اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ نے بعض ضریحوں اور مقابر کی توہین کے سلسلے میں انجام پانے والے اعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات دین کی حقیقت اور انسانیت سے خارج ہیں۔انھوں نے ضریح امام حسین علیہ السلام کے انہدام کے لئے ایک تشدد پسند عنصر کی آمادگی کے اعلان کو مسترد کیا اور کہا: کہ صالحین کی قبروں کی زیارت کا شرک اور کفر سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر یہ کہ طواف یا زیارت کرنے والے کی نیت صاحب قبر کی پرستش ہو۔
انھوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی ضریح پر حملہ صحیح اسلام کے خلاف خروج اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شرک کے یہ تمام احتمالات اہل علم کو ان کے مسلمہ فرائض کی انجام دہی سے دور کردیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ علم کلام کے تین اصولوں کی پیروی ضروری ہے جو کچھ یوں ہیں: ایک مسلمان جو بھی عمل کرتا ہے ایسی صورتوں پر حمل نہ ہو جو یکتا پرستی اور توحید سے متصادم ہوں اور اس عمل کو کسی صورت میں کفر و شرک پر حمل نہیں کرنا چاہئے یہ ایک عام قاعدہ ہے جو ہر مسلمان کے لئے دیگر مسلمان بھائیوں کے افعال کے بارے میں اپنانا ضروری ہے۔ اور امام مالک نے بھی یہ قاعدہ یوں بیان کیا ہے کہ "اگر مسلمان سے ایسا فعل صادر ہوجائے جس کی 99 صورتیں کفر پر منتج ہوتی ہیں اور ایمان کی صرف ایک صورت باقی ہو تو مسلمان کے لئے چاہئے کہ مسلمان بھائی کے اس فعل کو ایمان پر حمل کرے اور اس کے عمل کو ایمانی عمل قرار دے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ وسیلہ اور شرک میں بہت بڑا فرق ہے۔ وسیلہ وہ ہے جس کا حکم شریعت نے دیا ہے جہاں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّہا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللہ وَابْتَغُوا إِلَيْہ الوَسِيلَةَ وَجَاہدُوا فِي سَبِيلِہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة:35] ("اے ایمان والو خدا سے ڈرو، ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تا کہ رُستگاری پاؤ۔")اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس چیز سے اللہ سبحانہ و تعالی کا تقرب حاصل کیا جائے اور ان مقامات، زمانوں اور اشخاص اور اموال کی تعظیم کی جائے جن کی اللہ تعالی نے خود تعظیم فرمائی ہے اور انسان انبیاء اور صالحین کی محبت سے اللہ تعالی کی قربت حاصل کرتا ہے اور یہ قربت یوں حاصل ہوگی کہ انسان ان اشخاص کی تعظیم کرے جنہیں اللہ تعالی نے عظمت دی ہے اور ان کی تعظیم فرمائی ہے؛ جبکہ شرک سے مراد یہ ہے کہ عبادات کا کچھ حصہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف لوٹا دیا جائے جبکہ وہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کے حضور جائز نہیں ہے؛ حتی اگر کسی عبادت کو اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے ہے غیر اللہ کی جانب لوٹا دیا جائے تو وہ شرک کے زمرے میں آئے گا۔ یعنی شرک یہ ہے کہ کسی کی اس طرح سے تعظیم کی جائے جس طرح کہ خدا کی تعظیم کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا: اگر کہیں بعض معانی اور مفاہیم: جیسے صالحین کی قبور کے نزدیک "توسل اور دعاء" میں اختلاف واقع ہوجائے یا ایسی چیز کے بارے میں کسی مسلمان سے کوئی خطا سرزد ہوجائے جس کو شرعی طور پر وسیلہ قرار نہیں دیا گیا ہے: جیسے قبر کو سجدہ کرنا یا قبر کا طواف کرنا، تو ہمارے لئے اس کو نقل کرنا جائز نہیں ہے یا پھر یہ وسیلے اور شرک و کفر، کے درمیان فرق کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ہم ایسا کرکے درحقیقت امور کو مخلوط کردیتے ہیں اور اللہ کی تعظیم کو اللہ کے برابر کسی اور کی تعظیم قرار دیتے ہیں۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ کسی چیز کے سبب ہونے کے اعتقاد یا اس کے خالق اور بذات خود مؤثر ہونے پر اعتقاد، میں فرق ہے. اس میں بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردوں کو زندہ کرنے کا سبب تھے اور اللہ کے اذن سے اموات کو زندہ کیا کرتے تھے اور اس کے برعکس نصرانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بذات خود مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ پس اگر ہم نے کہیں کسی مسلمان کو دیکھا کہ وہ غیر اللہ سے کچھ طلب کرتا ہے یا مدد مانگتا ہے یا اس سے نفع یا ضرر کی امید یا خوف رکھتا ہے تو ہم سب پر واجب ہے کہ اس کی اس عمل کو سببیت کے عقیدے پر حمل کریں نہ یہ کہ ہم کہتی پھریں کہ اس نے اس غیر اللہ کو بذات خود مؤثر یا خالق و آفریدگار قرار دیا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا کوئی بھی بذات خود اور اللہ کے اذن کے بغیر نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے اور یہ دو چیزیں اللہ تعالی کے اختیارات میں شامل ہیں۔ نیز ایسی مخلوقات ہیں جو اللہ کے اذن سے ہی نفع یا ضرر پہنچا سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110