اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
جمعہ

5 اگست 2022

4:06:39 PM
1280104

اسلام و انقلاب کے شیدائی اور مظلومین کے مدافع قائد شہید

قائد شہید کے بارے میں کہا گیا کہ یہ تو یاعلی مدد کے بھی منکر ہیں، اس سازش کو پروان چڑھانے کے لئے منبر سے مداریوں کو (میں لفظ ذاکر نہیں کہوں گا) استعمال کیا گیا۔ یہی وجوہات تھیں کہ جب کسی نے حقیقی اسلام محمدی پر عمل پیرا قائدِ شہید سے پوچھا کہ آپ نے اتنے سالوں میں کیا کام کئے ہیں تو قائد شہید نے جواب میں بس اتنا کہا کہ: "خود کو شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔"

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آج 5 اگست 2022ء ہے، آج سے چونتیس سال پہلے 5 اگست 1988ء کو جناب ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے فرزند، قائدِ ملت، فرزندِ زاہراء سلامُ اللّہ علیہا حجۃ الاسلام علامہ سید عارف حسین الحسینی کو ملت تشیع پاکستان نے اُسی مظلومیت کے ساتھ کھو دیا تھا، جس طرح اُمت نے اکسٹھ ہجری میں فرزندِ زاہراء حسین بن علی کو کھو دیا تھا۔ میں نے قائد شہید کو یہ نسبت امام حسین ابن علی سے اس لئے دی ہے کہ اس بار شہید کا یومِ شہادت محرم الحرام میں آیا ہے۔ اس نسبت دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح حسین ابن علی کے بعد اُمت سرگردان و پریشان ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہے، اسی طرح قائدِ شہید کے بعد تشیعُِ پاکستان بھی چونتیس سال سے ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہے۔ گو کہ پیغام حسینی، راہ حسینی موجود ہے، مگر فرزند حسین علیہ السلام جیسا طاغوت شکن، استعمار شکن اور باطل کے لئے دندان شکن راہ کربلا، راہ حق کا مسافر قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی ہماری یادوں میں تو شاید موجود ہیں، مگر افکار و کردار میں نہیں۔

29 اگست 1983ء کو باعمل، صالح، منکسر المزاج، فخر و سرمایہ قوم، قائد ملتِ جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین نے ملتِ تشیعُ پاکستان کو یتیم چھوڑ کر دارِ فانی کی طرف کوچ کیا اور ایک خلا پیدا ہوا۔ 10 فروری 1984ء کو اس خلاء کو پر کیا گیا اور  بھکر کنونشن میں علامہ عارف حسین الحسینی جیسی عظیم ہستی کو ملتِ جعفریہِ پاکستان کا قائد منتخب کر لیا گیا۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا زمانِ حکومت تھا، جو بالخصوص تشیعُ دشمنی اور تکفیریت کا تعفن زدہ دور تھا۔ مفتی جعفر حسین قبلہ کی رحلت اور علامہ عارف الحسینی کے قائد منتخب ہونے کے درمیان وقفہ پانچ ماہ بارہ دنوں پر محیط ہے، اس طویل وقفہ میں جنرل ضیاء الحق نے اپنے تکفیری ذہن اور سازشی صلاحیتوں اور اپنی موجودہ طاقت سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور راولپنڈی کی ایک شخصیت سید حامد علی موسوی مرحوم کو تحریکِ نفاذ فقہِ جعفریہ کا قائدِ بنوا کر ملتِ تشیع میں دراڑ ڈال دی۔ حجۃ الاسلام علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے قائد ملت اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ بننے سے جنرل ضیاء الحق اور اُن کے انہیں جیسے بدخصلت بدعقیدہ رفقاءِ کار کا ملتِ تشیع میں دراڑ ڈالنے کا مزہ کسی حد تک کرکرا ضرور ہوگیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے ایک موقع پر اپنے رفقاء سے گفتگو میں کہا تھا کہ میں نے شیعوں کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ عارف الحسینی کے قائد بننے سے اُسی غبارے میں دوبارہ ہوا بھر گئی تھی۔

قائدِ شہید کیخلاف سازشوں کا آغاز
جہاں رہتی دنیا تک حسین ابن علی کا نام نمائندہِ خدا اور ہمیشہ حق و سچ اور بہادری کے ساتھ لیا جاتا رہے گا اور حق پرست حسین ابن علی اور آپ کے رفقاءِ کار پر درود و سلام بھیجتے رہیں گے، وہیں یزید ابن معاویہ اور اس کے رفقاءِ کار کا نام بھی گماشتہِ شیطان کی پہچان سے رہتی دنیا تک لعنتیں وصول کرتا رہے گا۔ حامد علی موسوی کے ہمکاروں، بے بصیرت صلاح کاروں نے ملت کا مفاد چھوڑ کر اپنے مفادات کی خاطر قائد شہید کے خلاف عقائدی بنیادوں پر ایک تحریک شروع کی، جس میں قائد شہید کے متعلق یہ منفی اور گمراہ کُن پراپیگنڈہ شروع کیا گیا کہ قائد شہید شیعہ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تو وہابی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور شیعت میں وہابیت کی ترویج کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے قائد بنوائے گئے ہیں۔

قائد شہید کے بارے میں کہا گیا کہ یہ تو یاعلی مدد کے بھی منکر ہیں، اس سازش کو پروان چڑھانے کے لئے منبر سے مداریوں کو (میں لفظ ذاکر نہیں کہوں گا) استعمال کیا گیا۔ یہی وجوہات تھیں کہ جب کسی نے حقیقی اسلام محمدی پر عمل پیرا قائدِ شہید سے پوچھا کہ آپ نے اتنے سالوں میں کیا کام کئے ہیں تو قائد شہید نے جواب میں بس اتنا کہا کہ: "خود کو شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔" افسوس صد افسوس۔ اس چند لفظی فقرے میں وہی دکھ اور احتجاج جھلکتا ہے، جو امام علی ابن ابی طالب نے کنویں کے اندر اپنا چہرہ ڈال کر کہا تھا کہ: "اے مینڈکوں آؤ علی کے علم سے استفادہ کر لو۔" (یعنی انسان تو علی کے سینے کے اندر موجود علم لینے کو تیار نہیں تھا، بدبخت، بدقسمت علی کو پہچاننے کے لئے آمادہ نہ تھے)

ممتاز آباد ملتان میں کسی نے کہا کہ قائد محترم یہاں کچھ لوگ آپ کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ آپ علی ولی اللہ اور یاعلی مدد کے مخالف ہیں، اس بات کے جواب میں آپ نے مجمعِ عام میں کہا کہ: "بخدا آپ اورکزئی ایجنسی جائیں اور وہاں لوگوں سے پوچھیں کہ وہاں ہمارا پورا گھرانہ لوٹ لیا گیا تھا، قبر کھود کر میرے جدِ امجد کا سر قلم کیا گیا تھا، اس حالت میں بھی میرے جد امجد نے علی ولی اللہ کا نعرہ بلند کیا تھا تو کیا آپ ہم سے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ ہم علی ولی اللہ یا یاعلی مدد نہ کہیں گے۔؟؟ قائدِ شہید نے پاکستان کی ملت تشیع کے وسیع تر مفاد کے لیے عزم حسینی لئے پوری توانائی کے ساتھ پاکستان کے طول و عرض کے طوفانی دورے کئے۔ ملت کو جھنجھوڑا، بیدار کیا، متحرک کیا اور ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی انتھک کوشش کی۔ قائد شہید نے حامد علی موسوی کو محبت و اتحاد کا پیغام بھجوایا اور پیشکش کی کہ آپ ہی قائدِ ملت بنیں، میں آپ کے نائب کی حیثیت سے کام کرونگا۔ آپ نے بڑے کردار کا مظاہرہ کیا اور حجت تمام کی، لیکن ادھر سے کوئی جواب نہ پا کر آپ بہت رنجیدہ و مایوس ہوئے۔

شہید قائد انتہاء کے دُور اندیش اور فہم و فراست کے حامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ صاحب بصیرت و عمل قائد شہید نے پاکستانی سیاست کے مستقبل میں ملتِ تشیع کے کردار کو ضروری اور تشیع کی بقاء کے لئے لازمی جزو جانا اور ملتِ تشیع کے لئے تحریک کو سیاسی پارٹی کی صورت تبدیل کیا۔ قائدِ شہید پارٹی کو لیکر تحریک کے طور پر سیاسی دھارے میں داخل ہوئے، اتحاد بین المسلین کے داعی بنکر اہلِ تسنن سے اتحاد کو ضروری سمجھا۔ اسی مقصد کے تحت سیاسی جلسوں کا عنوان "قرآن و سنت کانفرنس" رکھا۔ اگرچہ اس نام پر بھی بہت اعتراضات اٹھائے گئے کہ قرآن و سنت کی بجائے قرآن و اہلبیت نام ہونا چاہیئے تھا، لیکن اس عنوان کی مشاورت و تائید میں ڈاکٹر محمد علی شہید، علامہ صفدر نجفی، علامہ ساجد نقوی، مولانا فاضل موسوی اور علامہ محسن علی نجفی اور بہت سے دیگر علماء کرام شامل تھے۔

قرآن و سنت کانفرنس ملک کے طول و عرض میں منعقد کی گئیں۔ ان کانفرنسوں کی معنویت و انقلابیت نے ملت کے اندر سیاسی شعور بیدار کیا، ملت کو گھٹن سے نکالا، تحریک دی اور اپنے حق کو پانے کا راستہ بتلایا۔ ملک میں 1988ء کا سال ایک خاص تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سال تین اہم واقعات رونما ہوئے۔ 10 اپریل کو اہلیانِ راولپنڈی/اسلام آباد نے سانحہ اوجڑی کیمپ دیکھا اور عوامل کا اندازہ کیا، جس میں جڑواں شہروں کا ناقابلِ بیان جانی و مالی ناقابلِ تلافی نقصان بھی ہوا تھا۔ پانچ اگست کو قائدِ شہید کی شہادت کا عظیم سانحہ رونما ہوا۔ یہ عظیم سانحہ صرف پاکستانیوں کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمان جو حقیقی اسلام محمدی کی فکر و احساس ذمہ داری رکھتے ہیں، کے لئے ایک گہرا دکھ اور ناقابل تلافی نقصان تھا اور طاقت کے بل بوتے پر مسلط ہونے والا ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق ٹھیک بارہ دن بعد 17 اگست کے دن  بہاولپور کے قریب ایک طیارے کے حادثہ میں ہلاک ہوگیا۔ ان تینوں واقعات کی خاص مماثلت بیرونی سازش کا حصہ ہے۔

شہید عارف الحسینی منادیِ ولایتِ فقیہ
"میں ولایتِ فقیہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔" انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد رہبرِ کبیر، امامِ حکیم، ولی فقیہ، آیت اللہ العظمیٰ امام خمینیِ بُت شکن نے دنیا بھر میں اپنے نمائندگان مقرر فرمائے، پاکستان میں یہ نمائندگی شہید قائد کو دی گئی، شہید قائد نے ولی فقیہ کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ ولی فقیہ کی زبان سے جب بھی کوئی پیغام، کوئی نصیحت یا کوئی حکم صادر ہوتا تو قائد شہید اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے، جب تک وہ حق نمائندگی ادا کرتے ہوئے پاکستان کے طول و عرض تک پیغام نہ پہنچا دیتے تھے۔ آپ کہتے تھے کہ ہم سب کو اتحاد کیساتھ خط امام خمینی (رہ) پر چلنا ہوگا، کیونکہ امام خمینی (رہ) کفر و استعمار کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

شہید اتحاد بین المسلمین کے سچے داعی تھے اور اتحاد کے لئے شہید کی خدمات بےلوث و گرانقدر ہیں۔ شہید ایک نڈر، بہادر، مبارز عالمِ دین تھے۔ ملتِ تشیعِ پاکستان کو ایسا قائد کبھی نصیب نہیں ہوا۔ شاید ہماری ہی رفتار سست تھی اور ہم اس قابل نہیں ہوسکے تھے کہ ایسے عظیم قائد کی قیادت اور اُس تیزی کو کلی طور پر حمل کرسکتے، جس تیزی سے یہ قائد، ملت کو لے کر چل رہے تھے۔ اپنے پورے یقین و ایمان سے کہتا ہوں کہ اگر شہید قائد کو چند سال اور مل جاتے تو لبنان سے پہلے حزب اللہ جیسی تنظیم پاکستان میں تشکیل پا چکی ہوتی۔ شہید کی یہی وہ خصوصیات ہیں، جنہوں نے شہید کی شہادت کا راستہ آسان کیا۔ امام خمینی (رہ) کہتے ہیں کہ سید عارف حسین الحسینی کی مثال پیشِ نظر رکھنے کے بعد غور کریں کہ ایک مومن کے لئے اس سے بڑی سعادت و بشارت کیا ہوگی کہ وہ محراب عبادت حق سے خون آلود چہرہ لئے خود کو ۔۔۔ ارجعی الی ربک۔۔۔ کی منزل پائے۔پروردگار۔۔۔ ہم کو راہ اہلبیت علیہم السلام پر چلنے کی توفیق دے۔۔آمین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲