ابنا: سعودی عرب کے وفاق علماء کے رکن شیخ فوزان صالح نے کہا کہ دہشت گردانہ حملے نہ صرف یہ کہ جہاد نہيں ہیں بلکہ جو اس طرح کے حملے کرتے ہيں وہ شیطان کے پیرو ہيں۔شیخ فوزان نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ جو مسلمان خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے کو ہلاک نہیں کرنا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ آج جو تشدد آمیزکاروائیاں ہورہی ہيں اور جنھیں جہاد کا نام دیا جارہا ہے وہ تخریبی عمل ہے ۔ سعودی عرب کے اس عالم دین نے کہاکہ جہاد کے واجب ہونے کی کچھ شرطیں ہوتی ہيں اور اس کے اپنے احکام اور تقاضے ہوتے ہيں بنابریں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ جہاد نہيں بلکہ تخریبی کاروائی ہے اور لوگوں کا ناحق قتل عام کیا جارہا ہے ۔ سعودی عرب کےعالم دین شیخ فوزان نے اسی طرح مصر کے شہر اسکندریہ کے کلیسا میں ہونےوالے حالیہ دہشت گردانہ بم دھماکے کی بھی مذمت کی اور اسے خیانت قراردیا. واضح رہے کہ دنیا بھر میں زیادہ تر دہشت گردوں کا تعلق سعودی برانڈ آف اسلام سے ہے جس کے بارے میں متعدد بار مختلف علمااور دانشوروں نے گفتگو کی ہے یہاں تک کہ مختلف ممالک میں اس قسم کے برانڈ آف اسلام کی ترویج پر پابندی لگایی گئی ہے۔
بشکریہ از ایم ڈبلیو ایم سپورٹرز ڈاٹ کام
درج ذیل وہ سوالات اور جوابات ہیں جو شیخ صالح بن فوزان یا شیخ الفوزان سے پوچھے گئے ہیں اور انھوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ ان سوالات و جوابات میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ عین متن کا اردو ترجمہ صارفین و قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ ان سوالات و جوابات کا عنوان بھی عین وہی ہے جو ایک عرب ویب سائٹ میں مندرج ہے اور اس کا پتہ بھی متن کے آخر مین درج ہے۔۔۔۔۔۔۔الشيخ صالح الفوزان: اسامہ بن لادن خوارج میں سے ہےسوال: یہ آپ جناب کے لئے کوئی راز نہیں ہے کہ اسامہ بن لادن دنیا میں نوجوانوں کو اکسانے، مشتعل کرنے اور روئے زمین پر فساد پھیلانے میں کیا کردار ادا کررہا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کو خوارج کے زمرے میں شمار کریں جبکہ وہ ہمارے ملک (سعودی عرب) اور دوسرے اسلامی ممالک میں بم دھماکوں کی حمایت بھی کررہا ہے۔ جواب: جس کسی نے بھی اس تفکر کو اپنایا، یا کسی کو یہ فکر اپنانے کی دعوت دی، اور ترغیب دی وہ خارجی ہے اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اس فکر کے حامل شخص کا نام کیا ہے اور وہ کہاں رہتا ہے۔ پس یہ ایک قاعدہ ہے کہ جس شخص نے کسی کو اس فکر کی دعوت دی اس نی درحقیقت حکام اور ولاةِ امور کے خلاف خروج کیا ہے اور مسلمانوں کو کافر قرار دیا ہے اور مسلمانوں کا خون مباح قرار دیا ہے چنانچہ وہ خوارج میں سے ہے۔ .........الشيخ صالح الفوزان اسامہ بن لادن کو خوارج میں سے گردانا: خوارج کے سرغنون سے ہوشیار!سوال: آپ بزرگ علماء کے بورڈ کی جانب سے لوگوں کو بن لادن، الظواہری اور الفقیہ کے خلاف جیسے خوارج کے سرغنوں سے ہوشیار کرنے کی غرض سے یہ فتوے کیوں نہیں دیتے تا کہ اکثر لوگ بالخصوص نوجوان، ان سے دھوکہ نہ کھائیں؟
جواب: ظاہری امر یہ ہے کہ بزرگ علماء کے بورڈ نے متعدد بیانات میں اس قسم کے اعمال اور ان اعمال کو اپنانے والے اشخاص کی مذمت کی ہے اور ان کے ضمن میں ان لوگوں کی بھی مذمت کی گئی ہیں جو ان اعمال کی تدبیر کرتے، اس کے لئے راہ ہموار کرتے اور منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اس فکر میں داخل ہوتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ تدبیر و انتظام و منصوبہ بندی کرنے والوں میں المسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن ہی شامل ہیں۔۔۔۔۔۔اسلامی ممالک میں دھماکے: سوال: کیا اسلامی ممالک میں دھماکے کرنے والے خوارج ہیں؟جواب: ہر صورت میں یہ اعمال روئے زمین پر فساد پھیلانے اور حرث و نسل کے قتل و تباہی، بے گناہ انسانوں کے خلاف جارحیت اور مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ افعال خوارج کے شدید ترین افعال میں سے ہیں۔ خوارج کبھی ایسے اعمال کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں؛ کیونکہ خوارج جنگوں میں مسلمانوں کے آمنے سامنے آتے تھے اور لڑتے لیکن یہ لوگ خیانت کرتے ہیں اور لوگوں کو سوتے میں نشانہ بناتے ہیں جبکہ وہ نہتے ہوتے ہیں اور لوگوں کے مکان مکینون کے ساتھ ہی منہدم کردیتے ہیں۔ کیا یہ خوارج کا فعل ہے؟ نہیں! بلکہ یہ افعال قرامطہ سے بہت ملتے جلتے ہیں جبکہ خوارج اس قسم کے غدر اور خیانت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہین. یہ خوارج کا فعل نہیں ہے۔.........
المسعری، الفقيہ اور اسامة بن لادن نے تصرفات کئے ہیں
سوال: کیا المسعری، الفقیہ اور اسامہ بن لادن ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو جماعت سے الگ ہوئے؟ اور آپ کی رائے ان لوگوں کے بارے میں کیا ہے جو کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں شیخ بن باز نے خاموشی اختیار کی اور اس سلسلے میں ان سے منسوب فتوی جھوٹا ہے اور بہت سے لوگ اس موضوع کو دستاویز بنا کر رائے قائم کرتے ہیں؟جواب: جہاں تک الفقيہ اور أسامة بن لادن اور المسعري کا تعلق ہے تو تم لوگ ان کے افعال اور اقوال کو دیکھ کر ان کے خلاف رائے قائم کرتے ہو، ... ان کے خلاف ان کے افعال اور اقوال کی روشنی میں رائے دیتے ہو ... انہیں جھٹلاؤ نہیں بلکہ ان کے خلاف رائے دو ان تصرفات کی بنا پر جو وہ انجام دے چکے ہیں اور انجام دے رہے ہیں، ان کے خلاف رائے دو اور ان کی مذمت کرو۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ شیخ بن باز کا فتوی اس سلسلے میں جھوٹا تھا تو یہ جھوٹ ہے۔ جھوٹا وہ ہے جس نے کہا ہے کہ شیخ کا فتوی جھوٹا ہے۔ ہم نے خود یہ فتوی شیخ سے سنا تھا اور ان کے فتؤوں میں مندرج ہے اور میں نی یہ فتوی ان کو سنایا جب وہ زندہ تھے اور میں نے ان کے فتاوی ان کی وفات کے بعد دوسرے مشائخ کو بھی سنائے اور سب نے ان فتؤوں کی تصدیق کی۔ اور ہاں جو کہتا ہے کہ یہ فتوی جھوٹا ہے وہ خود جھوٹا ہے۔ ........سرزمین حرمین میں دھماکے کرنے والے خوارج سے بدتر ہیںسوال: جناب شیخ اللہ آپ کو توفیق دے، وہ لوگ جو اس سرزمین (حجاز شریف) میں دھماکے کرتے ہیں، کیا وہ باغیوں اور خوارج میں شمار ہوتے ہیں؟جواب: یہ لوگ خوارج سے بدتر ہیں، خوارج نے ایسے اعمال انجام نہیں دیئے، پس وہ خوارج ہیں اور خوارج سے بڑھ کر ہیں.خوارج لوگوں کے گھروں میں نہیں گھستے اور مکینوں کے اوپر ان کا مکان منہدم نہیں کرتے اور بچوں کو قتل نہیں کرتے اور ہر اس شخص کو قتل نہیں کرتے جو ان کے سامنے آئے۔ یہ افعال قرمطیوں کے سوا کسی نے انجام نہیں دیئے یہ لوگوں قرمطیوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ........دھماکے اور خودکش کاروائیاں کرنے والے منافق ہیںسوال: بم دھماکوں اور خودکش کاروائیوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟جواب: جس مسئلے کے بارے میں آپ ہمیں بتارہے ہیں یعنی وہ لوگ جو دھماکوں، مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور تخریبکاری کی تأئید کرتے ہیں یہ منافقین کا فعل ہے۔ یہ عمل منافقین کا ہے جو العیاذ باللہ مؤمنین کے خلاف موقع تلاش کرتے ہیں اور جب فرصت ملتی ہے تو اشرار اور جرائم پیشہ لوگوں کے ہمراہ ہوجاتے ہیں اور ان کی تأئید کرتے ہیں۔ ........گمراہ ٹولے کے حامی ان ہی کی مانند ہےسوال: بعض لوگ اس گمراہ ٹولے کی حمایت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے حق میں موقف اپناتے ہیں جن سے یہ شرانگیز اعمال صادر ہورہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان گمراہوں کو ان کے اعمال کے بدلے حسنات اور بھلائیاں ملیں گی اور انہیں یاد رکھنا واجب ہے؟جواب: حسنات کیا ہیں؟ کونسے حسنات؟ لوگوں کے گھر ویران کرنا، قتل کرنا اور کرانا، خوف و ہراس پھیلانا، اموال کو نیست و نابود کرنا، مسلمانوں اور اہل ذمہ کو قتل کرنا، کیا یہی ہیں ان کے حسنات؟ ان کے ان اعمال کے لئے کسی قسم کے ظاہری حسنات نہیں ہیں؛ بظاہر ان کے اعمال میں کوئی حسنہ نہیں ہے اور جو لوگ ان کا دفاع کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں ان کا حکم بھی وہی ہے جو اس ٹولے کے افراد کے لئے ہے، ان کا دفاع کرنے والے افراد اللہ کے نزدیک ان ہی کی مانند ہیں اگرچہ یہ لوگ ان کے سانھ مل کر خروج نہ کریں اور ان کے ساتھ دھماکے نہ کریں لیکن جب وہ رائے دیتے ہیں کہ دھماکے کرنے والے حق پر ہیں تو یہ لوگ بھی حکم کے حوالے سے ان کی مانند ہیں پس مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے افراد سے دور رہیں کیونکہ یہ ان ہی میں سے ہیں جبکہ وہ خود نہیں جانتے کیونکہ یہ ان کا دفاع کررہے ہیں یا ان کی توجیہ کرتے اور ان کے اعمال کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ان کے لئے عذر و بہانہ لاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110