اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
جمعہ

5 اگست 2022

4:25:13 PM
1280106

فرزند خمینی، عزادار حسینی

شہید قائد شہادت کو روح کی خوراک سمجھتے تھے اور قیادت ملنے کے بعد ایک بڑے پروگرام میں قسم کھا کر فرمایا کہ "واللہ اپنے خون کے آخری قطرے تک، زندگی دین کی خدمت میں گزاروں گا۔

تحریر: وقار حسین ورش

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یہ 25 نومبر 1946ء کی بات ہے، جب صبح کی کرنیں اپنے ساتھ ایک روشن چراغ کی آمد کی خبر دیتی ہیں۔ پاکستان کے شہر پاراچنار کے ایک دور دراز گاؤں پیواڑ میں ایک ایسے پاکیزہ وجود کی آنکھ کھلتی ہے، جس کا نام سید عارف حسین پڑتا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ پاکستان کے دور دراز ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولنے والا یہ بچہ جوانی کو پہنچ کر بڑے بڑے ظالموں کو بے نقاب کرے گا، چاہے وہ رضا شاہ پہلوی جیسا کرسی پرست، مغرب پرست ظالم ہو یا قاتل و آمر، ضیاء الحق جیسا نام نہاد مسلمان ہو۔ شہید قائد اپنی بصیرت، اخلاص و قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے باعث افتخار شخصیت ثابت ہوئے۔

شہید کے کمالات کو بیان کرنے کیلئے حقیر کے دماغ و قلم میں علمی جرات موجود نہیں، البتہ شہید کی دو اہم خصوصیات کا بندہ حقیر عاشق بھی ہے اور متاثر بھی۔ پہلی خصوصیت عشق و محبت خمینی۔ اگر ہم شہید کی زندگی میں امام خمینی سے عشق کی مثال دینا چاہیں تو  بلاشبہ آپ شہید باقر الصدر کے اس قول کی عملی تفسیر تھے کہ "امام خمینی کی ذات میں اس طرح ضم ہو جائیں، جیسے وہ اسلام میں ضم ہوچکے ہیں۔" شہید قائد، امام خمینی کی ذات مبارک میں اپنے آپ کو ضم کرچکے تھے، ایک دفعہ ملتان میں ایک اہم کانفرنس میں آپ نے فرمایا کہ "ہم سب پر فرض ہے کہ امام خمینی کی پیروی کریں، ان کے افکار کو عوام تک پہنچائیں، کیونکہ امام خمینی نے اسلام کے دشمنوں سے ٹکر لے کر ثابت کیا ہے کہ نام نہاد سپر طاقتوں کا وجود بے بنیاد ہے اور اصل حاکمیت خالق حقیقی کی ہے۔"

اسی طرح شہید قائد، امام خمینی کو پیمانہ حق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "عزیز دوستو! امام خمینی اس وقت معیار حق ہیں، لہذا ان کے خط پر چلنا اور اسی پر قائم رہنا ہی درحقیقت حق کا ساتھ دینا ہے۔" یوں شہید قائد امام خمینی سے اظہار عشق ہر پلیٹ فارم اور مناسبت میں کیا کرتے اور عملی میدان میں بھی اپنے تمام امور امام خمینی کی تعلیمات کے مطابق انجام دیتے۔ امام خمینی کا یہ عاشق کبھی حبیب، کبھی جون تو کبھی مسلم بن کر راہ حق پر قائم رہا، یہی وجہ تھی کہ اس عظیم شخصیت کی شہادت پر خود امام خمینی نے فرمایا کہ "میں اپنے حقیقی فرزند سے محروم ہوگیا ہوں۔ میں ملت پاکستان سے تاکید کرتا ہوں کہ شہید عارف حسین الحسینی کے افکار کو زندہ رکھیں۔" اور آج الحمد اللہ شہید قائد ہمارے درمیان زندہ ہیں، شہید کے افکار زندہ ہیں اور ان کے دشمن و عالمی استعمار پاکستان کی سرزمین میں لعنتیں وصول کر رہے ہیں۔

دوسری خصوصیت عاشق شہادت و عزاداری۔ ویسے تو ہمارے آئین میں مذہبی آزادی کا حق ہر فرقے بلکہ غیر مسلموں کو بھی حاصل ہے، لیکن اندرونی و بیرونی دشمن نہیں چاہتا کہ ملک میں عزاداروں کو آزادی حاصل ہو، اس کی وجہ دنیا بھر میں عزاداری سے آنے والے انقلابات ہیں۔ جب تشیع کی شہ رگ حیات "عزاداری سید الشہداء" کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف رکاوٹیں ڈالی گئی۔ ملک کے کئی شہروں میں عزاداری پر منظم حملے ہوئے، فسادات کھڑے کئے گئے، عزاداروں کو گرفتار کیا گیا اور تشیع کی شہ رگ کو متنازعہ بنانے کی کوششیں یہاں تک کہ ریاستی اداروں اور حکومتی ایماء پر کئی رکاوٹیں پیدا کی گئیں، لیکن ہمارا سلام ہو شہید قائد پر، جنہوں نے عزاداری کا بھرپور دفاع کیا۔ عزاداری کے پرچار اور تحفظ کے لیے ملک کے گوشہ و کنار کا دورہ کیا، عزاداروں کو حوصلہ دیا، فسادیوں، دہشتگردوں اور سازش کرنے والوں کو بے نقاب کیا اور ذلت کے مقابل عزت کو ترجیح دی۔

شہید قائد کی عزاداری سے دلی لگاؤ کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے خود فرمایا کہ، "عزاداری سید الشہداء ہماری شہ رگ حیات ہے، جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اسی طرح ہم عزاداری کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔" شہید قائد راہ حسینی کے راہی تھے، تبھی تو مثل حضرت شہزادہ قاسم انہوں نے شہادت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا "شہادت ہمارا ورثہ ہے، جسے ہماری ماؤں نے ہمیں دودھ میں گھول کر پلایا ہے۔" سننے کو تو یہ ایک جملہ ہے، لیکن اللہ اکبر! کس قدر عاشق شہادت تھے فرزند خمینی۔ شہادت کو روح کی خوراک سمجھتے تھے اور قیادت ملنے کے بعد ایک بڑے پروگرام میں قسم کھا کر فرمایا کہ "واللہ اپنے خون کے آخری قطرے تک، زندگی دین کی خدمت میں گزاروں گا۔" شہید شہادت پسند تھے اور انہیں اپنی شہادت پر یقین تھا، یہی وجہ تھی کہ حسین مظلوم کے اس مظلوم بیٹے کو خدا نے مصلے سے اٹھتے ہی اپنے پاس بلا کر شہید کو وہ عظیم رتبہ عطا کیا، جس کے لیے شہید نماز شب میں گریہ و زاری کرتے تھے۔ یوں 5 اگست 1988ء کی صبح یہ عاشق شہادت اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲