ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے کل منگل (25 اگست 2026ع) کو ایک مرحلہ وار فریم ورک پر بحث کی جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک مشترکہ عارضی بحری راہداری کا قیام اور آبنائے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لئے مشترکہ منصوبے پر عملدرآمد کا معاہدہ شامل ہے۔ فریقین نے فیصلہ کیا کہ دو طرفہ تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ مستقل بحری راہداری، آبنائے کے مستقبل کے انتظام، اور معلومات کے تبادلے، ٹریفک کی نگرانی، اور بحری و سیکورٹی خدمات کی فراہمی کے لئے ایک نظام پر اتفاق کیا جا سکے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ایک مضمون میں لکھا کہ "ایران کے خطرے" کے بہانے اور جھوٹ کی بنیاد پر خلیج فارس کا علاقہ فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوجی اڈوں اور ہتھیاروں کی اتنی بڑی مقدار کوئی کارکردگی نہ دکھا سکی۔ / انھوں نے ایران کو 'قابو' کرنے کی نام نہاد پالیسی ترک کرنے اور علاقائی امن کے لئے ایک جامع اور علاقائی شراکتی ترتیب قائم کرنے کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا۔