختلف قسم کے موقف پیش کئے ہیں۔واقعہ یوں ہے کہ کل (بدھ کے روز) بحرینی وزیرخارجہ نے ـ جو بظاہر بادشاہ حمد بن عیسی کے قریبیوں میں سے ہیں ـ نے بحرینی روزنامے الوطن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین ایران کے ساتھ بہترین تعلقات کا خواہاں ہے اور ایسے تعلقات کے لئے فضا سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل آل خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے بحرین کی اعلی کونسل برائے اسلامی امور کے اراکین سے ملاقات میں کہا تھا کہ بحرین اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ ایران بحرین کے سیاسی بحرین کو حل کرنے میں مدد کرے۔ ملت بحرین چودہ فروری سے اپنے حقوق کا مطالبہ کررہی ہے اور آل خلیفہ کے استبدادی اور ظالم حکومت کی سرنگونی کے خواہاں ہے جبکہ آل خلیفہ خاندان نے عوامی مظاہروں اور احتجاج کو کچلنے کےلئے آل سعود کی فوجی امداد کے سہارے دسیوں افراد کو شہید اور ہزاروں کوگرفتار کرلیا ہے۔ 100 کے قریب مساجد اور امامبارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات، قبرستانوں نیز سیاستدانوں اور عام شہریوں کے گھروں کو منہدم کردیا ہے اور اسی وقت سے سعودی، اماراتی مداخلت کا جواز اسلامی جمہوریہ ایران پر بحرین کے معاملات میں مداخلت کا الزام لگا لگا کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔حمد بن عیسی نے خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس میں بھی ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن ساتھ ہی خبر آئی تھی کہ وزیر اعظم اور بادشاہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے ہیں اور کئی علاقوں میں ان کے حامیوں کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کئی افراد مارے گئے ہیں۔ ساتھ ہی حمد کی طرف سے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کے اظہار اور مظاہرین کے بعض مطالبات کی منظوری کے اشارے بھی ملے تھے جن میں وزیر اعظم کی برطرفی کا مطالبہ بھی شامل تھا جس پر وزیر اعظم نے سعودیوں کی مدد سے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور  آل سعود کے وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کی برطرفی کے نتیجے میں سعودی عرب مزید فوجیں بحرین میں تعینات کرے گا اور اس ملک پر مکمل طور پر قبضہ کرے گا۔تاہم آل خلیفی وزیر خارجہ نے ایران کی طرف سے عوامی مطالبات کی حمایت کو ایک بار پھر بحرین کے اندرونی معاملات میں ایران کی مداخلت قرار دیا اور آل سعود کی فوجی مداخلت کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں. ادھر آل خلیفہ کی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ آل سعود کی فوجوں کی تعیناتی بحرین میں جاری رہے گی۔انھوں نے کہا کہ بحرین میں خلیج فارس کی ریاستوں کی فوجوں کی تعیناتی حتی ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہے گی جس کا مقصد ـ ان ہی کے بقول ـ ہر قسم کے عوامی احتجاج کو دبانا ہے اور یہ فوجیں مظاہروں کو کچلنے کے لئے موجود رہیں گی۔ قوج کے کمانڈر شیخ خلیفہ بن احمد آل خلیفہ ـ جو بظاہر وزیر خارجہ کے بھائی بھی ہیں ـ نے مزید کہا: بحرین اور ایران کے درمیان تناؤ مین شدت آنے کا امکان بہت زیادہ ہے چنانچہ آل سعود کی فوجیں بحرین مین تعینات رہیں گی۔انھوں نے دھمکی دی کہ بحرین میں حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے تو آل خلیفہ اور آل سعود کی فورسز پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گی اور مظاہروں کو سختی سے کچل دیں گی۔ دریں اثناء بحرینی عوام نے آل خلیفہ کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے انقلابی تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110 

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت